میٹھا میٹھا ہپ ہپ۔ کڑوا کڑوا تھو تھو


بجٹ کی آمد آمد ہے حکومت کی جانب سے سالانہ بجٹ کے پیش کیے جانے کا سرکاری ملازمین اور خصوصی طور پر پنشنرز بڑی شدت سے انتظار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کیوں کہ ان کا اس تنخواہ اور پینشن کی مد میں ملنی والی رقم کے علاوہ اور کوئی بھی ذریعہ معاش نہیں ہوتا ان کی آمدنی کا واحد ذریعہ یہی تنخواہ اور پینشن ہے۔ خصوصی طور پر پنشنرز وہ حضرات ہیں جنہوں نے اپنی جوانی کے قیمتی ماہ و سال حکومتی محکموں کی نذر کیے ہوتے ہیں۔ جب یہ ساٹھ سال کی عمر میں ریٹائرڈ ہو کر اپنے گھروں کی جانب لوٹتے ہیں تو ان کے قوی اعصاب جواب دے چکے ہوتے ہیں ان کا جسم لاغر ہو چکا ہوتا ہے۔ ہاتھ پاؤں اور نظریں کمزور ہو چکی ہوتی ہیں۔ قلبی امراض، بلڈ پریشر، شوگر، جوڑوں کا درد اور بہت سی بیماریاں ان کو گھیرے ہوئی ہوتی ہیں بلکہ یوں کہئیے کہ زندگی کے باغ کی آخری کیاری کو پانی لگنا شروع ہو جاتا ہے۔ عمر کے اس حصے میں اب یہ کوئی دوسرا محنت طلب کام کرنے کے قابل نہیں رہ جاتے ہیں۔

مگر افسوس کا مقام ہے کہ حکومت وقت اور حاکم وقت ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کی بجائے ان کے زخموں پر نمک پاشی کرتے ہوئے میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھو تھو کے مصداق پر عمل پیرا نظر آتی ہے۔

آج حکومت وقت اور فنانس ڈویژن کی جانب سے بڑے زور و شور کے ساتھ سوشل اور پرنٹ میڈیا پر یہ خبریں بڑے تسلسل کے ساتھ آ رہی ہیں کہ پے اینڈ پینشن کمیشن کی جانب سے حکومت کو بجھوائی جانے والی سفارشات کی روشنی میں دو سال کی مہنگائی کے حساب سے سالانہ ایوریج نکال کراس کا اسی٪ 80 فیصد پینشن میں اضافہ کیا جائے گا۔

چلیں یہ ہی مان لیا جائے کہ حکومت وقت آج پے اینڈ پینشن کمیٹی کی جانب سے پیش کی جانے والی سفارشات پر عمل درآمد کرنے جا رہی ہے۔ تو حکومت وقت کو یہ بھی بتا دینا چاہیے کہ پی اینڈ پینشن کمیشن کی جانب سے یہ سفارشات کب اور کن حالات میں پیش کی گئی تھیں۔ اگر حکومت وقت حاضر سروس ملازمین اور پنشنرز کے دکھ اور تکالیف کا اتنا ہی احساس اپنے دلوں میں سموئے ہوئے تھی تو اُس وقت جب مہنگائی عروج پر تھی تو اُس وقت فنانس ڈویژن اور حکومت وقت کہاں سوئی ہوئی تھی اُس وقت پے اینڈ پینشن کمیشن کی جانب سے پیش کی جانے والی ان سفارشات پر عمل درآمد کیوں نہیں کیا گیا۔

یہ زمانہ ہے 2018 ء 2019 ء اور 2020 ء جب پی ٹی آئی کی حکومت تھی مہنگائی روزانہ کی بنیاد پر بڑھ رہی تھی جس کی وجہ سے سرکاری ملازمین، پنشنرز اور تمام طبقہ ہائے زندگی اس منہ زور مہنگائی کے ہاتھوں انتہائی پریشانی کے عالم میں کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو چکے تھے۔ جینا دوبھر ہو چکا تھا ایسے میں ملازمین اور پنشنرز کی جانب سے ایک احتجاجی تحریک چلائی گئی اس احتجاجی دباؤ کے پیش نظر پے اینڈ پینشن کمیشن کو بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں نئے سرے سے اپنی سفارشات پیش کرنے کے لیے ایک ٹاسک سونپا گیا تھا تاکہ مہنگائی کے تناسب سے ان کی تنخواؤں اور پینشن میں اضافہ کیا جا سکے۔ اُس وقت سال 2018 ء سے سال 2024 ءمہنگائی٪ 300، ٪ 350 اور سال 2024 ء میں ٪ 250 اور ٪ 200 تک بڑھ چکی تھی۔ ایسے میں پے اینڈ پینشن کمیشن اور ملازمین کی تنظیموں کے درمیان باہمی رضا مندی کے ساتھ یہ معاہدہ طے پایا تھا کہ مہنگائی کے حساب سے دو سال کی ایوریج نکال کر اس کا ٪ 80 پینشن میں اضافہ کیا جائے گا۔ جس کا اطلاق 2020 ء سے ہونا تھا مگر حکومت وقت اور فنانس ڈویژن کی جانب سے اس معاہدہ کو یکسر نظر انداز کیا گیا جس کی مکمل تفصیل درج ذیل ملاحظہ فرمائی جائے۔

پہلے سال 2018 ء مہنگائی کا تناسب٪ 300 میں اضافہ٪ 10 کیا گیا۔
دوسرے سال 2019 ءمہنگائی کا تناسب٪ 350 اضافہ٪ 10 کیا گیا۔
تیسرے سال 2020 ءمہنگائی کا تناسب٪ 250 اضافہ٪ 00 کیا گیا۔
چوتھے سال 2021 ء مہنگائی کا تناسب٪ 200 اضافہ٪ 10 کیا گیا۔
پانچواں سال 2022 ءکمال مہربانی اضافہ٪ 15 (جبکہ سندھ گورنمنٹ کی جانب سے ٪ 05 اضافہ کیا گیا)
چھٹا سال 2023 ء میں ٪ 5۔ 17 اضافہ کیا گیا۔
ساتویں سال 2024 میں ٪ 15 اضافہ کیا گیا۔
یوں ان سات سالوں میں ٹوٹل اضافہ ٪ 5۔ 77 فیصد بنتا ہے اس طرح مرکب اضافہ٪ 83۔ 106 ہوا۔

پے اینڈ پینشن کی جانب سے کی جانے والی سفارش کی روشنی میں مندرجہ بالا دی گئی ترتیب کے مطابق ان سات سالوں میں پینشن میں تقریباً ٪ 106 اضافہ ہوا ہے جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے جیسا کہ اوپر دی گئی تفصیل کے مطابق مہنگائی کی سطع ٪ 300 بنتی ہے یوں ٪ 80 کے حساب سے ٪ 240 ادائیگی بنتی ہے پے اینڈ پینشن کمیٹی کی سفارش کی روشنی میں حکومت وقت اس بات کی پابند تھی کہ وہ پنشنرز کو اس کی ادائیگی کرتی مگر حکومت کی جانب سے پی اینڈ پینشن کمیٹی کی جانب سے بھجوائی گئی سفارشات کو پشِ پشت ڈال کر مکمل طور پر انحراف برتا گیا اس طرح پنشنرز کو کی جانے والی ادائیگی میں ڈنڈی مار کر ان کو ٪ 134 فیصد کے حق سے محروم رکھا گیا اب اسے بدنیتی، نا انصافی اپنے فرائض سے غفلت یا کیا نام دیا جائے۔ چہ جائیکہ حکومت وقت اُس وقت اِن ضعیف العمر پنشنرز، بیواؤں اور یتیموں کی داد رسی کرتی جس وقت یہ مہنگائی کی چکی میں بری طرح پس رہے تھے۔ فاقہ کشی پر مجبور تھے بیمار اپنا علاج بروقت کروانے کے قابل نہیں تھے۔ بڑھتی ہوئی ادویات کی قیمتوں کے سبب ادویات ان کی قوت خرید سے باہر تھیں جس کے سبب سینکڑوں کی تعداد میں یہ ضعیف العمر لوگ بہتر علاج اور بروقت ادویات نا ملنے کی وجہ سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر اپنے پیاروں کے سامنے اپنی جانوں کی بازی ہار گئے۔

آج جب حکومت کے اعداد و شمار اور دعوے کے مطابق مہنگائی میں اضافہ کی شرع رک چکی ہے مہنگائی نا ہونے کے برابر ہے تو حکومت وقت اور فنانس ڈویژن کو پے اینڈ پینشن کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد یاد آنے لگا ہے۔ یہ ان ضعیف العمر پنشنرز، بیواؤں اور یتیم بچوں کے ساتھ نا انصافی نہیں تو اور پھر کیا ہے۔

ایسے میں جب حکومت اس بات کی دعوے دار ہے کہ مہنگائی رک چکی ہے مہنگائی نا ہونے کے برابر ہے مگر زمینی حقائق اسے کے بالکل بر عکس اپنا نقشہ پیش کر رہے ہیں۔ مہنگائی اُسی طرح برقرار ہے روز مرہ کی ضروریات زندگی کی اشیاء میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے گیس، بجلی اور باقی مانندہ یوٹیلٹی بل اُسی طرح آرہے ہیں ذرائع آمد و رفت کے کرایوں میں اسی طرح اضافہ ہو رہا ہے۔ بے پناہ مہنگائی کے اس دور میں ڈاکٹروں کی فیس بھرنا ہی ممکن نہیں رہی ہیں جبکہ ادویہ کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ حکومت آئے روز ادویہ کی قیمتیں بڑھانے کی اجازت دے کر غریب اور مڈل کلاس طبقے کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ پنشنرز تو خطِ غربت سے بھی نیچے زندگی گزار نے پر مجبور ہیں۔ بیماری کی صورت میں یہ حالات سے کیسے نبردآزما ہوتے ہوں گے؟ اس بارے میں آج تک کسی نے سوچا ہی نہیں ہے۔

ہماری حکومتیں یہ سمجھتی ہیں کہ پنشنرز کو ریٹائرمنٹ کے بعد صرف کھانے پینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ان کے کوئی اخراجات نہیں ہوتے اس لیے انہیں بس اتنی ہی رقم چاہیے کہ وہ جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھ سکیں۔ نا صرف یہ سوچ غلط ہے بلکہ پنشنرز کے ساتھ سراسر زیادتی بھی ہے۔ دوسری بڑی زیادتی یہ کی جاتی ہے کہ حاضر سروس ملازمین کی تنخواہ کی نسبت پنشنرز کی پنشن میں بجٹ کے موقع پر نصف شرح سے اضافہ کیا جاتا ہے۔

پنشنرز وہ مظلوم طبقہ ہے جس کا گزارا صرف پنشن پر ہوتا ہے۔ ان پنشنرز کے پاس آمدنی کا دوسرا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا۔ ان کے جسم میں محنت مزدوری کرنے کی سکت نہیں رہ جاتی۔ وہ قلیل پنشن میں متذکرہ بالا حالات سے کس طرح نبرد آزما ہوتے ہوں گے۔ حکومت کی طرف سے پنشنرز کی مشکلات، ضروریات اور پوزیشن کا درست ادراک کیا جانا بہت ضروری ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ پنشنرز کے اس پسے ہوئے طبقے کی اشک شوئی کرتے ہوئے ان کی پنشن میں کم از کم سو فیصد اضافہ کر کے ان بزرگوں کی دعائیں لی جائیں تاکہ زندگی انہیں عذاب نہ لگے اور وہ اپنی جائز ضرورتیں بھی کئی کئی ماہ تک ٹالنے پر مجبور نہ ہوں۔

Facebook Comments HS