جاپان کا تاج محل: نکو شرائن کی چندھیا دینے والی الوہی روشنی کے سامنے (3)


تو شوگو شرائن اور اس کی ملحقہ عمارتیں پہاڑی سلسلہ کے درمیان واقع ہیں۔ یہ پہاڑی سلسلہ نومونٹین کے نام سے مشہور ہے۔ اس لئے ان کو نکو شرائن بھی کہا جاتا ہے۔ یہ عمارات الوہی روشنی میں تاباں اور روشن دکھائی دیتی ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جاپان کے عظیم شوگن آئیاسو نے اس کے جاہ و جلال سے مرعوب ہو کر یہاں دفن ہونے کی خواہش اور درخواست کی تھی۔ آئیاسو جاپان کا ایک عظیم سپہ سالار اور جنگجو تھا۔ جس نے توکو گاواشو گینٹ کی بنیاد رکھی تھی اور جب وہ 75 سال کی عمر میں مرا تو اس کے بیٹے نے اپنے باپ کی آخری خواہش کا احترام کرتے ہوئے اس کو یہاں پر دفن کیا پھر اس کے پوتے توکو گاواشیزوکا نے جو خود بھی یہاں دفن ہے ایک عظم الشان مقبرہ اپنے دادا کے لئے تعمیر کیا۔ شنگرفی رنگ کی یہ عمارت تعمیر و حسن کا ایک بہترین نمونہ ہے۔ اس فیوڈل دور میں اس نے کروڑوں ین اس کی تعمیر پر خرچ کیے اور تزئین کے لیے اس وقت کے عظیم الشان معماروں نے حصہ لیا۔ یہ عمارت چینی طرز تعمیر کا بہترین نمونہ ہے۔ اس میں سونے کا بے تحاشا استعمال کیا گیا۔ اس پر تقریباً دس لاکھ شیٹوں سے زائد سونا استعمال ہوا اور اس وقت کے عظیم کاریگر، معمار اور آرٹسٹوں نے اس مقبرہ کو اپنی محنت شاقہ اور حسن کمال سے عظیم تر بنا دیا۔ اس شرائن کی عمارتوں کی پیچیدہ طرز تعمیر کو اس لگن اور جان جوکھوں میں ڈال کر بنایا گیا کہ یہ صناعی کا شاہکار بن گئیں۔

نکو کا مطلب سورج کی روشنی ہے۔ نکو خود شاندار ہے اور ان کی ہر چیز شاندار ہے۔ چیری، کیوٹو کی ثقافت ماؤنٹ فجی، نکو شرائن جاپان کی پہچان ہیں۔ جاپانی نکو شرائن کی تعریف میں جب جذباتی ہوتے ہیں تو کہتے ہیں کسی چیز کو عظیم الشان نہ کہو جب تک کہ تم نکو شرائن کو نہ دیکھ لو۔ جب آپ نکو شرائن دیکھیں گے تو آپ کو معلوم ہو گا کہ عظیم الشان کسے کہتے ہیں۔ یہاں بھی جتنی عمارتیں ہیں وہ واقعی عظیم الشان ہیں اور غیر معمولی طور پر حسین و جمیل اس عمارت کا حسن بے مثال ہے اور جلال ایسا کہ دیکھتے ہی آپ کے قدم رک جائیں اور آپ گھنٹوں اس کے سحر سے آزاد نہ ہو سکیں۔

نکو شرائن ٹوچی گی Tochigi پری فیکچر میں ہے۔ ایک عرصہ سے ہم یہاں آنے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ بات اتنی تھی کہ جب پانچ چھٹیاں اکٹھی آئیں تو ہم چل پڑیں یا دفتر کی طرف سے ٹور کا بندوبست ہو تو اس غیر معمولی حسن کو بھی دیکھ لیا جائے۔ ہمارے جاپانی ساتھیوں نے بھی اس کی بے پناہ تعریف کی تھی اور جس جاپانی سے بھی کبھی اس موضوع پر بات ہوتی تو وہ جھوم جاتا۔ آخر خدا خدا کر کے دفتر کی طرف سے ٹور کا اعلان ہوا۔ تو ہم خوشی سے پھولے نہ سمائے۔ تین بڑی لیموزین بسیں اس امر کے لیے حاصل کی گئیں۔ ایک میں ہم تمام دوستوں کا گروپ تھا۔ خالصی تھے، مس چن، دادا رحمان، چٹرراج، مسز سمبرانو، پاپالی، کرما، کیودا، اشی جیما اور ہماری نئی ساتھی سیکوسن۔

ایک خوبصورت صبح ہمارا قافلہ نکو شرائن کی طرف روانہ ہوا۔ وہی ہڑبونگ، نعرے بازی، گیت موسیقی۔ ہر آدمی مائیک لیے باری باری اپنی قومی زبان میں گیت گا رہا تھا۔ بس کا خودکار میوزک ہلکی دھنوں میں بج رہا تھا۔ اب سر پہ کام کا بوجھ نہیں تھا۔ نہ کلاس روم نہ ہوم ورک۔ ذہن اس تمام بوجھ سے فری تھا۔ دادا رحمان عمر کے لحاظ سے کئی صدیاں گزار چکا تھا پھر بھی جوان کا جوان۔ لیکن سب سے زیادہ اور پرجوش جوان دکھائی دیتا تھا۔ خاص طور پر جہاں بھی رات گزارنے کا ذکر ہوتا تو وہیں لہلوٹ ہو جاتا کہ ہر طرح کی آزادی ہو گی اور کھل کر جشن منائیں گے۔ عراق کے مسٹر خالصی اور دادا رحمان، یہی تو ہمارے گروپ کی رونق تھے بلکہ پورے انسٹی ٹیوٹ کے روح رواں تھے۔ جب کبھی کوئی حسین خاتون ہمارے انسٹی ٹیوٹ میں آتیں تو مسٹر خالصی تسبیح پھیرنے لگ جاتے اور دادا رحمان خوش ہو کر میرے پاس آ بیٹھتے اور کہتے کہ دادا اللہ مالک ہے۔ میں کہتا کہ دادا تم عمر کے اس حصے میں ہو کہ جہاں آپ اپنا وقت اللہ اللہ ن کر کے گزاریں، عبادت میں مشغول ہوں، شب باشی کریں۔ تو وہ کہتا:

”تھوڑی عبادت کرتا ہوں؟ اسے بھی عبادت سمجھیں۔ کیا یہ عبادت نہیں ہے؟“

میں کہتا: ”دادا! آپ کا تو فرض ہے کہ آپ نوجوانوں کو نصیحت کریں۔ اُلٹا جب بھی دیکھو جوانوں سے زیادہ جوش میں آئے رہتے ہو خاص طور پر جب کوئی پری چہرہ دیکھتے ہو۔“

وہ میرا ہاتھ پکڑ کر ایک طرف لے جاتا اور کہتا دادا دکھی مت کیا کرو۔ تم لوگوں کی عمر اس وقت زیادہ سے زیادہ تیس سال ہو گی۔ ابھی بڑا عرصہ پڑا ہے۔ مجھے دیکھو میرے لیے کوئی مارجن نہیں ہے۔ وقت بہت تھوڑا ہے اور خواہشات بے انت۔ اس لیے مجھے ایسی باتوں سے دکھی نہ کیا کرو۔ اس طرح خالی ہاتھ چلا گیا تو تم ہی بتاؤ میں کس منہ سے اپنے وطن واپس جاؤں گا۔ کتنا سہانا دن طلوع ہوا ہے۔ ہمارے لیے اچھی خواہشات کا اظہار کیا کرو۔ اس نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں بھینچتے ہوئے کہا۔

واقعی صبح خوبصورت تھی۔ سورج بھی کچھ نہ کچھ دکھائی دے رہا تھا۔ اگرچہ کبھی کبھی بادلوں میں چھپ جاتا۔ ہم دعا کر رہے تھے کہ بارش نہ ہو آسمان صاف رہے تو اچھا ہے۔ آتی بہار کی خنک ہوا بھلی معلوم ہو رہی تھی۔ جب بسیں چلیں تو ہماری خوشی کا ٹھکانہ نہ تھا۔ تھوڑی دیر بعد ٹوکیو ختم ہو گیا اور دیہی علاقہ شروع ہوا۔ خوبصورت درخت، لش گرین بیلٹ، جھاڑیاں، کھیت، کسان اپنے چھوٹے چھوٹے ٹریکٹروں پر اپنے کام میں مصروف تھے۔ ایک طرف چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں کا سلسلہ تھا۔ پہاڑیوں کے دامن میں دو منزلہ جاپانی طرز کے لکڑی کے مکانات، اب بانسوں کے جھنڈ آ گئے تھے۔ عورتیں بھی کھیتوں میں کام کر رہی تھیں۔ بانسوں کے درخت ہوا میں جھوم رہے تھے۔ کئی پہاڑیوں پر ابھی برف کی چاندی دکھائی دے رہی تھی اور دور دھندلکے میں صنوبر کا سلسلہ تھا۔ کھیتوں میں شاید دھان کے لیے زمین تیار کی جار ہی تھی۔ چڑیاں جھاڑیوں میں پھدکتی پھرتی تھیں۔ بڑے عرصے بعد چڑیاں دیکھی تھیں۔ ٹوکیو میں شاید ان پر کبھی نظر نہیں پڑی اور نہ ان کا خیال آیا۔ اور جب خیال آیا تو کوشش کے باوجود کوئی پرندہ وہاں دکھائی نہیں دیا۔ بس میں موسیقی اور ہڑبونگ جاری تھی۔ چٹرراج کی فرمائش پر دادا اپنی بے سری آواز میں ٹیگور کا گیت گا رہا تھا اور صرف چٹرراج جھوم رہا تھا۔ دادا جتنا عمر رسیدہ تھا اتنا ہی کھلنڈرا تھا۔ آج اس نے فرل والا اسپیشل لباس پہنا ہوا تھا اور مجھے آ کر بتایا کہ اس نے یہ خاص طور پر سنگاپور سے منگوایا تھا۔ بس میں ساتھ بیٹھی مس لیان شرارت کے موڈ میں تھی اس نے مسکراتے ہوئے دادا کے لباس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تعریفی انداز میں کہا

”یہ لباس کتنا شاندار ہے۔“

اس نے مذاق اڑاتے ہوئے سنجیدگی سے کہا تھا۔ دادا کہاں چوکنے والا تھا۔ اس نے انہی حسینوں کے لیے تو اتنا انتظام کیا ہوا تھا اور اپنے بہنوئی سے سنگاپور سے یہ سوٹ منگوایا تھا اور مسٹر دادا کو کوئی کمپلیکس نہیں تھا اس نے ترنت جواب دیا:

”بی بی! یہ تو شہزادوں کا لباس ہے اور صرف شہزادے ہی پہن سکتے ہیں۔ آپ دیکھ نہیں رہی۔“
دادا پھر گانے لگا۔ میں نے چٹرراج سے کہا:

”خدا کے لیے کسی اور کو بھی موقع دو۔ دادا کو سانس نہ چڑھ جائے۔ زندگی کی آخری سیڑھیوں پر ہے کہیں پاؤں پھسل نہ جائے۔“

خالصی قہقہہ مارکر ہنسا لیکن اب دادا مائک دینے کو تیار نہ تھا۔ دادا نے اپنا گیت مکمل کیا اور ہم نے اوکھے سوکھے دادا کا گیت سنا۔ آخر اس کا دل رکھنا بھی ضروری تھا۔

اب مائیک پاپالی کے پاس تھا۔ وہ انگلش گانا گا رہا تھا اور سب جھوم رہے تھے۔ مسٹر پاپالی بہت موٹا اور بھدا آدمی تھا۔ خشخشی داڑھی رکھی ہوئی تھی۔ جتنا بھدا تھا اتنا ہی خوبصورت انسان تھا۔ مشرق بعید کے جزیرے سے اس کا تعلق تھا اور اب تک جیل اور قیدیوں کی اصلاح کے بارے میں ہونے والے کو رسوں میں کوئی چالیس ملک گھوم پھر چکا تھا اور بے حد ہنس مکھ تھا۔ اپنے بے ہنگم وجود کے باوجود بہت خوبصورت انسان لگتا تھا۔ وہ مائیک اور گٹار سنبھالے گیت گا رہا تھا اور مس چن جھوم رہی تھی۔ بسیں چلتی رہیں آخرکار منزل مقصود پر پہنچ گئیں۔ اسی اثناء میں ہماری بس بلند درختوں کے ایک سلسلے میں سے گزری اور ایک چوک پر آ کر روک دی گئی۔ دوسری بسیں بھی وہیں آ کر رکیں۔ پہلے ہی وہاں کافی گاڑیاں موجود تھیں۔ سڑک کے دوسری طرف ایک ہوٹل تھا۔ سیکوسن نے بتایا کہ اس کا نام کانیانہ ہوٹل ہے۔ جو ابھی تک کانیانہ خاندان کی ملکیت ہے اور انہی کے زیر انتظام چل رہا ہے۔ ایک صدی سے زائد اسی خاندان کے فرد انہی روایات کے ساتھ آج بھی سیاحوں کے لیے چشم براہ رہتے ہیں۔ ان کو دوسرے اہم خاندانوں کی بھی آشیرباد حاصل ہے۔ جب ہم وہاں پہنچے تو کافی لوگ بیٹھے چائے اور کافی سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ بچے ہوٹل سے نکل کر بھاگے پھرتے تھے۔ ہمارے گروپ انچارج مسٹر اکیدا نے مشورہ دیا کہ پہلے صنوبر کے جھنڈ کے سامنے گروپ فوٹو بنوایا جائے اور جو حضرات اپنے طور پر فوٹو گرافی کرنا چاہتے ہیں وہ کر لیں کیونکہ یہ ایک تاریخی اور یادگار مقام ہے۔

یہاں سے مڑ کر بس دائیا دریا کے مچلتے پانیوں کو عبور کرتی ہے اور بائیں طرف مشہور سرخ پل بھی ہے۔ جہاں فیس کی ادائیگی کر کے سیاح پل تک آتے ہیں لیکن اس سے آگے نہیں جا سکتے کیونکہ تین سو سال سے زائد عرصہ سے یہ راستہ صرف شوگن کے لیے مخصوص رہا ہے۔ مسٹر اکیدا اب ہمیں گائیڈ کر رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں فوٹوگرافی سے فارغ ہو کر ہم ہوٹل چلیں گے۔ کچھ دیر بیٹھ کر اپنی منزل کی طرف چل پڑیں گے۔ سیکوسن نے مزید بتایا کہ اس سلسلے میں آج سے تین صدیاں پہلے یہاں انتیس ہزار درخت لگائے گئے اور ان کا سلسلہ چوبیس میل تک پھیلا ہوا ہے۔ جب عظیم شوگن آئیاسو کے نام پر تو شوگو شرائن کی تعمیر شروع ہوئی تو تمام امراء سے کہا گیا کہ وہ اس کی تعمیر میں حصہ لیں۔ لارڈ متو دائرا دوسرے امراء سے غریب تھا اور اس قابل نہیں تھا کہ وہ کوئی قیمتی تحفہ دیتا۔ چنانچہ اس نے درخت لگانے کا کام اپنے ذمہ لیا۔ جس پر بہت کم خرچ آتا تھا۔ لیکن انتیس ہزار درخت لگانے کے کام پہ بیس سال لگ گئے۔ اگرچہ مستودائرا کے دل میں بھی یہ خیال آیا ہو گا کہ جب یہ اشجار بڑے ہوں گے تو ایک دلکش اور دلفریب نظارہ ہو گا۔ لیکن یہ بات اس کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو گی کہ یہ ایونیو جب اپنے جوبن پر ہو گا تو اس کی یاد اس وقت تک دلاتا رہے گا جب تک یہ شرائن دھرتی پر قائم رہے گی۔

ہم منزل کے قریب آ رہے تھے۔ جو بھی سڑکیں نکو شرائن کی طرف جا رہی تھیں ان پر بوڑھے، جوان اور بچوں کی بڑی تعداد شرائن کی طرف رواں دواں تھی۔ ان میں غیر ملکی باشندے بھی تھے۔ یورپین، امریکی جو اپنے اپنے مخصوص لباس اور حلیوں میں شرائن دیکھنے آئے تھے۔ جب ہماری بس شرائن کے قریب پہنچی تو بے پناہ رش تھا۔ پہلے ہم ایک بڑی ٹوری ای Toriiسے گزرے۔ تو سیکوسن نے مجھے بتایا کہ یہ سمبل شرائن کا ہے۔ اس کو دیکھ کر دور سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ شرائن اب قریب ہے۔ تھوڑی دیر بعد دوسری ٹوری ای کا نشان آ گیا۔ اس سے نکل کر بسیں ایک طرف رکنا شروع ہو گئیں۔ ہم بس سے اترے تو ساتھ ہی وہی پانچ منزلہ پگوڈا دیکھا۔

میں نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“

سیکوسن نے اس کے بارے میں تفصیل سے بتایا تو میں نے کہا: ”یہ سب سے الگ تھلگ کھڑا ہے۔ یہ نہ صرف عجیب ہے بلکہ اجنبی اجنبی سا لگ رہا ہے ہماری طرح“ ۔

مسٹر سمبرانو نے کہا: ”ابھی آپ اجنبی ہیں۔“ اس نے سیکوسن کی طرف دیکھ کر سوالیہ نظروں سے کہا جو میرے ساتھ کھڑی تھی۔

دادا رحمان کو تو خدا موقع دے وہ سمبرانو کے قریب ہو گیا اور اس نے ہماری صلح کراتے ہوئے کہا، دادا کوئی بات نہیں۔ اجنبی بھی ایک دن اپنے بن جاتے ہیں۔ بندہ ہماری طرح نیاز مند ہو تو سارے مسئلے حل ہو جاتے ہیں۔ اس نے مسٹر سمبرانو سے چھاتا لے کر اس کے اوپر تان لیا اور اپنے چھاتے کم بخت بس میں بھول آیا تھا۔ ہمیں بارش نے آ لیا تھا۔ سیکوسن نے اپنا چھاتا میرے اوپر کر لیا۔ ہوا کے تند تھپیڑے چھاتے کو تہہ و بالا کر رہے تھے۔ میں نے چھاتا لے کر مضبوطی سے تھاما۔ ایک چھاتے میں ہم دونوں بھیگتے جار ہے تھے۔ حالانکہ ہم نے بس میں بیٹھتے ہوئے ٹوکیو میں ہی چھاتے اور اوور کوٹ دادا کے سپرد کر دیے تھے اور دوسرا سامان ہم نے اپنے ذمہ لے لیا تھا۔ لیکن وہ اترتے ہوئے بھول آیا تھا۔ اس لیے تو چٹرراج اکثر کہا کرتا تھا کہ ہم کو جب بھی مروانا ہے تو اس دادا کے بچے نے مروانا ہے۔ کم بخت پر ہر وقت ایک ہی دھن سوار رہتی ہے۔ وہ بڑبڑاتا ہوا ہمارے پیچھے پیچھے بھاگا آ رہا تھا۔

ایک چھاتا دو انسانوں کو مشکل سے طوفان باد و باراں سے بچا رہا تھا۔ ہم پگوڈا کے قریب آ کر ٹھہر گئے۔ شنٹو شرائن کی حدود میں پگوڈا، اس سے اس امر کی وضاحت ضرور ہوتی تھی کہ جاپانی لوگ کتنے حوصلے والے اور کتنی قوت برداشت والے ہیں کہ دوسرے دھرم کو برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ جاپانی شنٹو ازم کا کمال ہے کہ اس نے دوسرے مذہب بدھ مت کو سینے سے لگا لیا حالانکہ دنیا میں اس طرح کی برداشت بہت کم ہے۔ لوگ دشمن کو قبول کر لیتے ہیں لیکن دوسرے مذہب کو برداشت نہیں کرتے اور مذہب کے نام پر تو لاکھوں کروڑوں انسانوں کو ذبح کیا گیا ہے۔ انہیں سینے سے کون لگاتا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جاپانی بڑے فراخ دل ہیں۔ مس چن نے کہا کہ چٹرراج بھی یہی کہہ رہا تھا کہ جاپانی دوستوں کے آبا و اجداد نے نہ صرف بدھ مت کو برداشت کیا بلکہ اس کو اپنے اندر جذب کر لیا۔ اس سے کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ اگر مذہب میں قوت برداشت پیدا ہو جائے تو پھر مذہب انسان کو انسان بنا دیتا ہے۔

جس کا ڈر تھا وہی ہوا بارش تیز ہو گئی۔ ویسے تو بارش ایک نعمت ہے لیکن آپ جب گھر سے نکلیں سیاحت کو تو پھر اس سے بڑی رکاوٹیں اور دشواریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ اس روز ماؤنٹ فجی دیکھتے ہوئے بڑی تکلیف ہوئی تھی اور آج نکو شرائن دیکھتے ہوئے۔ کیونکہ بارش کی دھند میں منظر دھندلا جاتا ہے اور آدمی منظر کی بجائے بارش اور چھتریوں کے دھیان میں لگ جاتا ہے۔ اب بھی خوب بارش ہو رہی تھی۔ لیکن ادھر عجیب منظر تھا جوان، بوڑھے، بچے خوشی کے نعرے لگاتے ہوئے دوڑے چلے جا رہے تھے۔ سکولوں کے سینکڑوں بچے اپنے اپنے سکولوں کی یونیفارم پہنے بارش میں بھیگتے نکو شرائن دیکھنے آئے تھے اور دیوانہ وار آگے بڑھ رہے تھے۔ بارش تیز تھی اور چھاتا ایک تھا۔ میں بھی سیکوسن کے ساتھ دوڑا چلا جا رہا تھا۔

اتنے میں میری نظر نکو شرائن کے مرکزی دروازے یومائے مان گیٹ پر پڑی تو میں جہاں تھا وہیں رہ گیا۔

Facebook Comments HS