ارسطو کی سائنس، سیاست اور نفسیات
بعض مورخین اور محققین کا موقف ہے کہ یونانیوں کو سقراط نے فلسفے کا اور ارسطو نے سائنس کا تحفہ دیا۔ ارسطو 384 BC یونان کے ایک متمول خاندان میں پیدا ہوئے۔ وہ جس ماحول میں پلے بڑھے وہاں طب اور فلسفے کے بارے میں سنجیدہ مکالمے ہوتے تھے۔ جب ارسطو کی عمر اٹھارہ برس تھی تو وہ ایتھنز چلے آئے تا کہ افلاطون کی اکیڈمی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکیں۔ وہ اتنے ذہین اور محنتی طالب علم تھے کہ افلاطون انہیں
اکیڈمی کا دماغ
کہتے تھے۔ ارسطو نے اپنی جوانی کے بیس سال اپنے استاد افلاطون کے ساتھ گزارے اور ان سے بہت کچھ سیکھا۔ ارسطو کو کتابیں جمع کرنے کا اتنا شوق تھا کہ ایک دفعہ جب افلاطون ان سے ملنے ان کے گھر گئے تو فرمایا
یہ ایک باذوق قاری کا گھر ہے
تعلیم مکمل کرنے کے بعد ارسطو اپنی ایک درسگاہ بنائی۔ افلاطون نے اپنی درسگاہ کا نام اکیڈمی رکھا تھا جب کہ ارسطو نے اپنی تعلیمی مرکز کا نام
لائیسیم
رکھا۔ اس مرکز میں دور دور سے طلبا علم حاصل کرنے آتے تھے۔
اکیڈمی میں فلسفہ اور سیاست پڑھائے جاتے تھے جبکہ لائیسیم نے نوجوانوں کو سائنس پڑھائی جاتی تھی۔
چونکہ ارسطو ایک متمول خاندان کے چشم و چراغ تھے اس لیے انہیں ساری عمر کوئی مالی پریشانی نہ رہی۔ وہ مالی دشواریوں سے بے نیاز ساری عمر علمی و تحقیقی کام کرتے رہے۔ اگرچہ وقت نے ارسطو کے بہت سے سائنسی نظریات کو غلط ثابت کر دیا لیکن ہم انہیں اس بات کا کریڈٹ دیتے ہیں کہ انہوں نے سائنس کا کام اس دور میں کرنا شروع کیا جب
وقت ناپنے کے لیے گھڑی نہ تھی
حرارت ناپنے کے لیے تھرمامیٹر نہ تھا
موسم جاننے کے لیے بیرومیٹر نہ تھا
اور
آسمانی سیاروں اور ستاروں کی طرف دیکھنے کے لیے دوربین نہ تھی
ارسطو دوربین اور خوردبین کے بغیر صرف ظاہری آنکھ اور ذہین دماغ سے قوانین فطرت جاننے کی کوشش کرتے رہے۔ ارسطو نے اپنے شاگردوں کے ساتھ مل کر ایک سو کتابیں لکھیں۔ ارسطو نے علم میں جو اضافے کیے ان میں سے ایک منطق کا عمل ہے۔ انہوں نے شاگردوں کو منطقی انداز سے سوچنا اور استدلال کرنا سکھایا۔ اور وہی سوچ کا انداز بعد میں سائنس کی بنیاد ٹھہرا۔ ارسطو اپنے استاد افلاطون کے مداح تھے لیکن سچ کی تلاش میں اپنے استاد سے اختلاف کرتے نہ چوکتے تھے فرماتے تھے
PLATO IS DEAR TO ME BUT DEARER STILL IS TRUTH
ارسطو کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنی پسند اور ناپسند سے بالاتر ہو کر زندگی کو معروضی انداز سے دیکھنا چاہیے تا کہ ہم حقیقت اور سچائی تک پہنچ سکیں۔ ارسطو کو فطرت میں بھی گہری دلچسپی تھی۔ وہ نباتات اور حیوانات کا سنجیدگی سے مطالعہ کرتے تھے اور اپنی مشاہدات اور تجربات کو رقم کرتے تھے۔ ارسطو نے ایک خلیے سے پورے جانور یا انسان بننے کے عمل کے بارے میں لکھا جو اب
ایمبریولوجیEMBRYOLOGY
کا علم جانا جاتا ہے۔
ارسطو نے انسانی نفسیات اور جمالیات کے علوم کے بارے میں بھی لکھا۔ ان کا موقف تھا کہ فنکار اپنے ناآسودہ جذبات کا اظہار اپنے فن میں کرتے ہیں جس سے ان کا کیتھارسس ہوتا ہے اور وہ نفسیاتی طور پر بہتر محسوس کرتے ہیں۔ انہیں اپنے فن کے اظہار سے سکون ملتا تھا۔ ارسطو نے فنون لطیفہ کی مسیحائی کا راز جانا۔
ارسطو نے یہ بھی ہمیں بتایا کہ کہ فنکار کی تخلیقات میں اپنے ماحول کی نا انصافیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہیں اور لوگوں کو بہتر مستقبل کے خواب دکھاتے ہیں۔
ارسطو کی سیاست میں گہری دلچسپی تھی۔ انہیں افلاطون کی کتاب
ریاست REPUBLIC
پر یہ اعتراض تھا کہ وہ حقیقت پسندی سے زیادہ مثالیت پسندی کی آئینہ دار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں زندگی کے اصول وضع کرتے ہوئے انسان کے روشن رخ کا ساتھ اس کی شخصیت کے تاریک رخ کا بھی خیال کرنا چاہیے۔
جہاں ارسطو کے بہت سے نظریات روشن خیالی کے آئینہ دار تھے وہیں چند نظریات انسانیت کے تاریک دور کی بھی نمائندگی کرتے تھے۔ اس کی ایک مثال ان کا عورتوں کے بارے میں رویہ تھا۔ ارسطو مرد کو مکمل اور عورت کو نامکمل انسان سمجھتے تھے اور وہ عورتوں کو مشورہ دیتے تھے کہ وہ اپنی زندگی میں مردوں کی پیروی کریں اور مردوں سے رہنمائی حاصل کریں۔
ارسطو زندگی کے آخری ایام میں دکھی ہو گئے تھے۔ ان کے سیاسی ماحول میں ایک انقلاب آیا اور ان کے سیاسی دوست اور لیڈر یا مر گئے یا مار دیے گئے۔ اس وجہ سے وہ سماجی و ذہنی طور پر اکیلے ہو گئے اور وہ اس احساس تنہائی کا دکھ سہتے ہوئے تین سو بائیس قبل مسیح کو فوت ہو گئے۔
ارسطو کی وفات کے بعد اگلی چند صدیوں میں ان کی شہرت گھٹنے کی بجائے بڑھتی چلی گئی۔ عرب فلاسفروں نے جن میں الکندی، الفارابی، ابن سینا اور ابن رشد شامل ہیں نہ صرف سراہا بلکہ ان کی تخلیقات کے ترجمے بھی کیے اور ان تراجم کی بنیاد پر مغربی مفکرین نے فلسفے اور سائنس کی بلند و بالا عمارات تعمیر کیں، عرب فلسفیوں کے تراجم نے یونانی فلسفیوں کو یورپ میں متعارف کروایا۔ عرب فلسفی اور اور یورپی دانشور ارسطو کی اتنی عزت کرتے تھے کہ وہ انہیں
دی فلاسفر THE PHILOSOPHER
کہہ کر پکارتے تھے۔
جب بھی فلسفے اور سائنس کی تاریخ لکھی جائے گی اس میں ارسطو کا نام سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔
۔


