بچپن کی شادی، اسلامی نظریاتی کونسل اور صدر پاکستان
29 مئی کی رات صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری نے ”اسلام آباد دارالحکومتی علاقہ امتناع عقد بندی اطفال بل“ 2025 کی منظوری دے کر اسے قانون کا درجہ دے دیا ہے جو فی الفور اسلام آباد دارالحکومتی علاقہ میں نافذ العمل ہو گا۔ یہ بل رکن قومی اسمبلی محترمہ شرمیلا فاروقی صاحبہ نے ایوانِ زیریں میں پیش کیا تھا جو 16 مئی کو قومی اسمبلی سے منظور ہوا۔ بعد ازاں محترمہ شیری رحمان صاحبہ نے اسے ایوانِ بالا میں پیش کیا جہاں اسے سخت مخالفت کا سامنا تھا۔ جمعیت علماء اسلام (ف) کے ساتھ ساتھ ایمل ولی خان نے بھی اسے اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجنے پر اصرار کیا۔ تاہم بل کثرتِ رائے سے سینٹ میں 19 مئی کو منظور ہو گیا۔
اسلامی نظریاتی کونسل اپنے 27 مئی کو ہونے والے اجلاس کے ایجنڈا میں بل کو ازخود زیربحث لائی اور اجلاس کے بعد اپنی پریس ریلیز میں اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ کونسل نے بل کی متعدد دفعات کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے بل کو مسترد کر دیا۔ 29 مئی کو قومی کمیشن برائے حقوقِ اطفال نے اپنی پریس ریلیز میں بل کی بھرپور حمایت کی اور اسے بین الاقوامی معیارات کے مطابق قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ بہت سے اسلامی ممالک بشمول تیونس، مصر، مراکش وغیرہ شادی کی کم از کم عمر فریقین کے لئے اٹھارہ سال ہے کیونکہ بچپن کی شادی کے بہت سے نقصانات ہیں۔ ایک قابلِ توجہ بات یہ بھی ہے کہ 2023 میں وفاقی شرعی عدالت نے Sindh Child Marriage Restraint Amendment Act 2013 کے حوالے سے ایک درخواست پر یہ فیصلہ سنایا تھا کہ شادی کے لئے کم از کم عمر مقرر کرنا حکومت کی صوابدید میں ہے۔
پاکستان کے لئے بین الاقوامی معاہدہ برائے حقوقِ اطفال اور خواتین کے خلاف امتیازات کے خاتمے کے معاہدے کی پاسداری لازمی ہے جن میں شادی کی کم از کم عمر اٹھارہ سال ہے۔ پاکستان کا ان معاہدوں کا فریق ہونا اس بات کا متقاضی ہے کہ وہ بچپن کی شادیوں کا خاتمہ کرے اور خواتین کے حقوق کا تحفظ کرے۔ پاکستان اس بات کا پابند ہے کہ وہ ملکی قوانین کی ان معاہدوں سے مطابقت قائم کرے اور ان پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔ اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) کے مطابق رکن ممالک بشمول پاکستان نے 2030 تک اٹھارہ سال سے کم عمر کی شادیوں کا خاتمہ کرنا ہے۔ ہدف 5 صنفی برابری پر زور دیتا ہے اور اس کا ٹارگٹ 5.3 بچپن کی شادی کے خاتمے پر ۔
اس وقت اس قانون کا پاس ہونا اس لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ بین الاقوامی معاہدہ برائے حقوقِ اطفال کی پاکستان کی چھٹی اور ساتویں مشترکہ رپورٹ کا جائزہ بین الاقوامی کمیٹی برائے حقوقِ اطفال میں جلد متوقع ہے۔ کمیٹی قانون سازی کے اس عمل کو مثبت زاویے سے دیکھے گی کہ پاکستان نے پچھلی رپورٹوں پر دی گئی سفارشات پر عمل درآمد کے لئے اقدامات اٹھائے ہیں۔ ایک محفوظ، مضبوط، ترقی یافتہ اور مساوات پر مبنی پاکستان کے سفر میں بچوں اور نو جوانوں کے لئے ٹھوس قانون سازی کی اشد ضرورت ہے۔ اس لئے بچپن کی شادیوں کے خاتمے اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے یہ قانون سازی انتہائی خوش آئند ہے۔
اس قانون کے مطابق لڑکی اور لڑکا دونوں کی شادی کی عمر اٹھارہ سال مقرر کی گئی ہے جس سے بچوں کے درمیان روا رکھے گئے امتیاز کا خاتمہ ہوا ہے اور یہ صنفی برابری کی طرف ایک مثبت قدم ہے۔ نکاح کے وقت دونوں فریقین کی طرف سے نادرا کا اجراء شدہ قومی شناختی کارڈ نکاح رجسٹرار کو پیش کرنا لازمی ہے۔ اگر نکاح خوان یا رجسٹرار اس بات کی پابندی نہیں کرتا تو اسے ایک سال تک قید اور ایک لاکھ جرمانہ ہو گا۔ والدین یا سرپرست اگر بچوں کی شادی کی اجازت دیتے ہیں یا اسے روکنے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ دو سے تین سال تک قید با مشقت بمع جرمانہ کا مستوجب ہوں گے۔ اگر ایک بالغ مرد اٹھارہ سال سے کم عمر کی بچی سے شادی کرتا ہے تو اسے جرمانے کے ساتھ دو سے تین سال تک قید با مشقت ہوگی۔ اٹھارہ سال سے پہلے کی شادی کے نتیجے میں کسی بھی قسم کی مباشرت بچے کے ساتھ زیادتی ہے جو شخص بھی کسی بچے کو ایسی سرگرمی میں شامل ہونے پر مائل کرے، مجبور کرے، ترغیب دے یا زبردستی کرے یا زیادتی کرے اس کی سزا پانچ سے سات سال قید یا کم از کم دس لاکھ جرمانہ یا دونوں ہیں۔ اگر کوئی شخص کسی بچے کو شادی کے مقصد سے اسلام آباد کی علاقائی حدود سے باہر لے جاتا ہے تو اس ایکٹ کے تحت یہ چائلڈ اسمگلنگ ہے جس کی سزا پانچ سے سات سال قید بمع جرمانہ ہوگی۔ ایکٹ کے تحت ڈسٹرکٹ اور سیشن جج کی عدالت اس جرم کا نوٹس لے گی اور اس پر کارروائی کرے گی۔ عدالت ایسے مقدمے کا فیصلہ نوے دن کے اندر کرے گی۔ اگر عدالت ثبوتوں سے مطمئن ہو تو وہ ایسی شادی کا حکم امتناعی جاری کر سکتی ہے۔ بچپن کی شادی کا جرم، قابلِ سماعت، ناقابلِ ضمانت اور ناقابلِ مصالحت ہو گا۔
بچوں کے حقوق کے کارکنوں، اداروں اور متعلقہ شہریوں نے ”اسلام آباد دارالحکومتی علاقہ امتناع عقد بندی اطفال بل“ 2025 کی منظوری کا گرمجوشی سے خیر مقدم کیا ہے اور اسے بچوں کے حقوق کی ترویج اور بہبود کے تحفظ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔ ”اس ایکٹ کی منظوری پاکستان کے لئے ایک اہم لمحہ ہے۔ یہ قانون سازی ہمارے قومی عزم کی توثیق کرتی ہے کہ ہمیں اپنے بچوں خصوصاً لڑکیوں کو ان نقصان دہ رسموں سے بچانا ہے جو ان کا بچپن، صحت اور مستقبل چھین لیتی ہیں۔ شادی کے لئے اٹھارہ سال کی کم ازکم قانونی عمر مقرر کر کے ہم نہ صرف اپنی آئینی اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کو نبھا رہے ہیں بلکہ اپنی بچیوں کو تعلیم، مواقع اور قیادت کے حصول کے لئے بھی با اختیار بنا رہے ہیں۔ ہم پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ایسی ہی مثال قائم کریں اور اپنے شادی کے قوانین کو بچوں کے حقوق اور ان کے بہترین مفاد سے ہم آہنگ کریں“ ، ادارہ برائے حقوقِ اطفال کی چیئرپرسن عائشہ رضا فاروق نے ”ہم سب“ سے بات کرتے ہوئے کہا۔
قانونی ماہر سید مقداد مہدی نے واضح کیا ”گو کہ ہر قانون میں بہتری کی گنجائش ہوتی ہے جو کبھی نفاذ کے لئے قواعد میں اور کبھی ترامیم میں حل ہو جاتی ہے۔ اس قانون کا نفاذ بچوں کے حقوق کے تحفظ میں ایک اہم قدم ہے۔ یہ قانون بچپن کی شادی کی برائی کے خاتمے کے لئے ایک مضبوط مثال ہے۔ یہ ایک جامع قانونی ڈھانچہ ہے جو کہ بچپن کی شادی کو نہ صرف قابلِ سزا جرم بناتا ہے بلکہ اسے بچوں کے ساتھ زیادتی اور اسمگلنگ کی ایک شکل کے طور پر بیان کرتا ہے جو کہ بچوں کے تحفظ کے قومی اور بین الاقوامی معیارات کے مطابق ہے۔ امید ہے یہ تاریخی قانون باقی علاقہ جات خصوصاً پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے لئے ایک قابلِ تقلید مثال ثابت ہو گا اور وہ بچوں کے حقوق کی اس شدید پامالی کو روکنے کے لئے جلد اپنے مضبوط قوانین بنائیں گے“ ۔
2010 سے بچپن کی شادی کی روک تھام ایک صوبائی معاملہ ہے۔ اب تک صرف صوبہ سندھ میں لڑکے اور لڑکی دونوں کی شادی کی کم از کم عمر ”سندھ امتناع عقد بندی اطفال بل“ 2013 کے تحت اٹھارہ سال ہے۔ باقی تینوں صوبوں اور علاقہ جات میں لڑکے کی شادی کی کم از کم عمر اٹھارہ سال اور لڑکی کی سولہ سال ہے جو بچوں میں کھلم کھلا تفریق ہے۔ پنجاب میں محترمہ سارہ احمد اور محترمہ عظمیٰ کاردار کے بل اس مقصد کے لئے بنائی گئی کمیٹی کے پاس جائزے کے لئے موجود ہیں۔ خیبر پختونخوا نے اپنا بل بنا کر اسلامی نظریاتی کونسل کو جائزے کے لئے بھیجا تھا۔ 27 مئی کے منعقدہ اجلاس میں اسلامی نظریاتی کونسل نے اسے بھی شریعت سے متصادم قرار دے دیا ہے۔ امید ہے ”اسلام آباد دارالحکومتی علاقہ امتناع عقد بندی اطفال بل“ 2025 کی منظوری تینوں صوبوں اور باقی علاقوں کے لئے ایک قابلِ تقلید مثال بنے گی۔
پاکستان میں بچپن کی شادیوں کے رجحان کو ختم کرنے کے لئے قانونی، پالیسی اور انتظامی اقدامات کے ایک جامع مجموعے کی ضرورت ہے۔ چند تجاویز ذیل میں پیش ہیں۔
وفاقی حکومت اس ایکٹ کے قواعد و ضوابط فوری بنائے اور نفاذ کا عمل تیز ترین ہو۔ باقی صوبے اور علاقہ جات بھی اپنے قوانین جلد از جلد بنائیں اور ان کا مکمل نفاذ کریں۔ Christian Marriage (Amendment) Act 2024 صرف اسلام آباد دارالحکومتی علاقہ کے لئے ہے۔ تمام صوبائی اسمبلیوں کو اپنی اسمبلی میں آئین کے آرٹیکل 144 کے تحت ایک قرارداد جمع کروا کر اسے اپنے صوبے کے لئے Adopt کر لینا چاہیے۔ The Hindu Marriage Act 2017 آئین کے آرٹیکل 144 پر عمل کرتے ہوئے پورے پاکستان میں لاگو ہے ماسوائے سندھ جس کے اپنے قانون کے مطابق ہندو لڑکیوں کی شادی کی عمر اٹھارہ سال ہے۔ کیونکہ اقلیتوں کے عائلی قوانین متعلقہ دیگر قوانین پر فوقیت رکھتے ہیں اس لئے پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بھی ہندو لڑکیوں کی شادی کی عمر اٹھارہ سال ہی ہے۔ عمل درآمد کے لئے صرف انتظامی اقدامات درکار ہیں۔ Punjab Sikh Anand Karaj Marriage Act 2018 کے نفاذ کے لئے انتظامی انتظامات کی فوری ضرورت ہے۔ شادی کی رجسٹریشن کے لئے آنند کا رج رجسٹرار اور سنگت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لئے فعال مقامی حکومت کا انتظام ہونا چاہیے۔
مقامی حکومتی اداروں کو با اختیار بنایا جائے تاکہ قانونی تحفظات کو صحیح معنوں میں لاگو کیا جا سکے۔ بچوں کے شادی کے کیسوں کی رپورٹنگ، تفتیش اور پراسیکیوشن کے دوران ملوث ریاستی اور حکومتی اہلکار (ججز، پولیس، میڈیکل افسر وغیرہ) کو اس معاملے پر حساس اور جوابدہ ہونا چاہیے۔ بچپن کی شادی کے متاثرین کے لئے خصوصی حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہو گی۔ ان کے تحفظ، Trauma healing، رازداری، بحالی، منصفانہ قانونی کارروائی میں شرکت کو یقینی بنایا جائے گا۔ مقدمے سے پہلے، دوران اور بعد ازاں قانونی سہولیات اور تیز ترین طریقہ کار کو ترجیح دی جائے گی۔
انسانی حقوق کے اداروں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کو بچپن کی شادی کے خاتمے کی جدوجہد اور بچوں کے تحفظ کے لئے قانون سازی اور اس کے نفاذ کی بھرپور حمایت اور وکالت کرنی چاہیے۔ ایک ملک گیر مہم بچپن کی شادیوں کے نقصان دہ اثرات کے بارے میں بیداری بڑھانے میں مدد کر سکتی ہے۔ عوام کو اس سے ہونے والے نقصانات کے ساتھ ساتھ بچوں کی شادیوں اور ان سے جڑے جرائم سے متعلق تعزیری قوانین سے آگاہ کیا جانا چاہیے۔ والدین کو بچوں کے تحفظ کے حوالے سے زیادہ حساس ہونے کی ضرورت ہے تاکہ ان کے بچے پیڈوفیلیا اور اور جنسی زیادتی کا شکار نہ ہوں۔ بچپن کی شادیوں سے نمٹنے کے لئے ہر بچے کے لئے تعلیم ضروری ہے۔ اس سے ہماری آنے والی نسلوں کو خوشحال پاکستان میں صحتمند اور آزاد زندگی گزارنے میں مدد ملی گی۔



میڈم امید بخیر
–
جہاں یہ ٹھیک ہے کہ آج کے دور میں بچیوں کو اچھی تعلیم / 18 سال کے بعد شادی کرنی چاہئے۔ اور ہر ایک اس معاملے پر قلم اٹھارہا ہے وہاں تصویر کے دوسرے رخ کو (مذہب سے ہٹ کر) بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔
–
گاؤں دیہات میں 15 سے 16 سال کی بچیاں جن کو اسکول کی ہی سہولت میسر نہیں کالج یا یونیورسٹی ان کے لئے صرف کہانی یا ڈراموں میں ہوتے ہیں۔ وہ گھر اور امور خانہ داری میں طاق ہوتی ہیں اور اگر ان کی شادی 16 یا 17 سال کی عمر میں ہوجائے تو کسی کو کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔
–
شہر کی بچیوں کے مسائل اور گاؤں، دیہات، قبائلی علاقے، پہاڑ، صحرائی علاقے۔ مقامات جہاں اسکول ہی نہیں وہاں 16 سال کی بالغ بچی کی شادی اگر ہوجاتی ہے تو اس کو شہر کے تناظر میں کیسے دیکھا جاسکتا ہے۔
–
ان علاقوں میں 14 یا 15 سال کی عمر میں بلوغت پانے والی لڑکی کو اگر آپ تین سال تک گھر بٹھاکر رکھیں گے تو آپ کی سوچ ہے کہ ان تین سال میں اس کے ماں باپ پر کیا گزرے گی۔ کیوں کہ تعلیم تو اس کے پاس پرائمری بھی نہیں ہوتی۔
–
اگر آپ ملک کے ہر علاقے میں لڑکیوں کو کالج کی تعلیم کی ذمہ داری دلاسکتی ہیں تو پہلے اس فریضے پر قلم اٹھائیں۔ جب تعلیم اور صحت تک رسائی ہی ایک بالغ بچی کو میسر نہیں تو زبردستی اسے گھر بٹھاکر کیا ملے گا۔
یقیناً شہر کی بچیوں کے معاملے میں تو اس کو یقینی بنایا جاسکتا مگر دوسرے مقامات پر اس زبردستی کا بعض اوقات کیا فائدہ !