نواز شریف سنٹر آف ایکسیلینس: چھوٹے بچوں کا جم خانہ
خبر عام ہوئی کہ پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے اپنے بیٹے یوسف کو ایک سرکاری سکول میں داخل کروا دیا ہے۔ اس پر وی لاگز ہوئے۔ ہیڈ لائنز اور ٹی وی پروگراموں میں یہ اقدام ڈسکس ہوا۔ وزیر تعلیم کی پذیرائی بھی ہوئی اور کئی حلقوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے سیاسی سٹنٹ بھی قرار دیا۔ مجھے تجسس ہوا کہ آخر ایک وزیر نے یہ ”کڑوا گھونٹ“ کیسے پی لیا۔ یہ تجسس مجھے اس تعلیمی ادارے تک لے گیا۔ میں نے وہاں کا وزٹ کیا اور دی جانے والی سہولیات کا مشاہدہ کیا۔ یہ سرکاری سکول چلڈرن لائبریری کے اندر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی خصوصی ہدایت پر ”نواز شریف سنٹر آف ایکسیلینس فار ارلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن“ کے نام سے تعمیر کیا گیا ہے۔ یہ ابتدائی عمر کے بچوں کے لئے پاکستان کا پہلا سٹیٹ آف دی آرٹ پبلک سکول ہے جہاں ان کی عمر کے تقاضوں اور دلچسپیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف سہولیات دی گئی ہیں۔ میرے مشاہدے نے مجھے یہ کہنے پر مجبور کیا کہ پاکستان میں ارلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن کے لئے سرکاری سطح پر ایسا ادارہ کہیں بھی موجود نہیں ہے، جو ابتدائی تعلیم کے لئے ننھے بچوں کی تخلیقی، فکری اور سماجی نشوونما کے ضمن میں جدید تعلیمی ماحول فراہم کرے گا۔ نہ صرف یہ، بلکہ یہاں ہونے والی ایکٹیویٹی بیسڈ لرننگ اوائل عمری میں بچوں کی ذہنی پختگی کا باعث بھی بنے گی۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ خوبصورت، دیدہ زیب اور پرکشش ای سی ای رومز، جمنیزیم، سوئمنگ پول، ماڈل کلاس رومز، میڈیا روم، آرٹ اینڈ کرافٹ روم، جم سمیت دیگر سہولیات پر مشتمل یہ ادارہ بلاشبہ بچوں کی خصوصی دلچسپی سے ہم آہنگ تعلیمی ادارہ کہلائے گا جہاں بچوں کے لئے مکمل ایجوکیشن پلان ترتیب دیتے ہوئے نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا گیا ہے۔
میں نے اس موضوع پر پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات سے بھی استفسار کیا کہ ایک سیاسی گھرانے سے تعلق رکھنے اور وزیر ہونے کے باوجود بھی انہوں نے خود کو کیسے یہ قدم اٹھانے پر رضامند کر لیا؟ میرے سوال پر رانا سکندر حیات نے فخریہ انداز میں نواز شریف سنٹر آف ایکسیلینس فار ارلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن کو چھوٹے بچوں کا جم خانہ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ یہ اپنی نوعیت کا منفرد معیار کا پہلا ماڈل سرکاری منصوبہ ہو گا، جو کسی بھی مہنگے نجی ادارے کے مقابلے میں سہولیات سرکاری سطح پر مہیا کر رہا ہے۔ اسی لئے اس ادارے پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اپنا بیٹا یہاں انرول کروایا ہے۔ رانا سکندر حیات کا کہنا تھا کہ سرکاری سکولوں پر عوام کا اعتماد بحال ہونے کا وقت آ گیا ہے۔ ایک سرکاری سکول میں اپنا بیٹا داخل کروا کے میں نے اپنی تعلیمی اصلاحات پر عملی یقین کا ثبوت دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے بیٹے کو سرکاری سکول میں داخل کروا کے بارش کا پہلا قطرہ بنے ہیں۔ ان کا ویژن ہے کہ وزیر تعلیم کا بچہ یہاں پڑھے گا تو دیگر لوگوں کا بھی اس ادارے پر اعتماد مضبوط ہو گا۔ مذکورہ تمام منظرنامے میں یہ بات بھی خوش آئند ہے کہ وزیر تعلیم پنجاب کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان کے چند دوستوں اور عزیزوں نے بھی اپنے چھوٹے بچوں کو نواز شریف سنٹر آف ایکسیلینس فار ارلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن میں داخل کروایا ہے۔ کیونکہ انہیں یقین ہے کہ اگر وزیر تعلیم اپنا بیٹا یہاں پڑھا رہا ہے تو یقیناً یہاں معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اپنی گفتگو میں وزیر تعلیم نے نواز شریف سنٹر آف ایکسیلینس کو ڈیجیٹل انوویشن کا حامل، مستحکم منصوبہ بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے مزید بتایا کہ پنجاب کے ہر ضلع میں سرکاری طور پر ارلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن کے ایکسیلینس ادارے بنائیں گے۔ اس ضمن میں اگلا ہدف گوجرانوالہ میں اس طرز کے ادارے کا قیام ہے۔ قبل ازیں ارلی ائر ایجوکیشن کے بارے میں اس سطح پر کبھی نہیں سوچا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ حکومتی سطح پر صرف پنجاب کا ہی نہیں، بلکہ پاکستان کا سب سے ٹاپ ارلی ائر کا پبلک انسٹیٹیوٹ قرار دیا جا رہا ہے جہاں بچوں کو مفت داخلہ و تعلیم کے علاوہ کسی بھی نجی سیکٹر کے ارلی ائر انسٹیٹیوٹ کے برابر سہولیات میسر ہوں گی۔
قلیل مدت میں تعمیر ہونے والے اس ماڈل تعلیمی ادارے کا افتتاح وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کیا اور ایم ڈی نواز شریف سنٹر آف ایکسیلینس ڈاکٹر خرم شہزاد اور ان کی ٹیم کی محنت و کاوشوں کی تعریف بھی کی۔ اس موقع پر مریم نواز نے ارلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن کے لئے نواز شریف سنٹر آف ایکسیلینس میں انرولمنٹ مہم کا بھی باقاعدہ افتتاح کرتے ہوئے پہلی انرولمنٹ وزیر تعلیم کے بیٹے محمد یوسف کے نام سے کی اور وزیر تعلیم کے بعد اس ادارے پر اپنے اعتماد کی بھی مہر ثبت کی۔ دوسری جانب ایم ڈی ڈاکٹر خرم شہزاد نے نواز شریف سنٹر آف ایکسیلینس فار ارلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن کو وزیر اعلیٰ پنجاب کے ویژن کے عین مطابق ایک سسٹین ایبل ماڈل منصوبہ بنانے کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے جبکہ وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے تمام سرکاری سکولوں میں بھی ارلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن کے لئے خصوصی کلاس رومز مختص کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ہر پرائمری سکول میں ایک ای سی ای روم لازمی قرار دے دیا ہے۔
جب اعلیٰ سطح پر اس ادارے پر اس قدر اعتماد کا اظہار کیا جا رہا ہے تو مجھے بھی یقین ہو گیا ہے کہ یہاں بچوں کو انٹرنیشنل لیول کی تعلیمی و ہم نصابی سہولیات میسر آئیں گی اور یوں ارلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن پلے بیسڈ لرننگ اور ننھے بچوں کی دلچسپی کا عکاس تعلیمی منصوبہ گردانا جائے گا۔ ایسے میں اگر وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے نواز شریف سنٹر آف ایکسیلینس کو چھوٹے بچوں کا جم خانہ قرار دیا ہے تو سہولیات کے اعتبار سے یہ غلط نہیں ہے۔


