کوئی پوچھے تو کہنا۔ ۔ ۔ ۔

”کوئی پوچھے تو کہنا خان آیا تھا“۔ بظاہر یہ ایک فلمی ڈائیلاگ لگتا ہے، لیکن درحقیقت ہماری موجودہ سیاسی تاریخ پر مرتب ہوتی ایک نئی کتاب ہے۔ ہر روز اس کہانی میں عام آدمی کی پریشانی، دکھ، کرب اور تلخ تجربات پر مشتمل اِک نئے باب کا اضافہ ہو رہا ہے۔  ”تبدیلی“ کو ووٹ دینے پر پچھتاوے کا اظہار زبان زدِ عام ہوتا جا رہا ہے۔ یہ کہانی کس کروٹ بیٹھے گی، اس کے نتائج کیا ہوں گے، اس کا فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا۔ گوکہ اس کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ لوگوں کی معاشی پریشانیاں بڑھ رہی ہیں اور کم تنخواہ دار طبقہ نفسیاتی مریض بننا شروع ہو گیا ہے۔

Read more

بیوہ کی مناجات اور یتیم کا تماشا

پاکستانی قوم کے جذبہِ رحم کی اِک دنیا معترف ہے اور اس کا اظہار ہر سطح پر بارہا ہو چکا ہے۔ اسی جذبہ کو مدنظر رکھتے ہوئے بالخصوص ماہ رمضان میں چیریٹی کے لئے ہاتھ پھیلائے جاتے ہیں۔ جہاں گداگروں کی فوجیں قدم قدم پر ملتی ہیں، وہیں مختلف فلاحی و رفاہی ادارے بھی میدان…

Read more