العین پیلس میوزیم ابوظہبی
” العین پیلس میوزیم یو اے ای ابوظہبی“ یہ محل 1937 ء میں العین نخلستان کے مغربی کنارے پر مرحوم شیخ زائد بن سلطان النہیان کے حکم پر تعمیر کیا گیا، جو بعد ازاں تاریخ کا حصہ بن کر ایک میوزیم میں تبدیل ہوا۔ یہ وہ دور تھا جب متحدہ عرب امارات اپنے قیام سے پہلے کی سادہ مگر پُرمعنی زندگی گزار رہا تھا۔ 1998 میں اس محل کو نئی روح دی گئی اور 2001 میں اسے عوام کے لیے کھول دیا گیا۔
اصل میں یہ محل ایک نجی رہائش گاہ تھا، جہاں خاندان کی پرورش اور ریاستی مشاورت دونوں کا انتظام ایک ساتھ ہوتا۔ اس کی تعمیر میں ایسی ذہانت کارفرما تھی جو گرم موسم سے نبرد آزما ہونے کے صدیوں پرانے مقامی تجربے کی عکاسی کرتی ہے۔ وینٹیلیشن کے لیے خاص انتظامات، چوڑے اور لمبے برآمدے اس بات کی دلیل ہیں کہ یہاں فنِ تعمیر کو موسمی حالات کے ساتھ ہم آہنگ رکھنے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ ان برآمدوں نے نہ صرف دھوپ کی شدت سے بچاؤ فراہم کیا، بلکہ ٹھنڈی ہوا کو اندرونِ خانہ لے جا کر قدرتی ائرکنڈیشننگ کا کام بھی کیا۔
محل کی تعمیر میں جو مواد استعمال کیا گیا، وہ مکمل طور پر مقامی اور ماحول دوست تھا۔ مٹی، ایڈوب، پلاسٹر، اور کھجور کے درخت کے اجزاء اس کی بنیاد بنے۔ ان تمام عناصر سے محل کو نہ صرف مضبوطی ملی، بلکہ ایک ایسا جمالیاتی حسن بھی پیدا ہوا، جو آج بھی دیکھنے والوں کو ماضی کے سحر میں لے جاتا ہے۔ بعد کی تزئین و آرائش میں ساگوان جیسی اعلیٰ معیار کی لکڑی کے استعمال نے محل کی عظمت میں مزید اضافہ کر دیا۔
محل میں داخل ہونے والا ہر فرد سب سے پہلے اس مخصوص داخلی دروازے سے گزرتا ہے، جس پر قرآن کریم کی آیات کنندہ ہیں۔ یہ دروازہ نہ صرف ایک رسمی داخلی راستہ ہے، بلکہ روحانیت کا پہلا لمس بھی ہے۔ اس کے بعد محل کے وہ کمرے آتے ہیں، جہاں کبھی سرکاری کونسلوں کے اجلاس ہوا کرتے تھے اور مشرقی علاقے کے معاملات پر فیصلے صادر ہوتے۔
بین الاقوامی وفود کے لیے مخصوص استقبالیہ کمرے شیخ زائد کی اس سخاوت کی جھلک پیش کرتے ہیں جس کے لیے وہ مشہور تھے۔ محل کے مرکزی دروازے کے اوپر واقع ”البرَزہ“ وہ بالا مجلس ہے جہاں مہمان بیٹھتے تھے، اور گرمیوں میں سایہ حاصل کرتے۔ بیرونی صحن میں ایک مخصوص ”کافی روم“ بھی ہے، جہاں سے مہمانوں کے لیے عربی قہوہ پورے محل میں تقسیم کیا جاتا تھا۔
محل میں شیخ زائد اور ان کی اہلیہ شیخہ فاطمہ بنت مبارک الکتبی کے لیے ایک الگ دو منزلہ حصہ موجود ہے۔ نچلی منزل خواتین کی مہمانداری کے لیے مخصوص تھی، جبکہ بالائی منزل خاندان کی نجی زندگی کا حصہ تھی۔ ایک کمرہ ایسا بھی ہے جہاں شیخ زائد کے بیٹے تعلیم حاصل کرتے تھے، اور آج بھی وہاں وہی پرانی میزیں اور بلیک بورڈ محفوظ ہیں، جیسے وقت وہیں تھم گیا ہو۔ ایک اور کمرہ تعلیماتِ نبوی ﷺ یعنی قرآن و حدیث کی تعلیم کے لیے مختص تھا۔
1998 کی تزئین و آرائش میں دو نئی عمارتیں تعمیر کی گئیں۔ ان میں سے ایک انتظامی امور کے لیے مختص ہے اور دوسری میں النہیان خاندان کا خاندانی شجرہ محفوظ ہے۔ یہ نہ صرف شجرہ نسب ہے، بلکہ تاریخ سے جُڑنے کا ایک ذریعہ بھی۔ ان عمارتوں کا انداز روایتی فنِ تعمیر کی جھلک لیے ہوئے ہے، خاص طور پر جو ٹاورز مرکزی دروازے پر بنائے گئے ہیں، وہ الجاہلی قلعے کی یاد دلاتے ہیں۔
محل کے اندرونی حصے میں موجود فرنیچر اور تزئین بھی اسی زمانے کی نمائندگی کرتے ہیں، جس میں یہ محل قائم ہوا۔ اس عمارت کا ہر کونہ، ہر دیوار اور ہر دروازہ وقت کی ایک کہانی سناتا ہے۔
شیخ زائد کے ورثے کو محفوظ رکھنے کے لیے وہ خیمہ بھی محل کے اندر نصب کیا گیا ہے، جس میں وہ سردیوں کے موسم میں مہمانوں کی میزبانی کیا کرتے تھے۔ یہ خیمہ نہ صرف ایک خیمہ ہے، بلکہ بدوی زندگی کے اُس فلسفے کا عکاس ہے، جس پر شیخ زائد کو فخر تھا۔ یہ خیمہ زائرین کو صحرائی مہمان نوازی، سادگی، اور خلوص کے اسباب سکھاتا ہے۔
محل کے اندرونی صحن میں ایک لینڈروور بھی رکھی گئی ہے۔ یہ ویسی گاڑی ہے جیسی شیخ زائد اپنے قبائلی اور دیہی دوروں میں استعمال کیا کرتے تھے، تاکہ وہ براہِ راست اپنے عوام کے مسائل سے آگاہ ہو سکیں۔
یہ محل صرف ایک عمارت نہیں، بلکہ ایک دور کی نمائندگی ہے۔ ایک ایسا دور جو سادگی، دانائی، مہمان نوازی، قیادت اور تدبر کی شاندار مثال ہے۔ آج جب زائرین اس محل میں داخل ہوتے ہیں تو وہ صرف اینٹوں اور پتھروں کی عمارت نہیں دیکھتے، بلکہ ایک قائد کا ویژن، ایک ملت کی تاریخ، اور ایک تہذیب کی روح محسوس کرتے ہیں۔
مہذب اقوام اپنی تاریخی ورثے کو ہمیشہ محفوظ رکھتی ہیں، اس میوزیم کی ترتیب، سلیقے، صفائی اور تزئین و آرائش کو دیکھ کر ایسا نہیں لگا کہ یہ تاریخی ورثہ ہے، بلکہ ایسا لگا کہ یہ کوئی زیادہ قدیم عمارت نہیں ہے۔ بلا شبہ یہ قوم اور یو اے ای گورنمنٹ مبارکباد کے مستحق ہے، جس طرح یہ اپنے تاریخی ورثے کی حفاظت کر رہی ہے۔


