خواب، محبت اور زندگی (26)


جب سینما دیکھنے پر تھپڑ کھایا

اس زمانے میں ذاتی حوالے سے ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو برسوں میرے لئے شرمندگی اور ذہنی تکلیف کا باعث بنا رہا۔ مجھے لگتا تھا کہ میرے ساتھ نا انصافی ہوئی تھی۔ اس واقعے کا تعلق میری اسکول کے زمانے کی ایک سہیلی سے تھا جو پڑھائی کے ساتھ نرسنگ کا جز وقتی کام بھی کرتی تھی۔ اس لئے ہمارے مقابلے میں ایک طرح سے اسے مالی خود مختاری حاصل تھی۔ ایک روز اس نے مجھے فلم دیکھنے کے لئے اپنے ساتھ چلنے کی دعوت دی۔ میرے لئے یہ ایک انوکھی بات تھی کیونکہ ہم بہن بھائی تو ہمیشہ ابی کے ساتھ فلمیں دیکھنے کے عادی تھے۔

میں نے اپنی نوعمری کی ’دانش‘ سے کام لیتے ہوئے فیصلہ کیا کہ مجھے گھر والوں کو اپنے پروگرام کے بارے میں نہیں بتانا چاہیے ورنہ میرے چھوٹے بھائی ساتھ چلنے کی ضد کریں گے اور میں اپنی سہیلی پر مالی بوجھ نہیں ڈالنا چاہتی تھی کیونکہ پھر اسے میرے ساتھ میرے بھائیوں کے ٹکٹ بھی خریدنے پڑتے۔ اس لئے میں نے اکیلے ہی اس کے ساتھ گھر والوں کو بتائے بغیر جانے کا فیصلہ کیا۔ ظاہر ہے یہ ایک معصومانہ اور بیوقوفانہ حرکت تھی۔ لیکن فلم دیکھنے کے بعد جب میں گھر واپس آئی تو میرا ذہن اس بوجھ کو برداشت نہ کر سکا اور میں نے سارے گھر والوں کے بیچ میں بیٹھ کر انہیں اپنے ’کارنامے‘ کے بارے میں بتا دیا۔

میری بات سنتے ہی ابی کے چہرے پر غصے کے آثار نمودار ہوئے، انہوں نے اپنی انگلیوں میں دبا ہواسگریٹ فرش پر دے مارا۔ ابی کے تاثرات دیکھ کر امی میری طرف لپکیں اور میر ی چوٹی کھینچ کر ایک تھپڑ میرے منہ پر رسید کیا۔ بعد میں اکثر مجھے خیال آتا تھا کہ شاید ایسا انہوں نے مجھے ابی کے کسی ممکنہ رد عمل سے بچانے کے لئے ایسا کیا تھا۔ خیر وجہ کچھ بھی ہو، اس سے پہلے میری اتنی بے عزتی کبھی نہیں ہوئی تھی۔ جہاں تک بھائیوں کا تعلق تھا، انہوں نے حیرت اور خاموشی کے ساتھ یہ دیکھا۔ لیکن ان کے چہروں کے تاثرات سے ظاہر تھا کہ ان کے نزدیک میں نے کوئی بہت غلط کام کیا تھا۔ جیسے مجھ سے کوئی سنگین جرم سرزد ہو گیا تھا۔ میرا ذہن ماؤف ہو چکا تھا۔ پہلی دفعہ مجھے احساس ہوا کہ لڑکیوں کے لئے حدود و قیود کچھ مختلف ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ احساس شدت پکڑتا گیا کہ لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کو صرف گھومنے پھرنے کے معاملے میں نہیں بلکہ کسی بھی معاملے میں ایک جیسی آزادی اور حقوق حاصل نہیں ہیں۔ شاید اسی لئے مجھے جب موقع ملا، میں نے اپنا راستہ خود چنا اور اپنی زندگی کے فیصلے خود کیے۔ خیر اس کا ذکر آگے چل کر کریں گے۔

ابن صفی۔ ایک پوری نسل کے لئے دنیائے ادب کا دروازہ

کراچی واپس آکے امی نے ایک مرتبہ پھرمجھے پرانی نمائش پر واقع علامہ اقبال اسکول میں داخل کروا دیا۔ میں پبلک بس میں اسکول جاتی تھی۔ تب کراچی میں ڈبل ڈیکر بسیں بھی چلتی تھیں۔ ان ہی دنوں میرا تعارف ابن صفی کی تحیر انگیز تحریروں سے ہوا۔ کراچی میں آنہ لائبریری کا کلچر عام تھا۔ ہر محلے میں چھوٹی چھوٹی کتابوں کی دکان نما لائبریری ہوتی تھی جہاں سے معمولی کرایہ پر کتاب مل جاتی تھی۔ مطالعہ کا شوق تو مجھے بچپن سے تھا لیکن ابن صفی کی کتابوں کی بات ہی کچھ اور تھی۔ ان کی تحریریں ہمیں زندگی کی ایک مختلف جہت دکھاتی تھیں۔ اور ایک نئے جوش اور جذبے سے بھر دیتی تھیں۔ میں ان کی کتابوں کے کرداروں کے سحر میں گرفتار ہو گئی تھی۔ یہ کتابیں کسی طلسمی قالین کی طرح مجھے اسرار سے بھرپور کسی اور ہی دنیا میں لے جاتی تھیں۔ جس میں تحیر تھا، ایڈونچر تھا۔ وطن کی حفاظت اور اس کی خوبصورتی کو برقرار رکھنے کے لئے ان کتابوں کے مرکزی کردار اپنی ٹیم کے ساتھ برے لوگوں کے عزائم ناکام بناتے رہتے تھے۔

میری نسل کے بہت سے نوجوانوں کا ادب کی وسیع و عریض دنیا سے پہلا تعارف ابن صفی کی تحریروں کے ذریعے ہوا۔ مجھے ابن صفی کی کتابوں کی ایسی چاٹ لگی کہ امی کی ڈانٹ ڈپٹ کا بھی کچھ اثر نہیں ہوتا تھا اور میں رات گئے تک چھپ چھپ کر یہ کتابیں پڑھتی رہتی تھی۔ کرنل فریدی، کیپٹن حمیداور موٹا قاسم اب ان کتابوں کے کردار نہیں رہے تھے بلکہ میرے دوست بن گئے تھے۔ ہر نئی کتاب ایک نئی ملاقات کی طرح تھی۔ لیکن سب سے زیادہ محبوب اور مرغوب کردار تو عمران خان، ذہین اور انوکھے ’ایکس ٹو‘ کا تھا۔ دنیا کے سامنے وہ احمق اور مسخرا بنا رہتا تھا۔ لیکن اس روپ کے پیچھے ملک کی سب سے اہم انٹلی جنس ایجنسی کا سربراہ چھپا ہوا تھا۔ اس کے کردار کا یہ دہرا پن مجھے بہت متاثر کرتا تھا۔ اس کی ٹیم کی ایک جوشیلی اور ذہین رکن جولیانا فنزواٹر کو کون بھول سکتا ہے۔ ابن صفی نے ایک انوکھے انداز میں اپنے کرداروں کی مدد سے ایک نئی دنیا بسائی تھی۔ جو آپ کے تخیئل کو پرواز دیتی تھی اور آپ اس کے دل و جاں سے گرویدہ ہو جاتے تھے۔ ان کی کہانیاں صرف کہانیاں نہیں بلکہ تجربات تھے۔ اس بے تحاشا مقبولیت کے باوجود سنجیدہ ادبی حلقے ابن صفی کو ادیب نہیں گردانتے تھے۔ اور جاسوسی یا سری ادب کا شمار ادب میں نہیں کرتے تھے۔ ان کے جاسوسی ناول ممتاز ادبی نقادوں کے لئے قابل توجہ نہیں تھے۔

مجھے ان سب باتوں کی پروا نہیں تھی۔ میں ان ناولوں کی اتنی دیوانی تھی کہ میٹرک کے بورڈ کے اردو کے پرچے میں جب ”میری پسندیدہ کتاب“ پر مضمون لکھنے کے لئے آیاتو میں نے ابن صفی کی ایک کتاب پر مضمون لکھ ڈالا۔ میں تصور کر سکتی ہوں کہ اس مضمون کو پڑھ کر ممتحن پر کیا گزری ہو گی۔ جیسا کہ میں نے کہا ادبی اور تعلیمی حلقوں میں جاسوسی ادب کے خلاف اچھا خاصا تعصب پایا جاتا تھا۔ ممتحن نے مجھے اردو کے پرچے میں اتنے کم نمبر دیے کہ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ اسی وجہ سے میٹرک کے امتحانات میں میری سیکنڈ ڈویژن آئی۔

بہر حال سنجیدہ ادب اور پاپولر فکشن کے درمیان چلی آ رہی اس پرانی آویزش نے ہی ہمارے مطالعے کے شوق کو جلا بخشی۔ اور کتابوں سے عشق کی شدت میں اضافہ کیا۔ میں نے ابن صفی کی تحریروں کو کبھی ٹریش نہیں سمجھا۔ ابن صفی میرے لئے ایک اثاثہ تھے۔ ایک ایسا ادیب جس نے ایک پوری نسل کے تخیلات کو جلا بخشی بشمول اس لڑکی کے جو راتوں کو چھپ چھپ کر ان کی کتابیں پڑھتی تھی اور ان کے کرداروں کے سیکرٹ مشن کا حصہ بن جاتی تھی۔ (جاری ہے )

Facebook Comments HS