نظریہ حقوق نسواں Feminism


Feminism یعنی نسائیت ایک عقیدہ ہے جس کے مطابق خواتین کے لئے سیاسی، سماجی اور معاشی حقوق کا حصول اور ان کے لئے ملازمت اور تعلیم کے یکساں مواقع کو یقینی بنانا ہے۔ دنیا بھر میں عورتیں اس تحریک سے جڑی ہیں۔پاکستان میں بھی یہ تصور نیا نہیں۔ سالوں سے عورتیں Feminism کے پرچم تلے اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھاتی آ رہی ہیں۔ سوشل میڈیا نے ان خواتین کو ایک مضبوط پلیٹ فارم دے دیا ہے جہاں نہ تو ان کی آواز دبایا جا سکتا ہے اور نہ ہی انہیں روکا جا سکتا ہے۔ لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد ان خواتین کی مخالف ہے۔ایسی عورتوں کو بے حیا اور بے غیرت سمجھا جاتا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ وجہ بہت سادہ ہے۔ ہماری اکثریت feminism کو غلط سمجھتی ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ Feminism کی حامی خواتین مادر پدر آزاد گھومنا چاہتی ہیں۔وہ ایک ایسی آزاد زندگی گزارنا چاہتی ہیں جہاں وہ مردوں کی طرح صرف بنیان پہن کر چوک میں بیٹھ کرسگریٹ پیا کریں اور آتے جاتے لڑکوں پر جملے کسا کریں۔ یہ تصور بالکل غلط ہے۔

ہاں خواتین بھی آزاد ہونا چاہتی ہیں لیکن اس آزادی کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ وہ مردوں کے درمیان بیٹھ کر ان کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر ٹھٹھے لگانا چاہتی ہیں۔ Feminism کا مطلب یہ ہے کہ بطور ایک لڑکی مجھے بھی وہی حقوق حاصل ہوں جو اس معاشرے میں ایک لڑکے کو حاصل ہیں۔میری پیدائش پر بھی کھلے دل سے ایک دوسرے کو مبارکباد دی جائے۔ کھانے کا بہترین حصہ گھر کے مردوں کے لئے نہ رکھا جائے بلکہ اس کی مساوی تقسیم کی جائے۔مجھے بھی اسی مہنگے سکول میں داخل کروایا جائے جہاں میرا بھائی جاتا ہے۔ مجھے بھی تعلیم مکمل کرنے کے بعد نوکری کی اجازت ہو۔میری نوکری کی درخواست کو بھی ویسے ہی پرکھا جائے جیسے ایک مرد کی درخواست کو پرکھا جاتا ہے۔ میری درخواست کوصرف اس بنیاد پر رد نہ کر دیا جائے کہ یہ تو سال بعد شادی کر کے نوکری چھوڑ دے گی تو ملازمت دینے کا فائدہ؟

پی ٹی وی پر یونیسیف کے تعاون سے مینا نامی ایک کارٹون سیریز آیا کرتی تھی ۔ تھی تو وہ بچوں کے لئے مگر اس کا اصل فوکس ہمارے معاشرے کے بڑے بوڑھے تھے جو برسوں سے لڑکے اور لڑکی میں فرق کرتے آ رہے ہیں۔ مینا کی زندگی کے روز و شب دکھلا کر معاشرے کی توجہ اس صنفی امتیاز کی طرف دلائی گئی۔ مینا کی ماں اسے کم خوراک دیتی تھی اور بیٹے کو زیادہ کھانا دیتی تھی۔ مینا کو زیادہ کام کرنا پڑتا تھا اور اس کا بھائی بس آرام کرتا تھا۔ اس سادہ کہانی کے ذریعے بتایا گیا کہ یہ غلط ہے۔ لڑکیاں بھی لڑکوں کے برابر ہیں۔ انہیں بھی وہی کچھ مہیا کرنا چاہئے جو کہ لڑکوں کو کیا جاتا ہے۔ اسے کہتے ہیں Feminism۔

ہمارے معاشرے میں مرد اور عورت کے لئے الگ الگ پیمانے بنائے گئے ہیں۔ کوئی مرد صحافی بولڈ تحریر لکھ دے تو اس کی واہ واہ کی جاتی ہے۔ کوئی خاتون اگر ویسی کوئی تحریر لکھ دیں تو جی کریکٹر ڈھیلا ہے۔جب سے میں نے فیس بک پر اپنی رائے کا اظہار کرنا شروع کیا ہے میرے رشتے داروں کا دیسی پن کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ میری ہر پوسٹ دیکھ کر سب سے پہلے تو حسب توفیق ہا ہائے کی جاتی ہے پھر دوسرے رشتے داروں کو فون کر کے ہا ہائے کی جاتی ہے اور جب یہ ہا ہائے میرے والدین تک پہنچتی ہے وہ بے چارے پریشان ہو جاتے ہیں کہ یہ لڑکی کیا کر رہی ہے؟اب میں انہیں کیا جواب دوں؟ کسی صحافت کے طالب علم سے آپ اور کیا توقع کر سکتے ہیں؟ کیا وہ کسی لیبارٹری میں بیٹھ کر دو خبروں کو اداریے سے ملایا کرے اور ری ایکشن نوٹ کیا کرے؟ کبھی میں سوچتی ہوں اگر میں لڑکا ہوتی تب بھی ان لوگوں کا یہی ردِ عمل ہوتا؟ ہرگز نہیں۔

ہماری بیٹیوں کی بھی کوئی رائے ہو سکتی ہے۔ وہ بھی کسی سیاسی جماعت کو پسند نا پسند کر سکتی ہیں۔ وہ بھی کسی موضوع پر اپنی رائے دے سکتی ہیں۔ ہم آج تک اس چیز کو دل سے قبول ہی نہیں کر پائے۔ ہمارے نزدیک لڑکیاں گھر کے کچن میں ٹینڈے پکاتی ہی اچھی لگتی ہے۔ اس کے علاوہ ان کا کیا کام؟

Feminism مجھ سمیت ان سب لڑکیوں کی آواز ہے جو اس وقت اپنے ہی گھروں میں صنفی امتیاز کا شکار ہو رہی ہیں۔ Feminism ان تمام لڑکیوں کی آواز ہے جن کے بھائیوں سے تو پوچھا جاتا ہے کہ کوئی پسند ہے تو بتا دو۔ مگر ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ماں باپ کے تلاش کئے گئے لڑکے سے ہی شادی کریں۔ Feminism ان تمام عورتوں کی آواز ہے جنہیں صرف اس وجہ سے مردوں سے کم تنخواہ دی جاتی ہے کہ وہ عورت ہیں۔ Feminismان تمام عورتوں کی آواز ہے جنہیں کسی بھی کام سے بس یہ کہہ کر روک دیا جاتا ہے کہ یہ تمہارے کرنے کا کام نہیں۔مردوں کو کرنے دو۔کیا اب بھی آپ کو لگتا ہے کہ خواتین کو یہ مطالبات نہیں کرنے چاہئیں؟

Facebook Comments HS