ویٹی کن کا مقدس دروازہ
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ برطانیہ میں مذہب سے بیزاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نصف صدی پہلے تک اس ملک میں عیسائیت کے پیروکاروں کا تناسب 90 فیصد سے بھی زیادہ تھا جواب کم ہو کر صرف چھیالیس اعشاریہ پانچ فیصد 46.5 رہ گیا ہے جبکہ برطانیہ میں کسی بھی مذہب کے نہ ماننے والوں یعنی دہریے لوگوں کی تعداد 37.8 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ پونے سات کروڑ کی آبادی والے اس ملک میں صرف 6 فیصد مسلمان آباد ہیں جو برطانیہ کی سب سے بڑی مذہبی اقلیت ہیں۔ یوکے میں عیسائیت کے ماننے والے بھی مختلف فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں گزشتہ برس کی تحقیق کے مطابق اس وقت ملک میں سب سے زیادہ تعداد کیتھولک عیسائیوں کی ہے جن کا تناسب 25 فیصد ہے جبکہ پروٹسٹنسٹ (اینگلیکن) 21 فیصد پریس بیٹریرین گیارہ فیصد پینٹی کوسٹل 9 فیصد اور آرتھوڈاکس گیارہ فیصد ہیں۔
ایک زمانہ تھا کہ برطانیہ میں مذہبی رہنماؤں (پادریوں ) کو زندگی کے ہر معاملے میں غیر معمولی حیثیت حاصل تھی حتیٰ کہ سیاسی معاملات میں بھی اُن کی منشا اور رضامندی کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس ملک میں جوں جوں خواندگی کی شرح اور عقل و شعور کی بیداری میں اضافہ ہوا لوگوں نے اللہ اور بندے کے درمیان تعلق کے لئے پادریوں کی ٹھیکیداری اور وسیلے کو بالکل مسترد کر دیا۔ برطانوی معاشرے میں پادریوں اور گرجا گھروں کے کردار پر درجنوں دستاویزی اور فیچر فلمیں بن چکی ہیں۔ گزشتہ برس فرانس میں کیتھولک چرچ کے تین ہزار سے زیادہ پادریوں کے بارے میں ایک تحقیقی رپورٹ منظر عام پر آئی تھی جنہوں نے دو لاکھ سولہ ہزار سے زیادہ بچوں کو اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بنایا جن میں اکثریت چھوٹی عمر کے لڑکوں کی تھی۔
صرف برطانیہ ہی نہیں پورے یورپ اور ایشیا سمیت تمام براعظموں میں لوگ مذہبی انتہاپسندی کے غلبے سے نکل رہے ہیں۔ عیسائیت بھی آہستہ آہستہ سمٹ کر صرف ویٹی کن سٹی اور اس کے مخصوص پیروکاروں تک محدود ہو رہی ہے۔ یہ کس قدر تلخ حقیقت ہے کہ جن ملکوں اور معاشروں میں مذہب کو بالا دستی حاصل ہے وہاں نہ تو انسانی حقوق کی پاسداری کو اہمیت دی جاتی ہے اور نہ ہی وہاں دیانتداری اور انصاف کو اولیت حاصل ہے ایسے ممالک میں کرپشن، اقربا پروری، ملاوٹ، عدم برداشت اور منافقت عروج پر ہے۔ برطانیہ میں ہر سال سیکڑوں لوگ عیسائیت کو چھوڑ کر مسلمان ہو جاتے ہیں یا رام اور کرشنا کے پیروکار بن جاتے ہیں مگر کوئی ان سے قطع تعلق نہیں کرتا۔ اس ملک کے بہت سے چرچ (گرجا گھر) ایسے ہیں جہاں کوئی پادری یا عبادت کرنے والا میسر نہیں آتا تو اسے فروخت کر دیا جاتا ہے۔ برطانیہ میں درجنوں چرچ ایسے ہیں جنہیں مسلمانوں نے خرید کر معمولی رد و بدل کے بعد مساجد میں تبدیل کر دیا ہے۔
ایسٹ لندن کے رامفورڈ روڈ پر کئی سال پہلے ایک سینما (پکچر ہاؤس) ہوا کرتا تھا جہاں اب ادارہ منہاج القرآن کی مرکزی جامع مسجد قائم ہے۔ (اس جامع مسجد کی قانونی ملکیت کس کے نام ہے؟ مدیر) ایک وقت تھا کہ برطانیہ اور یورپ میں کرسمس اور ایسٹر کو مذہبی تہواروں کے طور پر منایا جاتا تھا مگر اب یہ تہوار مذہبی سے زیادہ سماجی اور تجارتی تہوار بن گئے ہیں یعنی ان تہواروں کے موقع پر بڑے چھوٹے کاروباری اداروں کی سیل اور منافع میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ تیس برس پہلے جب میں نیا نیا لندن آیا تھا تو ایسٹر کے موقع پر چھٹیوں کے دوران سڑکیں اور شاپنگ سنٹر ویران ہو جاتے تھے۔ گرجا گھروں میں عبادت کے لئے آنے والوں کی وجہ سے رونق اور گہما گہمی دکھائی دیتی تھی مگر گزشتہ تین دہائیوں کے دوران اس رجحان میں بڑی تیزی سے کمی ہوئی ہے اس سال ایسٹر پر تمام بڑے سٹورز اور تجارتی ادارے اپنے کاروبار میں مصروف رہے۔ چرچز میں بھی ویسی رونق نظر نہیں آئی البتہ پوپ فرانسس (جارج ماریو برگو گلیو) کا انتقال اس سال ایسٹر کی سب سے اندوہ ناک خبر تھی۔
مسیحیوں کے 88 سالہ روحانی پیشوا ایسٹر کے موقع پر اپنے مختصر خطاب کے چند گھنٹے بعد 21 اپریل کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے جس کے بعد دنیا بھر میں آباد عیسائیوں اور خاص طور پر کیتھولک مسیحی اداسی، غم اور رنج و ملال کی کیفیت میں مبتلا ہو گئے۔ ویٹی کن سٹی اس وقت دنیا کا سب سے چھوٹا ملک ہے جو اٹلی کے شہر روم کا حصہ ہونے کے باوجود ایک آزاد ریاست ہے جس کا آئینی سربراہ پوپ ہوتا ہے اور جو کیتھولک فرقے کے عیسائیوں کا روحانی پیشوا بھی ہوتا ہے اس وقت دنیا بھر میں عیسائیوں کی تعداد دو ارب 40 کروڑ ہے جن میں تقریباً 37 فیصد کیتھولک فرقے سے تعلق رکھتے ہیں اور ویٹی کن سٹی ان کے لئے سب سے مقدس مقام ہے۔ اس منفرد ملک کا کل رقبہ آدھا مربع کلومیٹر سے بھی کم ہے اور جس کی آبادی 882 افراد پر مشتمل ہے۔ ویٹی کن سٹی نے 1929 میں روم سے الگ ہو کر ایک الگ ملک کی حیثیت حاصل کی۔ اس ملک کو ورلڈ ہیریٹیج قرار دیا جا چکا ہے۔ ویٹی کن سٹی کے شہری انگور کی شراب پینے کے رسیا ہیں جبکہ یہاں سوئٹزرلینڈ کے 135 فوجی (گارڈ) ہر وقت پوپ کی حفاظت کے لئے چوکس رہتے ہیں۔ ویٹی کن سٹی میں سینٹ پیٹرز سکوائر کی بالکونی خاص اہمیت رکھتی ہے جہاں سے کرسمس اور ایسٹر کے علاوہ دیگر کئی اہم مواقع پر پوپ فرانس (بشپ آف روم) اپنے پیروکاروں کو اپنا دیدار کرانے کے لئے نمودار ہوتے ہیں۔
ان دنوں ویٹی کن سٹی میں نئے پوپ کے انتخاب کے لئے سرگرمیاں جاری ہیں ان سطور کی اشاعت تک نئے پوپ کو منتخب کیا جا چکا ہو گا۔ رومن کیتھولک چرچ کے نئے مذہبی رہنما (پوپ) کا انتخاب ویٹی کن سٹی کے سینئر پادری (کارڈینلز) کرتے ہیں اور یہ انتخاب خفیہ رائے شماری سے ہوتا ہے۔ اس وقت دنیا کے مختلف ملکوں میں رومن کیتھولک فرقے کے 252 ایسے بشپ موجود ہیں جنہیں کارڈینلز پوپ کی حیثیت حاصل ہے لیکن ان میں سے صرف 135 کارڈینلز نئے پوپ کے انتخاب میں حصہ لے سکتے ہیں۔ رومن کیتھولک چرچ کی تاریخ میں اب تک جو 226 کارڈینلز پوپ کے منصب پر فائز ہوئے اُن میں سے 217 کا تعلق اٹلی سے تھا۔ بی بی سی کی ایک رپوٹ کے مطابق ”نئے پوپ کے انتخاب کے لئے تمام کارڈینلز کو ویٹی کن سٹی کے پوپ کونکلیو میں مدعو کیا جاتا ہے۔ مندوبین سینٹ پیٹر میں کے بسیلیکا میں عبادت کے بعد سسٹین چیپل میں اکٹھے ہوتے ہیں جہاں ایکسٹرا اومنیس کا حکم صادر ہوتا ہے (لاطینی زبان میں اس کا مطلب ہوتا ہے، کارڈینلزکے سوا ہر ایک باہر چلا جائے، ویٹی کن سٹی کی سرکاری زبان لاطینی ہے )، پہلے دن ابتدائی ووٹنگ کے بعد تمام کارڈینلز اگلے روز صبح اور دوپہر کو دو دو مرتبہ پھر سے ووٹ ڈالتے ہیں تا وقتیکہ پوپ کے منصب کے لئے صرف ایک امیدوار کا نام باقی رہ جائے۔ دوسرے دن تک کوئی فیصلہ نہ ہونے کی صورت میں تیسرے دن تمام کارڈینلز غور و فکر اور دعا کرتے ہیں اور چوتھے دن پھر سے ووٹنگ ہوتی ہے۔ ووٹرز کی طرف سے کسی ایک امیدوار پر اتفاق ہونے کے بعد نئے پوپ کے نام کا اعلان کیا جاتا ہے۔ ووٹنگ کے دوران کارڈینلز ویٹی کن سے باہر نہیں جا سکتے انہیں ریڈیو سننے، ٹی وی دیکھنے، اخبارات پڑھنے اور ٹیلی فون یا موبائل کے استعمال کی بھی اجازت نہیں ہوتی۔ ایمرجنسی کی صورت میں ڈاکٹرز یا حفاظتی عملے کو بھی راز داری کا حلف دینے کے بعد کارڈینلز تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔
ووٹنگ کے دوران ہر روز دو بار استعمال شدہ بیلٹ پیپرز کو جلا دیا جاتا ہے، جلانے سے پہلے ان پر سفید یا سیاہ رنگ ڈالا جاتا ہے سسٹین چیپل کی چمنی سے نکلنے والا کالا دھواں غیر نتیجہ خیز ووٹنگ کی علامت ہوتا ہے جبکہ سفید دھواں یہ ظاہر کرتا ہے کہ نئے پوپ کا انتخاب کر لیا گیا ہے۔ پوپ کے انتخاب اور تصدیق کے بعد اُسے روایتی لباس پہنایا جاتا ہے اور تمام کارڈینلز اس کی فرماں برداری کا عہد کرتے ہیں اسی دوران سینیٹ پیٹرز کی بالکونی سے لاطینی زبان میں اعلان کیا جاتا ہے کہ“ ہیب مس پاپام ”جس کا مطلب ہوتا ہے کہ“ ہمارے پاس ایک پوپ ہے ”اس اعلان کے بعد نیا پوپ بالکونی میں آ کر اس ہجوم کے لئے دعا کرنے کے بعد مختصر خطاب کرتا ہے جو اپنے نئے مذہبی پیشوا کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے وہاں جمع ہوتے ہیں۔ پوپ کے انتخاب کے بعد ووٹنگ کے ہر مرحلے کے نتائج پوپ کو دکھائے جاتے ہیں اور پھر انہیں ویٹی کن آرکائیو میں محفوظ کر دیا جاتا ہے ہے ان دستاویزات کو دوبارہ صرف پوپ کے حکم پر ہی کھولا جا سکتا ہے“ ۔
ویٹی کن سٹی کے سینٹ پیٹرز گرجا گھر میں ایک مقدس دروازہ ایسا بھی ہے جس میں سے گزرنے والے عیسائیوں کا خیال ہے کہ وہ یہ رسم ادا کر کے اپنے گناہوں سے چھٹکارا حاصل کر کے جنت کے حق دار بن سکتے ہیں۔ یہ مقدس دروازہ آنجہانی پوپ نے گزشتہ برس 25 دسمبر کو کرسمس کے موقع پر کھولا تھا جو کہ 6 جنوری 2026 تک کھلا رہے گا۔ قیاس ہے کہ اس دوران تین کروڑ سے زیادہ کیتھولک عیسائی زائرین اور سیاح اس مقدس دروازے سے گزریں اور اپنے گناہوں سے نجات پائیں گے۔


