دردِ دریا: رسول بخش پلیجو کی برسی پر خراج تحسین


جنگ شاہی کے نواحی گوٹھ کے شہر خموشاں میں آج کچھ زیادہ ہی افسردگی چھائی ہوئی تھی۔ سائیں رسول بخش پلیجو کے چاہنے والے اس کے مرقد پر پھول اور اجرک چڑھا کر واپس جا چکے تھے لیکن سندھیانی تحریک سے وابستہ لڑکیوں اور خواتین کے گیتوں کی گونج ابھی تک فضا میں موجود تھی۔ گیت گا کر جانے والیوں نے اس یقین کے ساتھ گیت گائے تھے کہ لحد میں ابدی نیند سے آنکھیں موندے ہوئے انُ کا شفیق استاد، بے لوث رہنما ان کے گائے ہوئے گیتوں کو سنُ رہا ہو گا۔ قبرستان سے دور کچھ فاصلے پر سندھ دریا کے دم توڑتے ہوئے ڈیلٹا میں بچا کھچا پانی دریا کے دھارے کا پانی نہیں بلکہ اس بدنصیب دریا کی بوڑھی آنکھوں کے خشک ہوتے ہوئے آنسو تھے۔ ان آنسوؤں کو یقین تھا کہ ڈیلٹا سے کچھ دور قبر میں سویا ہوا اس کا عاشق ہی دریا کے درد کی انتہا کو سمجھ سکتا ہے۔ وہ سندھو دریا کے درد کو نہ سمجھے گا تو بھلا اور کون سمجھ سکے گا۔ لحد میں گہری نیند سو جانے والے اس انسان نے اپنی ساری زندگی دریا کے حق میں لڑتے ہوئے گزار دی تھی۔ دریا کو اپنا غم غلط کرنے کو اس بہتر انسان اور کہاں ملے گا۔ اجڑے ہوئے دریا کے ڈیلٹا میں ٹھہرے ہوئے آنسوؤں نے ہواؤں سے درخواست کی کہ وہ انہیں اپنے دوش پر سوار کر کے دریا کے محسن کی ابدی آرام گاہ تک لے جائیں۔ سندھو دریا کی لہروں پر منڈلاتی ہوئی ہوائیں بھی دریا کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر افسردہ رہتی تھیں۔ انہیں معلوم تھا کہ جس دن دریا نے دم توڑ دیا تو ان کا حسن بھی گہنا جائے گا، ان کی ٹھنڈک و فرحت بھی چھن جائے گی۔ آج جب دریا کی لہروں کو چھوُ کر یہ ہوا مستانی چال چلتی ہے تو گرمی سے جھلسے ہوئے انسانوں میں زندگی کی رمق دوڑ جاتی ہے۔ دریا کی موت سے ان کی ٹھنڈک جھلسا نے والی آگ میں بدل جائے گی۔ دریا کی موت کے سانحے کے بعد یہ ہوائیں جسے بھی چھوئیں گی وہ جھلس کر رہ جائے گا۔ یہ سوچتے ہوئے ہوائیں سندھو دریا کے اشکوں کو اپنے دوش پر لئے خراماں خراماں دریا کے محسن اور عاشق کی ابدی آرام گاہ کی جانب پرواز کرنے لگیں۔ ٹھنڈی ہوائیں غمزدہ آنسوؤں کو رسول بخش پلیجو کے مرقد پر پہنچا کر واپس ڈیلٹا کی جانب پلٹ گئیں۔

سندھ دریا کے آنسو مرقد میں داخل ہو گئے۔ آنسوؤں نے مرقد میں داخل ہو کر انسانی شکل اختیار کرلی۔ پانی سے بنے ایک نسوانی وجود کے نور سے قبر منور ہو چکی تھی۔ آنسوؤں سے بنے اس وجود کی وجہ سے مرقد میں ٹھنڈک پھیل چکی تھی۔ روشنی اور ٹھنڈک کے باوجود دنیا سے بے خبر پلیجو گہری نیند سویا ہوا تھا۔ دریا کے اشکوں کو اس بات کا ادراک تھا کہ جو شخص زندگی بھر گیتوں اور گیت گانے والی زرینہ کے گیسو سنوارتے رہا ہو اس شخص کو گیت سنا کر ہی گہری نیند سے بیدار کیا جاسکتا ہے۔ یہ سوچ کر آنسوؤں نے زرینہ کا گایا ہوا ایک گیت گانا شروع کر دیا۔ سندھ دریا کے اشکوں کا اندازہ درست ثابت ہوا۔ برسوں سے خوابیدہ پلیجو آنکھیں ملتا ہوا اٹھ بیٹھا۔ اسے یقین تھا کہ روز حشر آن پہنچا ہے۔ وہ دن کہ جس روز سب انسانوں کو قبروں سے جگا کر عدالت الٰہی میں پیش کر دیا جائے گا۔ وہ اس بات پر بہت خوش ہوا کہ آخر کار روز حساب آ گیا ہے۔ دنیا میں ایک قانون دان کی حیثیت سے عدالتوں میں وہ روز نا انصافیوں کو دیکھتے آیا تھا۔ وہ خوش تھا کہ الوہی انصاف کے مناظر وہ اپنی آنکھوں سے دیکھے گا۔ وہ دیکھے گا کہ دنیا کے لاچار انسانوں کو دائمی مصائب میں مبتلا کرنے والے اور اختیار کلُ رکھنے والے آمروں کو کس طرح جہنم میں دھکیلا جائے گا۔ وہ نہ جانے کب سے اس کائناتی روز انصاف کا منتظر تھا۔ پلیجو نے مرقد کی دیوار سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا:

” کیا روز محشر آ گیا ہے؟“
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے۔ جو لوح ازل میں لکھا ہے
جب ظلم و ستم کے کوہ گراں روئی کی طرح اڑ جائیں گے
ہم محکوموں کے پاؤں تلے جب دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی
ہم اہل صفا مردود حرم مسند پہ بٹھائے جائیں گے
کیا جس دن کا وعدہ تھا وہ آن پہنچا ہے؟

اشک مجسم نے جواب میں کہا: ”حشر تو نہ جانے کب برپا ہو گا مگر تیرے محبوب سندھو دریا پر قیامت ٹوٹ چکی ہے۔ تیرا دریا اپنے محبوب بحیرہ سندھ کی آغوش میں سمانے کے بجائے صحراؤں کی ریت میں گُم ہونے والا ہے۔ تو ُ سرمایہ داری کے جس عفریت سے زندگی بھر لڑتے رہا اس عفریت نے سندھو دریا کو معمولی سے لالچ کے ہاتھوں سرمایہ داری کے عفریت کے ہاتھوں بیچ دیا ہے۔“

یہ سن کر رسول بخش پلیجو کی روشن آنکھوں میں مایوسی کا اندھیرا چھا گیا۔ اس نے کہا: ”کون ہو تمُ۔ اپنا تعارف بھی نہیں کروایا بس فریاد شروع کر دی۔“

دریا کے اشک مجسم نے یہ سن کر کہا: ”یہ فریاد نہیں دردِ دل ہے جو دریا کا درد سمجھنے والے سے ہی کیا جاسکتا ہے۔ میں تیرے محبوب دریا کے آنسوؤں سے بنا ہوا وجود ہوں۔“

اب پلیجو کو مرقد میں پھیلے ہوئے نوُر میں پانی سے بنا ہوا نسوانی جسم نظر آ رہا تھا۔ اسے یقین آ گیا تھا کہ سندھو دریا کے آنسو ہی اس سے ہم کلام ہیں۔

پلیجو نے بہت بیتابی سے آنسوؤں سے دریافت کیا: ”کہیں کالا باغ ڈیم تو نہیں بن گیا؟“

اشکوں سے بنے وجود نے جواب میں کہا: ”میرے وجود پر برسوں سے بنے ہوئے ڈیمز جو مسلسل میرا گلا گھونٹ رہے ہیں۔ میری سانسیں روک رہے ہیں۔ اب اس سے بھی بڑا جرم ہو گیا ہے۔“

تیرے دریا کو دولت کے پجاریوں نے تو بیچ ہی دیا ہے کہ اس سے صحرا کی بنجر گود کو ہرا کر کے اس کی پیداوار کو دنیا کی منڈیوں میں بیچ کر جیبیں بھری جا سکیں مگر اب اس بھی بھیانک جرم ہو گیا ہے۔ ”

پلیجو نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا: ”آخر ایسا کون سا جرم ہو گیا ہے۔ بتاؤ۔ لیکن مجھے ایسی بری خبر سنانے سے پہلے سنبھال لینا کہیں غم کی شدت سے میرا کلیجہ نہ پھٹ جائے۔“

آنسوؤں کے وجود نے اپنے جذبات پر قابو پاتے ہوئے کہا: ”شیو اور پاروتی کے قدموں سے پھوٹتے ہوئے سندھو دریا کو شیو کی جنم بھومی سندھ پر بہنے سے روک دیا گیا ہے۔ شیو اور پاروتی کے نام کی مالا جپنے والوں نیتاؤں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اب سندھو دریا سندھ دھرتی پر نہیں بہے گا۔ سیاست کی نفرت میں سندھو دریا کی بلی چڑھانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔“

یہ سنتے ہی رسول بخش پلیجو کا چہرہ اس کے کفن کی مانند سفید ہو گیا۔ اس نے بے یقینی کے عالم میں کہا: ”یہ کیسے ممکن ہے کہ شیو اور ماتا کی جنم بھومی کو کوئی مورکھ بنجر کر کے اس پر بسے ہوئے انسانوں کو بھوک و پیاس سے مارنے کا خیال بھی دل میں لا سکے؟“

آنسوؤں کے وجود نے اشک بہاتے ہوئے کہا: ”پیارے پلیجو۔ تمہارا زمانہ قدرے بھلا تھا۔ اب مذہب کے رکھوالے اور دھرم سیوک سب ہی ایک جیسے ہوچکے ہیں۔ ان کو احساس بھی نہیں کہ دین دھرم کا وجود اس دھرتی پر بعد میں آیا ہے۔ پہلے اس پوتر پانی نے جانوروں اور انسانوں کو تخلیق کیا ہے۔ کیسا عجیب خیال ہے کہ تخلیق کے بنیادی مادے یعنی پانی سے انسان کی ہتھیا کرنے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔ حیات کے دھارے کو موت کی لہر میں بدلنے کے اقدامات شروع ہوچکے ہیں۔“

یہ سن کر پلیجو کی ہچکی بندھ گئی، اس نے اپنی آہ و زاری پر قابو پانے کے بعد کہا: ”اپنے مرقد میں کفن میں لپٹا ہوا یہ بے بس و بے کس انسان بھلا گریہ و زاری کے سوا اور کیا کر سکتا ہے؟“

اشک مجسم نے جواب میں کہا: ”دریا کے اس بزرگ عاشق کا دماغ اب بھی بہت توانا ہے۔ کوئی تو حل ہو گا تمہارے دماغ میں؟“

پلیجو نے کچھ دیر سوچنے کے بعد کہا: ”سندھو دریا کے جن آنسوؤں میں اتنی شکتی ہے کہ وہ مرقد میں آ کر برسوں سے خوابیدہ پلیجو کو جگا سکتے ہیں تو وہ انسانوں کے سوئے ہوئے ضمیر کو جگانے کی بھی اہلیت رکھتے ہیں۔“

رسول بخش پلیجو کے اس جواب سے دریا کے آنسوؤں کی ہمت بندھ گئی۔ اشکوں کا نسوانی وجود پلیجو کے قریب آ کر بیٹھ گیا۔ وہ اپنا کان پلیجو کے لبوں کے قریب لے آیا جیسے پلیجو کوئی راز کی بات کہنے والا ہو، اسے کوئی اور نہ سنُ لے۔

سندھو دریا کے اشکوں کے وجود نے کہا: ”میرے سچے سائیں۔ میں بھلا مردہ ضمیروں کو کیسے جگا سکتی ہوں؟“

رسول بخش پلیجو نے جواب میں کہا: ”سندھ ڈیلٹا سے دریا کی جنم بھومی کیلاش پربت تک بسے ہوئے انسانوں کے خوابوں میں مسلسل جا کر ان سے فریاد کرو۔ ان کے سامنے سندھو دریا کا نوحہ پڑھو۔ باضمیر انسان مورکھ پرشوں، دین اور دھرم فروشوں کو دھتکار دیں گے۔ سچے انسانوں کے سامنے مورکھ نیتا مٹی کے مادھو کی مانند ڈھیر ہوجائیں گے۔ مجھے وشواس ہے کہ دریا کو نئی زندگی اور انسانوں کو نیا جنم مل جائے گا۔ شیو اور ماتا کی دھرتی اجڑنے سے بچ جائے گی۔“

یہ سنتے ہی دریا کے آنسوؤں کے وجود میں امید کی لہر دوڑ گئی۔ اشکوں کے وجود نے بے اختیار رسول بخش پلیجو کو اپنی بانہوں میں سمیٹ لیا۔ اس کا کفن سندھو دریا کے اشکوں سے تر ہو گیا۔ مرقد میں پھر سے پرسکون خاموشی چھا گئی مگر قبر ہمیشہ کے لئے روشن ہو گئی۔

Facebook Comments HS