کیا پاکستان بدل رہا ہے؟


عیدالاضحیٰ کی چھٹیاں شروع ہو چکی ہیں۔ میں اس وقت لاہور کی ایک کافی شاپ میں بیٹھا سوچ رہا ہوں : کیا واقعی پاکستان بدل رہا ہے؟ میرے صاحبزادے کو یقین ہے کہ ان کی نسل ہماری نسل سے کہیں بہتر ہے۔ وہ اسے زیادہ ایماندار، میرٹ پر یقین رکھنے والی، محنتی، ذہین، منظم اور انسان دوست قرار دیتے ہیں۔

لیکن میں، جس نے نصف صدی کی عمر مکمل کر لی ہے، اس دعوے سے پوری طرح متفق نہیں ہوں۔ میرا مشاہدہ ہے کہ ہمارے ملک میں کوئی منظم نظام موجود ہی نہیں۔ یہاں امیر، مزید امیر تر ہوتا جا رہا ہے اور غریب محنت کش کی زندگی ہر روز مزید کٹھن ہو رہی ہے۔ ایسے میں نئی نسل کی برتری کا سوال ہی بے معنی معلوم ہوتا ہے، کیونکہ ہمارا معاشرہ ابتری اور انتشار کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اجتماعی بربادی ہمیں انفرادی سطح پر بہتر نہیں، بلکہ مزید پست بنا رہی ہے۔

تاہم، میں مکمل مایوس نہیں ہوں۔ میرا ماننا ہے کہ پاکستان کو ایک منظم، مہذب اور متوازن معاشرہ بنانے کے لیے ایک ہمہ گیر سماجی، سیاسی اور معاشی انقلاب کی ضرورت ہے۔ لیکن اس انقلاب کے امکانات فی الحال دکھائی نہیں دیتے۔

برسوں سے میرے ذہن میں یہ سوال گردش کرتا رہا ہے کہ وہ عالمی انقلاب، جو بظاہر نوشتہ دیوار بن چکا ہے، آخر کہاں سے شروع ہو گا؟ آج میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ تبدیلی اُن ملکوں سے جنم لے گی جو سیاسی، سماجی اور معاشرتی طور پر منظم اور بیدار ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ترقی یافتہ ملکوں کے باشعور نوجوان عالمی نا انصافیوں کے خلاف منظم ہو رہے ہیں۔ وہ ہر ظلم اور استحصال پر آواز بلند کر رہے ہیں، سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیوں انسانی ترقی کے ثمرات چند قوموں تک محدود ہیں؟ اور دنیا کی اکثریت سرمایہ دار طبقے کے ہاتھوں مسلسل استحصال کا شکار کیوں ہے؟

اس کے برعکس، پاکستان جیسے ممالک کئی دہائیوں کی ذہنی پسماندگی کا شکار ہیں۔ ہم سچائیوں کا سامنا کرنے سے کتراتے ہیں۔ نئی دریافتیں ہمیں خوفزدہ کرتی ہیں۔ یورپ اور امریکہ کی تیز رفتار ترقی کو ہم یا تو غیر فطری سمجھتے ہیں یا غیر شرعی قرار دے کر رد کر دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں کچھ نام نہاد ”اقدار“ ایسی مقدس گائے بن چکی ہیں جو ہمیں سوچنے سمجھنے سے روک دیتی ہیں۔

ہم ایک محدود ذہن رکھنے والی قوم ہیں۔ اجتماعیت کا شعور ہمارے ہاں مفقود ہے۔ ہمیں ہمیشہ صرف اپنی ذات کی فکر رہتی ہے۔ ہم ”قوم“ اور ”مذہب“ کے نعرے تو ضرور لگاتے ہیں، مگر نہ ہم کوئی قوم ہیں نہ ہماری کوئی عملی اخلاقیات۔ ہماری خودغرضی، خودپسندی اور نعرہ بازی ہمیں ایک کھوکھلا معاشرہ بناتی ہے۔

یہ مسئلہ صرف پاکستان تک محدود نہیں۔ بھارت اور دنیا کے دیگر پسماندہ ممالک بھی ایسے ہی فکری زوال کا شکار ہیں۔

یقیناً میرے اشتراکی دوست یہ اعتراض کریں گے کہ انقلاب کا آغاز کسی خاص مقام یا وقت سے مشروط نہیں ہوتا۔ لیکن میرا ماننا ہے کہ غیر منظم، بے شعور، غیر تعلیم یافتہ اور فکری طور پر مفلوج معاشرہ کبھی بھی کسی انقلابی جدوجہد کا محور نہیں بن سکتا۔

Facebook Comments HS