گئے دنوں کی عید، ایک حسین یاد


Faria Siddiqui

آج عید سے ایک رات قبل عید کے دن کی پیشگی تیاریوں سے جو بمشکل ذرا فراغت ہوئی تو اچانک یادوں کے فلیش بیک نے گئے دنوں کی حسین روایات سے سجی عید کی خوب صورت یادوں کو نظروں کے سامنے گویا اسکرین پر چلتے فلم یا کسی ڈرامہ کے منظر کی طرح پیش کر دیا۔ خوب صورت رشتوں کے درمیان منائی ہوئی بچپن کی عید کی مسرتوں بھری یادوں نے دل کو یک دم مسرور کر دیا۔ یہ احساس بھی ہوا کہ بچپن کے بے فکری اور خوشیوں بھرے دن کب ختم ہوئے پتا ہی نہ چلا کب ذمہ داریوں نے جکڑ لیا اور کب عیدی لینے والوں کی صف سے نکل کر عیدی دینے والوں میں شامل ہو گئے۔ مگر صاحب حقیقت یہی ہے کہ عید کا مزا جو گئے دنوں کی عید میں ہوا کرتا تھا وہ اب کہاں۔

عید کا ذکر سنتے ہی ذہن میں بے شمار خوبصورت یادیں تازہ ہو جاتی ہیں اور اگر بات بچپن کی عید کی ہو تو وہ محض عید نہیں خوشیوں سے بھرا کئی دنوں بلکہ ہفتوں پر محیط ایک میلہ ہوا کرتی تھی کہ جس کی کئی روزہ تیاری کی پلاننگ کے لئے بھی کئی دن درکار اور بہت سوں کے بہت سے مشورے شامل ہونا لازم تھے۔

عید کی آمد سے کئی روز قبل پہلا مرحلہ نئے کپڑوں کی خریداری کا ہوتا تھا۔ امی اور بڑی بہنوں کے ساتھ بازار جانا، رنگ برنگے کپڑوں کی دکانوں میں گھومنا، اپنی پسند کے ڈیزائن اور رنگ کا انتخاب کرنا۔ میں کیا پہنوں؟ کیسا سلواؤں؟ وہ اس ڈرامہ میں جو فلاں ہیروئن نے پہنا تھا وہ بہت اچھا تھا نا؟ باجی کا دوہتڑ سر پر پڑتا ”اپنی عمر دیکھو۔ بچی ہو بچی ہی رہو“

چوڑیاں، مہندی اور میچنگ جیولری کی خریداری، پھر سینڈلز۔ وہ بھلا کوئی چھوڑنے والا آئٹم تھا۔

چوڑیوں کی تو خیر بہت چھوٹی عمر سے ہی صرف عید کے دن پہننے کی آزادی ہوا کرتی تھی۔ لیکن چمچماتا شوخ رنگ ”پرس“ وہ ”لگژری“ تھی جو تب صرف اور صرف عید پر ہی میسر ہوا کرتی تھی اور کیوں نہ ہوتی۔ عیدی کی صورت ملنے والا مال و متاع کو محفوظ رکھنے کو بھی تو کچھ ہونا ضروری تھا۔

عید کی چھٹیوں سے قبل اسکول میں ہم جماعت بچیوں میں کھسر پھسر شروع ہو جایا کرتی تھی۔ کون کہاں سے عید کارڈ خریدنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ عید کی مناسبت سے ہر سال عید کارڈز پر لکھنے کے لئے نت نئے اوٹ پٹانگ اشعار کی آمد بھی شروع ہو جایا کرتی تھی۔

پھر اگر معاملہ بڑی عید کا ہو تو اس میں ایک اور اضافہ قربانی کے جانور کی خریداری، عید سے قبل اس کی دیکھ بھال سے لے کر قربانی اور پھر گوشت کی تقسیم تک کا بھی ہو جایا کرتا تھا۔ تب اکثر گھرانوں میں سارا سال پال کر جانور قربان کرنے کا رواج بھی عام تھا۔ پر ہمارے گھر ہفتہ دس دن پہلے ہی قربانی کے لئے بکرا یا دنبہ لایا جاتا اور ہر دفعہ امی کی خاص تاکید کہ ”گائے میں ایک حصہ ضرور لینا کوفتے اور کباب تو گائے کے گوشت کے ہی اچھے لگتے ہیں۔“

گھر میں جانور آنے کے بعد گھر بھر کے بچوں میں جیسے ایکسائٹمنٹ بھر جاتی۔ پہلے خوب صلاح مشورے کے بعد اس کا اچھا سا نام رکھا جاتا۔ پھر چارہ پانی کا خیال رکھنا بلکہ اپنے ہاتھوں سے چارہ کھلانے کی کوشش میں ہلکان رہنا۔ جانور کو نہلانا، سجانا، کنگھی تک کرنا۔ ان دنوں جانوروں کو ٹہلانے اور دوڑیں لگوانے کا رجحان نہیں تھا۔ قربانی کے جانور کی خدمت کی جاتی تھی۔ ہم تو اسے چاند رات پر مہندی بھی لگاتے۔ عید کے رات بڑی باجی کا ہاتھوں پر مہندی لگانا جس کی خوشبو سے گھر مہک اٹھتا تھا اور اس خوشبو سے الرجک بھائی جھنجھلاتے۔ ”لگاتی ہی کیوں ہو یہ گوبر“ ۔

اور ہمیں رات بھر سوتے ہوئے بھی یہی فکر رہتی تھی کہ مہندی خراب نہ ہو جائے اور ہمیشہ ہی صبح جاگنے پر ہاتھوں کے ساتھ ساتھ چہرے پر بھی مہندی کا پرنٹ ہوتا۔

عید کی صبح تب فجر کی اذان سے بھی قبل ہوا کرتی تھی۔ امی کچن سنبھال لیا کرتی تھیں۔ لازم تھا کہ عید گاہ سے واپسی پر مردوں کو گھر میں سب خواتین اور بچے تیار ملیں۔

پھر پُرتکلف ناشتہ اور عیدی کی وصولی کا سلسلہ۔ دس روپے کی عیدی بھی اس وقت ہزار روپے سے کم نہیں لگتی تھی۔ پھر اس عیدی کو حسب منشاء خرچ کرنے کے اختیار کی خوشی، عیدی کے پیسوں کو پرس میں سنبھال کر رکھنے کا ایک خاص احساس ہوتا تھا۔ یہ بچپن کی سب سے بڑی خوشی تھی۔

عید کا دن صرف لباس اور عیدی کا نہیں بلکہ مزیدار کھانوں کا بھی دن تھا۔ گھروں میں انواع و اقسام کے پکوان تیار ہوتے تھے۔ عید پر دسترخوان آج بھی سجتے ہیں مگر اف وہ امی کے ہاتھ سے بنے روایتی کھانے جن کی لذت بھلائے نہیں بھولتی۔ بالخصوص قوامی سویاں، جس کے تصور سے ہی آج بھی منہ میٹھا ہو جاتا ہے۔ پھر رشتہ داروں پڑوسیوں کا آپس میں ملنا۔ بچوں کی اپنی گپ شپ، اور ایک دوسرے سے عیدی کے حسابات کا موازنہ۔

آج جو ہر سال عید کے دنوں میں اپنے اور دوسروں کے بچوں کو دیکھتی ہوں تو دل بجھ سا جاتا ہے کہ ان معصوموں کو اس نام نہاد ترقی نے کتنی خوب صورت خوشیوں بھری روایات سے محروم کر دیا ہے۔ یہ کارپوریٹ کلچر کے دور میں جیتے اے آئی اور چیٹ جی پی ٹی کے ستم رسیدہ اتنی بے رنگ اور پھیکی سی عید مناتے ہیں کہ جس میں ان کے سبھی رشتے ناتے ورچوئل ہو چکے۔ یہ محبتوں کی حقیقی لذتوں سے کیسے دور ہوتے جا رہے ہیں کہ اب ان کے دوست نہیں کانٹکیٹ ہوتے ہیں۔ یہ فرمائش نہیں آنلائن آرڈر کرنے لگے ہیں۔ ان کی نظریں انسانوں سے زیادہ اسکرین کو دیکھنے کی عادی ہو چلی ہیں۔ اور اس سے بڑا دکھ یہ ہے کہ انہیں اپنے اس نقصان کا احساس بھی نہیں۔

Facebook Comments HS