چاند حاجی: دکان چنا چور کی، باتیں جنت کی!
اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک، حج، ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک بار فرض ہے۔ لاکھوں لوگ ہر سال خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہیں، منیٰ، عرفات اور مزدلفہ کی مقدس سرزمین پر قدم رکھتے ہیں، اور اللہ کے حضور جھکتے ہیں۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو انسان سے صبر، اخلاص اور مکمل بندگی کا مطالبہ کرتا ہے۔
لیکن کچھ لوگ حج سے واپس آتے ہیں تو صرف احرام اتارتے ہیں، ”انا“ نہیں۔ ان کے اندر عاجزی کم، حاجیانہ برتری زیادہ نظر آتی ہے۔
کہتے ہیں ہر سال لاکھوں لوگ حج پر جاتے ہیں، اور قبول بس کسی ایک کا ہوتا ہے۔ اب یہ ”ایک“ کون ہوتا ہے، یہ تو اللہ ہی جانے، لیکن محلے والے کہتے ہیں کہ وہ ”ایک“ بندہ ضرور انہی کی گلی سے ہوتا ہے۔
اب ہمارے محلے کے مشہور و معروف حاجی صاحب، جن کا نام ہے چاند، اور دکان ہے ”چاند چناچور“ ان کا ذکر نہ ہو تو بے ادبی سی لگتی ہے۔
چاند بابو کوئی عام حاجی نہیں والدین نے نام تو کچھ اور رکھا تھا لیکن اکلوتا ہونے کی وجہ سے چاند ہی کہلائے، ماشاءاللہ آٹھ شادیاں کر چکے ہیں۔ ایک گھر والوں کی پسند، باقی جو مل جائے : کنواری، بیوہ، مطلقہ، دس سال چھوٹی، بیس سال چھوٹی۔ یا بس سانس چل رہی ہو پسند ہی آ جاتی ہے۔ اب کی بار سنا ہے کہ چاند بابو نے کوئی پچیس سال چھوٹی کو پھنسایا ہے۔ سچ کہوں لوگ کہتے ہیں چاند کے پاس کوئی گیدڑ سنگھی ہے، حیرت چاند پر نہیں پھنسنے والی پر ہے۔ جس کا ساتھ باتھ میں چھپ کے وڈیو کال اور رات بھر باتیں چل رہی ہیں۔
چاند کی مثال چیونٹی بھرے کباب جیسی ہے اس کے پاس اگر کچھ ہے تو بس اپنا وجود اور وہ بھی ایسا کہ دیکھنے میں ساٹھ کے نیچے تو ہرگز نہیں لگتے، توند اب گھٹنوں کو چھو رہی ہے لیکن نظریں ہمیشہ آسمان کو۔ اور مزے کی بات یہ کہ ایسا درس دیتے ہیں جیسے مرتے ہی جنت میں ٹپا مار کے گر جائیں گے۔ گھر میں بیویوں اور بچوں کو ایسی نظر سے دیکھتے ہیں جیسے پرانی قسطوں کے بقایا ہوں، نہ کھانے کا پوچھنا، نہ کپڑوں کا دھیان۔ لیکن باہر ہر عورت کو ”رسیلے انداز میں مخاطب کرتے“ اور ایسی نظر مارتے ہیں جیسے نظر نہیں، ایکسپریس ٹرین ہو۔
بقرعید پر دس دن ناخن نہیں کاٹیں گے، بال نہیں تراشیں گے، لیکن سارا سال ”ذہنی آوارگی“ میں مبتلا رہیں گے۔ دین کی بات ایسے کریں گے جیسے تھوک میں ایمان بانٹ رہے ہوں، اور ہر وقت یہی دعویٰ: ”ہم سے بڑا حاجی ہو تو سامنے آئے!“
ایسے حاجیوں کے گرد ایک خاص قسم کا قبیلہ ہوتا ہے حاجی برادری۔ ہر سائز، ہر عمر، ہر رنگ میں دستیاب۔ کچھ نوجوان، کچھ ادھیڑ عمر، کچھ چاندی رنگے سب اس قبیلے میں برابر کی شریک، مشن سب کا ایک: ”دنیا میں حاجی، اصل میں ٹھرکی!“
اب دیکھنا یہ ہے کہ چاند چناچور والا حاجی اب کہاں جا کے رکتا ہے؟ کیونکہ جب نیت ٹھرک سے چور ہو، تو حج کے ثواب کا سوال ہی کیا؟!
قسمت والے ہوتے ہیں وہ لوگ جو چاند جیسے حاجیوں سے بچے رہتے ہیں۔ اور میری تو روز کی دعا ہے: ”یا اللہ! ہمیں حاجی نظر آنے والے حاجیوں سے محفوظ رکھے! آمین، ثم آمین، پلس حاجی بلاک اینڈ رپورٹ!”



چوں کہ نام ممکن ہے ویسا ہی ہو جیسا آپ نے لکھا ہے تو غلطی سے درگزر ممکن ہے
وگر نہ صحیح لفظ ۔۔۔ چنا جور ہے Chana Jor
–
شاعر کہتا ہے
دیکھیے آج کا اخبار چنا جور گرم
تیز الیکشن کا ہے بازار چنا جور گرم
–
اور بچوں کی ایک کہانی سے اقتباس:
سڑک کے کنارے بیٹھا پاپڑ والا یا ’چناجور گرم‘ والا ان کا انتظار کرتا رہتا ہے۔۔۔ یہ کسی دن چار پاپڑ اور کسی دن چار پڑیا چنا جور کی لے کر اس پر خوب مسالا ڈلوا کر ’سی سی‘ کی آوازوں کے ساتھ اسے کھاتے، آنسو پونچھتے اپنے اپنے گھر کی طرف چل دیتے ہیں۔