کیا زینب الرٹ کافی ہے؟ ایک ماہرِ اطفال کی آنکھ سے
عید کی تعطیلات میں چند فلمیں دیکھنے کا موقع ملا، جنھوں نے دل و دماغ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ ان میں شامل تھیں :
”Awakenings“ ۔ دماغی بیماریوں پر بننے والی ایک سنجیدہ فلم
”Straw“ ۔ نسلی امتیاز اور معاشی استحصال کا نوحہ
”Four Golden Days“ ۔ نشے کی لت سے نجات کی سچی کہانی
”Spotlight“ ۔ چرچ میں بچوں سے جنسی زیادتی اور ایک جری صحافتی ادارے کی تحقیقاتی رپورٹنگ
خصوصاً ”اسپاٹ لائٹ“ نے مجھے بطورِ ماہر اطفال اپنے پیشہ ورانہ و اخلاقی فرض کی یاد دلائی: ہمیں پاکستان میں مذہبی مدارس اور دیگر اداروں میں بچوں پر ہونے والے جنسی تشدد کے بارے میں کھل کر بات کرنا ہوگی۔
چند غیر سرکاری تنظیمیں جیسے ساحل اور پہچان اس محاذ پر متحرک ہیں، لیکن مجموعی طور پر یہ مسئلہ ابھی بھی معاشرتی خاموشی اور بے حسی کی نذر ہے۔
2018 میں قصور کی معصوم بچی زینب انصاری کے ساتھ ہونے والے سانحے کے بعد حکومت نے زینب الرٹ، ریسپانس اینڈ ریکوری ایکٹ 2020 نافذ کیا۔ اس قانون کے تحت زینب الرٹ، ریسپانس اینڈ ریکوری ایجنسی (ZARRA) کا قیام عمل میں آیا، جس کا مقصد گمشدہ یا اغوا شدہ بچوں کی فوری بازیابی کو یقینی بنانا ہے۔
قانون کی چند اہم شقیں
فوری ایف آئی آر: پولیس کو بچے کی گمشدگی کی اطلاع ملنے کے دو گھنٹے کے اندر ایف آئی آر درج کرنا لازم ہے۔
تیز عدالتی کارروائی: مقدمات کو تین ماہ کے اندر نمٹایا جانا چاہیے۔
ٹیکنالوجی کا استعمال: ہیلپ لائنز، آن لائن ڈیٹا بیس اور زینب الرٹ ایپ کے ذریعے شہری رپورٹنگ کر سکتے ہیں۔
سزائیں : زیادتی، اغوا یا بدسلوکی کے مرتکب افراد کو سخت سزائیں، بشمول عمر قید یا سزائے موت دی جا سکتی ہے۔
تاہم جب میں نے 1099 پر کال کر کے اس ہیلپ لائن کی فعالیت جاننی چاہی، تو ریکارڈڈ پیغام سنا:
”زینب الرٹ ہیلپ لائن عید کی تعطیلات کے باعث عارضی طور پر بند ہے۔“ یہ سن کر افسوس ہوا۔ ایک ایسی سروس جو 24 گھنٹے فعال ہونی چاہیے، وہ عید پر بند ہونا خطرناک بے حسی کی علامت ہے۔ متبادل کے طور پر 1121 پر رپورٹ دی جا سکتی ہے، لیکن یہ ٹال فری نہیں ہے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ زینب الرٹ ایپ گوگل پلے اسٹور پر دستیاب ہے۔ اسے انسٹال کر کے ہم رپورٹنگ کا عمل آسان بنا سکتے ہیں۔
چند تلخ حقائق
پاکستان میں ہر دو گھنٹے بعد ایک بچہ جنسی زیادتی کا شکار ہوتا ہے۔
روزانہ 12 کیس رپورٹ ہوتے ہیں، لیکن اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ زیادہ تر واقعات رپورٹ نہیں ہوتے۔
اکثر مجرم قریبی رشتہ دار یا جاننے والے ہوتے ہیں۔
سماجی بدنامی اور قانونی پیچیدگیوں کے باعث خاندان خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔
جنسی زیادتی کا شکار بچے تعلیمی میدان میں پیچھے رہ جاتے ہیں، ان کا اعتماد ٹوٹ جاتا ہے، اور بعض اوقات وہ عمر بھر کے نفسیاتی مسائل میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ خصوصی بچوں میں یہ خطرہ اور بھی بڑھ جاتا ہے۔
مدارس کے معلمین کے خلاف بچوں سے زیادتی کے واقعات کئی بار رپورٹ ہو چکے ہیں۔ میری ذاتی رائے میں، جب تک ان اداروں میں شفافیت، نگرانی اور تربیت کا موثر نظام نہیں لایا جاتا، والدین کو احتیاط برتنی چاہیے۔
بچوں کا تحفظ صرف والدین یا حکومت کی ذمہ داری نہیں۔ یہ ہم سب کی اجتماعی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ اگر آپ کو کسی بچے کے رویے میں اچانک تبدیلی، جسمانی علامات یا تعلیمی کارکردگی میں گراوٹ دکھائی دے، تو خاموش مت رہیے۔ اگر کسی گھر میں زیادتی کا شبہ ہو اور والدین اسے چھپانے کی کوشش کر رہے ہوں تو آپ گمنام رہ کر بھی رپورٹ کر سکتے ہیں۔ خاموشی مجرم کی ہمت بڑھاتی ہے۔ آواز اٹھائیں۔ کیونکہ ہر بچہ، چاہے وہ کسی مدرسے میں ہو یا اسکول میں، محفوظ بچپن کا حق دار ہے۔


