چھوڑو سانحہ جڑانوالہ، آؤ بنائیں بُلبُلے
آؤ بنائیں بُلبُلے، آؤ بنائیں بُلبُلے! چند دہائیاں بیت گئیں جب ہم سکول کی درسی کُتب میں یہ نظم پڑھا کرتے تھے تو دل میں ایک معصوم سی خوشی اور ہنسی مچ جاتی تھی۔ لگتا تھا جیسے دنیا میں سب کچھ اتنا ہی سادہ اور خوبصورت ہے جتنا صابن کا ایک رنگین بُلبلہ۔ مگر پھر جب ہم نے زندگی کی کتاب کھولی، معاشرے کا ورق پلٹا، سماج کا عملی حصہ بنے اور وطنِ عزیز میں مسیحی اقلیت ہونے کا تجربہ حاصل ہوا تو معلوم ہوا کہ یہ سطریں تو ایک تلخ حقیقت کا طنزیہ بیان بن چکی ہیں۔
اب اقلیتوں کے خلاف جب بھی کوئی دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آتا ہے تو بچپن کی وہ نظم یاد آ جاتی ہے کیونکہ اردگرد کچھ بھی ہو ہم سب یک دم ایک ساتھ جاگ اٹھتے ہیں۔ ہمارا میڈیا، سوشل میڈیا، قانون، نظامِ انصاف حتیٰ کہ حکمران بھی ’مقدس امانت‘ کی حفاظت میں چاق و چوبند نظر آنے لگتے ہیں۔ چار سوُ چیخ و پکار ہوتی ہے، مذمت کے بیانات داغے جاتے ہیں، کسی نہ کسی پر الزامات کی بوچھاڑ ہونے لگتی ہے پھر کچھ وعدے اور دعوے کیے جاتے ہیں اور کچھ عرصہ بعد سب کچھ بھول بھُلا کر سب کے سب بُلبُلے بنانے لگ جاتے ہیں۔ یوں اقلیتوں کی انصاف کی آس اور اُمید کے بھرم بھی بُلبُلے بن کے ہوا میں تحلیل ہونے لگتے ہیں بالکل کسی خوبصورت، چمکتے دھمکتے مگر اندر سے کھوکھلے بُلبُلے کی مانند جو ہوا میں کچھ دیر ٹھہر کر بے آواز پھٹ جاتا ہے۔ اقلیتوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔
اگست 2023 کا وہ قیامت خیز دن کسے یاد نہیں کہ جب اہانتِ دین کے مبینہ جھوٹے الزام پر جڑانوالہ میں مسیحیوں کی بستیوں میں جلاؤ گھیراؤ کا بازار گرم کیا گیا؟ گرجا گھر جلائے گئے اور ’دوسرے درجے کے شہریوں‘ کی زندگی بھر کی پونجی راکھ کا ڈھیر بن گئی۔ اس وقت حکومتی عہدیداروں کی دوڑیں لگ گئیں۔ نگران وزیرِ اعلیٰ سے لے کر نگراں وزیراعظم بلکہ چیف جسٹس آف پاکستان سب نے متاثرین کی داد رسی کی، دکھ کا اظہار کیا، زخموں پر مرہم رکھا، معاوضوں کا اعلان ہوا، گرجا گھروں اور گھروں کی تعمیرِ کے بلند و بانگ دعوے، ملزمان کو کیفرِ کردار تک پہنچانے اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے وعدے ہوئے۔ تب ایسا محسوس ہوا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اب انصاف ہو گا، تاریخ بدلے گی کیونکہ ریاست اپنے شہریوں کے تحفظ کے لئے اُٹھ کھڑی ہوئی ہے، مگر بعد ازاں عملاً کچھ بھی نہ ہوا سبھی فقط بُلبُلے بنانے میں لگے رہے۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ دنوں فیصل آباد کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے جڑانوالہ میں گرجا گھروں اور مسیحیوں کی املاک کو نذرِ آتش کرنے کے الزام میں گرفتار 10 ملزمان کو بری کر دیا گیا۔ گویا کچھ ہوا ہی نہ تھا۔ عدالت میں متاثرین کی نمائندگی کرنے والی قانونی کمیٹی نے اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا ارادہ ظاہر کرنے کے ساتھ ساتھ اس سانحے کی از سرِ نو تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ مذہبی رہنماؤں کے مطابق ”عدلیہ کا اس قدر کھلے عام تشدد اور نفرت کے واقعات سے آنکھیں چرانا انتہائی دل دہلا دینے والا ہے۔“
انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق سانحہ جڑانوالہ میں 5,213 مشتبہ افراد کی شناخت کی گئی تھی لیکن صرف 380 کو گرفتار کیا گیا جن میں سے 4,833 افراد اب بھی آزاد گھوم پھر رہے ہیں۔ مزید یہ کہ سانحہ جڑانوالہ کے تقریباً 40 فیصد متاثرین اب بھی حکومتی معاوضے کے منتظر ہیں۔
سانحہ جڑانوالہ سے قبل بھی بُلبُلے بنانے کا یہ عمل جاری تھا اور آج بھی ہے۔ کسی بھی سانحے کو نہ تو سنجیدہ لیا گیا، نہ ہی ملزمان کو ’قرار واقعی‘ سزائیں دی گئیں اور نہ ہی ایسے واقعات کی روک تھام کا انتظام کیا گیا۔
شانتی نگر ( 1997 ) کے واقعہ میں سینکڑوں ملزمان گرفتار ہوئے، بیشتر کو نچلی عدالتوں سے سزائیں سنائی گئیں تاہم زیادہ تر ملزمان کو اپیلوں کے بعد یا تو بری کر دیا گیا یا ان کی سزائیں کم کر دی گئیں۔
سانگلہ ہل ( 2005 ) کے بعد پولیس نے سینکڑوں افراد کو گرفتار کیا۔ نچلی عدالتوں نے کچھ ملزمان کو جلاؤ گھیراؤ اور ہنگامہ آرائی کے الزامات میں سزائیں بھی سُنائیں تاہم یہ سزائیں جرم کی شدت سے مطابقت نہیں رکھتی تھیں۔ وہاں پر اس بڑے پیمانے پر ہونے والے تشدد اور تباہی کے پیچھے جو اصل مجرم یا منصوبہ ساز تھے، انہیں موثر طریقے سے سزائیں نہیں دی گئیں۔
گوجرہ ( 2009 ) میں مسیحیوں کی رہائشی آبادی پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجہ میں آٹھ مسیحیوں کو زندہ جلا دیا گیا، جن میں بچے بھی شامل تھے۔ نیز درجنوں گھروں اور ایک چرچ کو نذر آتش کر دیا گیا۔ اس واقعہ کے بعد درجنوں مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا تاہم بعد ازاں تمام ملزمان کو بری کر دیا گیا۔
جوزف کالونی ( 2013 ) میں جہاں ایک مشتعل ہجوم نے مسیحیوں کی بستی پر حملہ آور ہو کر 100 سے زائد گھروں اور دو گرجا گھروں کو نذر آتش کر دیا۔ اس سانحہ کے بعد بھی دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے گرفتار 115 ملزمان کو بری کر دیا۔
درجہ بالا چند واقعات کے علاوہ مسیحیوں کے خلاف دیگر متعدد واقعات میں ملزمان کو نظام عدل سے سزائیں نہیں ملیں۔ گویا تمام کے تمام صاحبانِ با اختیار بُلبُلے بنانے میں مگن رہے، جیسے کہ کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ کسی بھی دور میں ان سانحات کے بعد انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے دعووں کو حقیقت میں بدلنے کی ذرا برابر سعی نہیں کی گئی اور اب کی بار سانحہ جڑانوالہ کے ملزمان بھی بری ہو گئے جیسے کہ کچھ ہوا ہی نہ تھا۔ ان کو اب کیا کہا جائے، ستُو پی کر سوئے تھے یا بُلبُلے بنانے میں مگن ہیں؟
جب تک ہمارے معاشرے میں یہ ”بُلبلے“ بنانے کا سلسلہ جاری رہے گا، اقلیتیں اسی طرح بے آسرا رہیں گی اور انصاف کی پیاس لیے اپنے زخم چاٹتی رہیں گی۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم اس کھیل کو ختم کریں اور حقیقی انصاف کی بنیاد رکھیں، ورنہ بُلبُلے بنانے کا یہ رویہ ایک دن ہمارے اجتماعی ضمیر کو بھی فنا کردے گا۔


