آٹیزم یا آٹیزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر
آٹیزم (Autism) یا آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر (ASD) ایک اعصابی و ارتقائی بیماری ہے جو بچوں میں ابتدائی عمر ہی سے ظاہر ہونے لگتی ہے۔ یہ بیماری فرد کی سماجی مہارتوں، بول چال، رویے اور سیکھنے کی صلاحیت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ آٹیزم کو ”اسپیکٹرم“ کہا جاتا ہے کیونکہ یہ مختلف افراد پر مختلف طریقے سے اثر انداز ہوتا ہے، کسی کو معمولی دشواریاں ہوتی ہیں تو کسی کو شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
آٹیزم کی علامات
آٹیزم کی علامات مختلف ہو سکتی ہیں لیکن عمومی طور پر درج ذیل پہلوؤں میں مسائل پائے جاتے ہیں :
1۔ سماجی تعامل میں مشکلات:
آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہ کرنا
دوسروں کے جذبات نہ سمجھ پانا
دوست بنانے میں دقت محسوس کرنا
اکیلا رہنے کو ترجیح دینا
2۔ زبان و اظہار میں دقت:
بولنے میں تاخیر
الفاظ کا غیر معمولی انداز میں استعمال
گفتگو کے دوران موضوع بدلنا
غیر معمولی لہجے یا آواز میں بات کرنا
3۔ رویوں میں تکرار:
ایک ہی حرکت بار بار دہرانا
معمولی تبدیلی سے پریشانی
مخصوص اشیاء سے حد درجہ دلچسپی
مخصوص معمولات کی سختی سے پیروی
آٹیزم کی وجوہات
آٹیزم کی کوئی واحد وجہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے جینیاتی اور ماحولیاتی عوامل کا امتزاج ہو سکتا ہے۔
جینیاتی عوامل: کئی تحقیقات نے ثابت کیا ہے کہ آٹیزم موروثی ہو سکتا ہے۔ اگر خاندان میں کسی کو آٹیزم ہو، تو دوسرے بچوں میں بھی اس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ماحولیاتی عوامل: دوران حمل ماں کی صحت، غذائیت، انفیکشنز، یا مخصوص دو اؤں کا استعمال آٹیزم کے خطرے میں اضافہ کر سکتا ہے۔
دماغی ساخت: آٹیزم میں مبتلا افراد کے دماغ کی ساخت یا فعالیت دیگر افراد سے مختلف ہو سکتی ہے۔
آٹیزم کی تشخیص
آٹیزم کی تشخیص عموماً بچے کی عمر کے پہلے تین سال میں کی جا سکتی ہے۔ یہ تشخیص ماہر نفسیات، بچوں کے ماہرین، یا آٹزم کے ماہر ڈاکٹروں کے ذریعے کی جاتی ہے۔ تشخیص میں درج ذیل طریقے شامل ہوتے ہیں :
مشاہدہ (Observation)
والدین سے انٹرویو
سلوک کا ٹیسٹ
بول چال اور زبان کے جائزے
آٹیزم کا علاج اور سپورٹ
آٹیزم کا کوئی مکمل علاج نہیں، لیکن مختلف تھراپیز اور تربیتی پروگرامز کے ذریعے بچوں کو بہتر زندگی گزارنے میں مدد دی جا سکتی ہے۔
1۔ سپیشل ایجوکیشن
بچوں کے لیے مخصوص نصاب
ان کی سیکھنے کی رفتار کے مطابق تعلیم
2۔ سپیچ (بولنے ) کی تھراپی
زبان و اظہار کی صلاحیت بہتر بنانے میں مدد
3۔ بیہویور (برتاؤ) بارے تھراپی (ABA)
مثبت رویوں کو فروغ دینا اور منفی رویوں کو کم کرنا
4۔ آکیوپیشنل تھراپی
روزمرہ کے کاموں میں خود کفالت سکھانا
5۔ دو اؤں کا استعمال
اگر آٹیزم کے ساتھ کوئی اور بیماری ہو (جیسے بے چینی یا مرگی) ، تو اس کے لیے ادویات دی جا سکتی ہیں۔
والدین اور معاشرے کا کردار
آٹیزم کے شکار بچوں کی تربیت میں والدین اور معاشرے کا کردار بہت اہم ہوتا ہے :
والدین کی حوصلہ افزائی اور صبر
معاشرتی قبولیت اور ہم آہنگی
آگاہی مہمات
شاملِ نصاب تعلیمی ادارے
آٹیزم کے بارے میں عام غلط فہمیاں
1۔ آٹیزم ذہنی پسماندگی نہیں، بلکہ ایک نیورولوجیکل مسئلہ ہے۔
2۔ ہر آٹیسٹک بچہ الگ ہوتا ہے، یہ بچے ایک جیسے نہیں ہوتے۔
3۔ آٹیزم والدین کی تربیت کی کمی کی وجہ سے نہیں ہوتا۔
4۔ آٹیزم میں مبتلا بچے مختلف شعبوں میں غیر معمولی صلاحیت بھی رکھتے ہیں، جیسے موسیقی، حساب، یا یادداشت۔
آٹیزم ایک چیلنجنگ حالت ضرور ہے، لیکن وقت پر تشخیص، موزوں تھراپیز اور والدین و معاشرے کی مدد سے آٹیسٹک افراد ایک کامیاب اور خود مختار زندگی گزار سکتے ہیں۔ ہمیں ایسے بچوں کو تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے ان کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کرنی چاہیے تاکہ وہ معاشرے کا فعال حصہ بن سکیں۔ معاشرے میں اس بیماری کے بارے میں آگاہی انتہائی ضروری ہے۔ مغربی معاشرے میں تو اس بیماری کے لئے کافی سہولیات مہیا کی جاتی ہیں۔


