فرخندہ شمیم: ایک مکمل عہد کی ترجمان


Tahir Zaland

فرخندہ شمیم، یا مسز احمد، ایک ایسا نام ہے جسے روایتی حلقوں میں زیادہ شہرت نہیں ملی، مگر دراصل یہ نام ایک عہد کی داستان ہے جو حوصلے، قربانی، شعور، خلوص اور بے مثال قیادت کا نمونہ پیش کرتی ہے۔ کراچی کے کاروباری افق تک پہنچنے والا یہ نام، نہ صرف ایک خاتون کی شخصی ترقی کا سفر ہے بلکہ جنوبی ایشیا کی سیاسی، معاشرتی اور ثقافتی کشمکش کا آئینہ بھی ہے۔

فرخندہ کی شخصیت کی اولین تشکیل اُن کی دادی کے زیرِسایہ ہوئی، جن کی اصول پسندی، معاشرتی فہم، اور کاروباری بصیرت نے فرخندہ کے شعور میں روشنی کے چراغ جلائے۔ دادی کے تجربات نے نہ صرف اس کے ذہن کو جِلا بخشی بلکہ مستقبل میں آنے والے ہر مشکل لمحے کے لیے انہیں تیار کیا۔ ان کی تربیت میں سب سے اہم کردار ان کی دادی کا تھا۔ دادی نہ صرف نظم و ضبط اور سماجی سلیقے کی مجسم تصویر تھیں بلکہ کاروباری بصیرت میں بھی مردوں سے کم نہ تھیں۔ انہوں نے اپنی پوتی کو دیانت، اصول پسندی اور خودداری کا عملی سبق دیا۔

فرخندہ شمیم کا جنم 1944 کو ہندوستان کے تاریخی و تہذیبی شہر برہان پور میں ہوا، جہاں ہر گلی، ہر در و دیوار میں تاریخ کی سانسیں محفوظ تھیں۔ ان کا تعلق ایک ایسے گھرانے سے تھا جس میں اصول، ایمانداری، تہذیب اور سماجی شعور گھٹی میں شامل تھا۔ ان کے والد سید افتخار علی برطانوی ہندوستان میں بمبئی کسٹم میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیسے عہدے پر فائز رہے اور اپنی اصول پسندی اور دیانت داری کے باعث ہر سطح پر قابلِ احترام سمجھے گئے۔

فرخندہ شمیم نے ابتدائی تعلیم برہان پور میں حاصل کی۔ 1959 ء میں انہوں نے میٹرک کا امتحان دیا۔ بچپن سے ہی تعلیم کے ساتھ ساتھ ادب کا ذوق نمایاں تھا۔ اسٹیج ڈرامے، مکالمے، نظمیں اور اجتماعی سرگرمیوں میں وہ ہمیشہ نمایاں رہتیں۔ بلکہ بچپن ہی سے اردو ادب سے خصوصی دلچسپی رہی۔ غالب، فیض اور میر کے اشعار انہیں زبانی یاد رہتے تھے۔ اگرچہ ریاضی ان کے لیے چیلنج رہا، لیکن زبان و ادب کی دنیا میں ان کا ذوق نمایاں رہا۔ یہی ذوق آگے چل کر ان کی فکری تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتا رہا۔ معاشرے میں خواتین کی محدود موجودگی کے باوجود وہ شعر و ادب کی محفلوں میں پردے میں رہ کر شریک ہوتیں۔ یہ وہ دور تھا جب ایک باحیا، تعلیم یافتہ، اور تخلیقی سوچ رکھنے والی لڑکی کے لیے آگے بڑھنا آسان نہ تھا۔

1961 ء میں انہوں نے چٹاگانگ کالج میں داخلہ لیا اور انگلش لٹریچر میں بی اے آنرز کا آغاز کیا۔ مگر تعلیم مکمل ہونے سے قبل ہی ان کے والدین نے ان کی شادی سید علا الدین احمد سے طے کر دی، جو خود بھی اسی کالج میں زیر تعلیم تھے۔ گھریلو لڑکی کی ازدواجی زندگی کا یہ فیصلہ والدین کی مرضی سے ہوا، لیکن فرخندہ نے اسے دل سے قبول کیا، اور یہی قبولیت ان کی زندگی کا ایک بڑا موڑ ثابت ہوئی۔

شادی کے بعد وہ چٹاگانگ میں آباد ہوئیں، جہاں زندگی نے ایک نیا رخ لیا۔ ان کے شوہر کاروبار سے وابستہ تھے اور انہوں نے آہستہ آہستہ اپنے شوہر کے ساتھ دفتر کے معاملات سنبھالنے شروع کیے۔ اس دوران وہ بنگالی زبان کی تحریک 1952 ء اور بعد میں 1971 ء کی جنگ کے واقعات سے گزر کر زندگی کے گہرے اور تلخ تجربات سے روشناس ہوئیں۔

1971 ء کی جنگ کے دوران، جب چٹاگانگ میں خون ریزی عام تھی، انہوں نے حافظ ٹیکسٹائل ملز کے مالک حافظ صاحب کے گھر میں پناہ لی وہاں سے پورے خاندان کو بچا کر مغربی پاکستان، یعنی کراچی منتقل ہوئیں۔ یہ ہجرت ایک نئے سفر کا آغاز تھی، لیکن صدمات کا اختتام نہ تھا۔

کراچی آ کر فرخندہ شمیم نے پھر سے زندگی کا دھارا سنبھالا۔ ان کے شوہر زیادہ سگریٹ پینے کی وجہ سے دل کے مریض بن چکے تھے اور وقتاً فوقتاً ہسپتال میں داخل رہتے۔ علالت ہی میں انہوں نے اپنے شوہر کے ساتھ دفتر جانا شروع کیا، اور Associated Lines Agencies کی بنیاد رکھی۔

جولائی 1980 ء میں ان کے شوہر سید علا الدین احمد کے انتقال کے بعد ، جب زندگی مزید کٹھن ہوئی، معاشی تنگدستی یہاں تک لے آئی کہ گھر کا کرایہ ادا کرنے کے لئے معاشرتی پردے میں رہنے والی یہ خاتون گھر سے نکل کر اپنے شوہر کے دفتر جا پہنچتی ہے۔ دفتر کے آس پاس کے مرد طنزیہ جملے کستے ہیں، طعنے دیتے ہیں، لالچ دیتے ہیں، وہ تنگ آ کر آفس کا لائسنس بیچنے کا سوچتی ہے مگر اچانک حیدر آباد میں تعینات ان کے والد سید افتخار علی اسے پیغام پہنچاتا ہے کہ کچھ بھی ہو جائے مگر آپ نے لائسنس نہیں بیچنا۔ والد کی زیرِ نگرانی اور ان کی دعاؤں کے سائے میں فرخندہ نے نہ صرف کاروبار کو سنبھالا بلکہ اس میں وسعت بھی پیدا کی۔

کچھ ہی عرصے میں دھیرے دھیرے ایک مکمل تجارتی نظام تشکیل دینا شروع کیا نہ صرف شپنگ ایجنسی کا نظام، بلکہ دفتر، لائسنس، کسٹم، فریٹ، پورٹ ڈیلنگ، اور معاہدے جیسی پیچیدہ چیزیں فرخندہ شمیم نے سنبھالیں۔ ان کا رویہ نہ صرف نرم تھا، بلکہ فیصلہ کن بھی۔

یہ وہ وقت تھا جب ایک خاتون کا بندرگاہ، شپنگ، اور بزنس میں شامل ہونا غیر معمولی بات سمجھی جاتی تھی۔ مگر فرخندہ شمیم نے اپنی ذہانت، بصیرت اور اعتماد سے پاکستان کی پہلی خاتون شپنگ ایجنٹ ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ جب وہ پہلی بار KPT (کراچی پورٹ ٹرسٹ) کے اندر ایک گریک جہاز کے ایجنٹ کے طور پر داخل ہوئیں تو جہاز کے یونانی کیپٹن نے پوچھا، ”آپ کا ایجنٹ کون ہے؟“ تو انہوں نے پورے اعتماد سے کہا: ”ایجنٹ میں خود ہوں۔“ یہ جملہ صرف الفاظ نہیں تھے، بلکہ شپنگ جیسے ایک مردانہ پیشے میں عورت کی خودمختاری اور قیادت کی پہلی گونج تھی۔

ان کا دفتر رائٹرز چیمبرز میں ایک چھوٹے کیبن سے شروع ہوا، لیکن وقت کے ساتھ یہ ایک مکمل اور معتبر ادارہ بن گیا۔ انہوں نے نہ صرف اندرونِ ملک بلکہ بیرونِ ملک شپنگ کمپنیوں سے معاہدے کیے۔ ”Clipper Salvador“ کی آمد، کلپر لائن اور پھر نارویجن کمپنی ”Barwil“ کے ساتھ شراکت داری نے ان کی کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر مستحکم کر دیا۔

”Clipper Salvador“ جہاز کی آمد کے ساتھ ان کی کمپنی نے ایک نئی جہت حاصل کی۔ بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے، لوکل اور انٹرنیشنل جہازوں کی نمائندگی، اور پورٹ ڈیلنگ جیسے پیچیدہ معاملات کو فرخندہ شمیم نے اس مہارت اور حکمت سے سنبھالا کہ ان کی شخصیت خود ایک ادارہ بن گئی۔ ان کی قیادت میں ”Associated Lines Agencies“ نے پورے اعتماد کے ساتھ انٹرنیشنل مارکیٹ میں قدم رکھا۔

بعد ازاں ان کی کمپنی کو نارویجن شپنگ کمپنی ”Barwil“ کے ساتھ پارٹنرشپ کا اعزاز حاصل ہوا۔ نہ صرف پاکستان میں، بلکہ دنیا بھر میں فرخندہ شمیم کی بصیرت، ایمانداری، اور انتظامی صلاحیت کو مانا گیا۔ بارویل نے ان کی کمپنی کو ”Wilhelmsen Ship Services“ کے نام سے تسلیم کیا، اور انہیں اپنے دفتر کی بہترین برانچ قرار دیا۔

انہوں نے محض بزنس نہیں چلایا، بلکہ ایک ویژن، ایک ٹیم، اور ایک ایسا نظام قائم کیا جس نے نسلوں کو متاثر کیا۔ ان کے بھائی سید اختر علی بھی ان کی ٹیم کا اہم حصہ بنے، اور ان کی بصیرت نے کمپنی کو مزید مستحکم کیا۔ دونوں بہن بھائیوں کی جوڑی نے بزنس کو ایسی بلندیوں تک پہنچایا جہاں نہ صرف منافع، بلکہ اخلاقی اصول بھی محفوظ رہے۔ فرخندہ شمیم کی زندگی کا سب سے اہم اور پائیدار باب ان کا کاروباری عروج ہے، جو نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر ان کی قابلیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ایک ایسی دنیا میں جہاں خواتین کو محض محدود سماجی کرداروں تک قید کر دیا جاتا ہے، وہاں فرخندہ شمیم نے شپنگ ایجنسی جیسے مردانہ غلبے والے میدان میں اپنی پہچان قائم کی۔

چاہے بنگال کی جنگ ہو یا کراچی کے سیاسی حالات، چاہے کاروباری دھوکہ ہو یا جہازوں کی تکنیکی رکاوٹ، فرخندہ شمیم ہمیشہ سینہ تان کر کھڑی ہوئیں۔ ان کا ایک بڑا امتحان اس وقت آیا جب اردن حکومت کے ساتھ چاول کی خریداری میں ان کے ساتھ دھوکہ ہوا، لیکن انہوں نے سچ بول کر ورلڈ بینک اور اردنی وزارتِ خارجہ کو قائل کر لیا۔ نہ صرف جرمانہ معاف ہوا، بلکہ جہاز کا کرایہ تک کلائنٹ نے ادا کیا۔

ان کے اکلوتے بیٹے علی، جو ابتدا میں صرف دفتر کے کاموں میں ہاتھ بٹاتے تھے، بعد ازاں ان کے مکمل رفیقِ کار بنے۔ علی کو دوران تعلیم ہی امریکہ سے واپس بلا کر بزنس میں شامل کیا اور نہ صرف کام سکھایا بلکہ ایمانداری، معاہداتی وفاداری، اور معاشی بصیرت جیسی اقدار بھی منتقل کیں۔

وہ مذہبی عقائد میں توازن اور تحمل کی قائل تھیں۔ مگر نجومیوں اور فال بینی کے واقعات ان کی زندگی میں ضرور آئے، جیسے ایک لبنانی خاتون نے ان کے ہاتھ کی لکیریں دیکھ کر کہا: ”You will be the captain of a ship۔“ اور وہ الفاظ کسی پیشن گوئی سے زیادہ ایک علامتی سچائی بن گئے۔

فرخندہ شمیم نے اپنی زندگی کے تمام اصول، تجربات اور اقدار اپنے بیٹے علی کو منتقل کیے۔ علی کی جانب سے ایک سوئس کمپنی کا لاکھوں ٹن اسٹیل قانونی طور پر سنبھالنا اور امانت داری سے آگے منتقل کرنا، ان کی تربیت کا عملی مظہر تھا۔ اسی دیانت نے ان کے بیٹے علی میں بھی جڑیں پکڑیں، جس نے جنیوا، ایران، اور کراچی کے درمیان اسٹیل کے کاروباری معاہدے میں دیانت داری سے ایسی مثال قائم کی کہ سوئس سرمایہ کار حیران رہ گئے۔

فرخندہ کی زندگی پاکستان کی دیگر خواتین کے لئے ایک پیغام ہے کیونکہ وہ محض ایک خاتون نہیں تھیں، بلکہ ایک سوچ اور ایک تحریک تھیں۔ ان کی زندگی ہمیں بتاتی ہے کہ اگر ارادے سچے ہوں، نیت پاک ہو، اور محنت مسلسل ہو، تو حالات کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں، انسان کامیابی کے آسمان تک پہنچ سکتا ہے۔ عورت اگر چاہے تو کسی بھی میدان میں مردوں سے بہتر کارکردگی دکھا سکتی ہے ؛ ایمانداری اور محنت سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ ایک بیٹی، ماں، بیوی، کاروباری، رہنما اور محبِ وطن عورت ایک ہی شخصیت میں یکجا ہو سکتی ہے اس نے سکھایا کہ کاروبار صرف پیسے سے نہیں، ایمانداری، قربانی اور ویژن سے چلتا ہے

وہ ہمیشہ یہ کہتی ہے : ”اعتماد، رشتہ داری سے بڑھ کر ہوتا ہے۔ اور سب سے بڑا رشتہ انسان کا اپنے ضمیر سے ہوتا ہے۔“

Facebook Comments HS