تنہا: سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا ناول (12)


اور جب اسے نوکر نے یہ اطلاع دی کہ باہر منورنجن گپتا آئے ہیں تو ایک لمحے کے لئے وہ حیران ہوا اس نے اپنے خادم کو دیکھا اور اس کی آنکھوں میں شناخت کا یقین پا کر اس نے ستار خود سے جدا کیا اور اپنی دھرم پتنی کی طرف جھکا جو قالین پر تکیوں کے سہارے نیم دراز تھی۔

”سومیتا تم نے سنا گپتا آیا ہے۔“
اس نے اپنی بیمار آنکھوں کو پوری طرح کھولا اور نحیف سی آواز میں کہا۔

”میں حیران ہوں گپتا دادا (ہندو بنگال میں رشتے کے بڑے بھائیوں کو عام طور پر دادا کہتے ہیں ) اتنے عرصے بعد کہاں سے ایکا ایکی آ گیا ہے؟“

”تھا تو یہیں شمالی ہند میں ہی بس ہڈ حرام ہے۔ پتر لکھنا تو عذاب سمجھتا ہے۔“

”میں تو خوب لڑوں گی۔ ہمیشہ کہتا تھا تیرے گونا پر تجھے بہت نفیس تحفہ دوں گا، پر تحفہ دینا تو درکنار خود بھی نہ آ یا۔ رنیش یہیں بلا لو نا۔“

”یہاں اس نے اس کی ملگجی ساڑھی اور بکھرے بالوں کو بغور دیکھا اور بولا یہاں بلانا کچھ مناسب نہیں رہے گا۔ چلو میں تمہیں ڈرائنگ روم میں لے چلوں وہ بھی وہیں ہو گا۔“

اور جب اس نے اٹھنے کی کوشش کی تو وہ چکرا کر تکیوں پر گری اس کے دھرم پتی نے بیتاب ہو کر اس کے نازک سے وجود کو اپنے بازؤوں میں سمیٹ لیا۔ اس کا رنگ پیلا ہو رہا تھا اور سانس بھی بہت تیز تھا۔ اس کی سندر سی پیشانی پر اپنے ہونٹ رکھتے ہوئے اس نے بھاری غمگین آواز میں کہا۔

” سومیتا کمر تو میری بھی ٹوٹ گئی ہے۔ پر تم نے یہ کیسا روگ جان کو لگا لیا ہے۔ یہ غم تو مردوں کے کرنے کے ہیں۔ کوئی یوں بھی ہلکان ہوتا ہے۔“

اس نے انناس کا رس گھونٹ گھونٹ اسے پلایا اور جب اسے کچھ توانائی محسوس ہوئی تو بولی۔
” رنیش تم جاؤ۔ گپتا دادا انتظار میں ہو گا۔“

اسے کمرے ہی میں چھوڑ کر وہ ڈرائنگ روم میں آیا۔ طویل عرصے بعد ملنے والے دو دوست جب اچھی طرح مل چکے تو اس نے کہا۔

” تمہیں مبارک ہو، سومیتا کیسی ہے؟“

”اب کیا بتاؤں! اس تقسیم نے تو اس پر اس درجہ ذہنی و جذباتی اثر ڈالا ہے کہ وہ اس نئے وجود سے بھی محروم ہو گئی ہے جو اس کے اندر تین ماہ سے پرورش پا رہا تھا۔ تمہارے آنے سے قبل میں اسے موسیقی سے بہلا رہا تھا۔ چلو وہ تمہیں ملنا چاہتی ہے۔“

وہ اپنے اس رشتے کے بھائی کو تقریباً دو سال بعد دیکھ رہی تھی وہ کچھ دبلا ہو رہا تھا پر اس کا رنگ نکھرا ہوا تھا۔

” گپتا دادا تم نے تو بنگال سے اپنا ناتا ہی توڑ لیا ہے۔ ادھر جی بہت لگ گیا ہے تمہارا کیا؟“
وہ دیر تک ذاتی باتیں کرتے رہے۔ جب رنیش نے اس سے پوچھا۔
”کچھ ادھر کا حال سناؤ۔“

”حال سب جگہ ایک سا ہے۔ میں کہتا ہوں ہندو کو اب سیاست سے کنارہ کشی کر لینی چاہیے۔ یہ اب اس کے بس کا روگ نہیں۔“

”پر گپتا! یہ طوفان ہی کچھ ایسا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔“
”ارے لعنت بھیجو اس طوفان پر۔ کانگریس کی سیاست پھر کیا ہوئی۔“
”یعنی کل آپ سے خالصتان کا مطالبہ ہو گا۔ گاندھی جی تھال میں ڈال کر انہیں پیش کر دیں گے۔“

”بھئی گاندھی کو مورد الزام تو مت ٹھہراؤ۔ ان جیسا زیرک اور نبض شناس لیڈر ہندوستان کبھی پیدا نہیں کر سکتا۔ اب دیکھو تحریک خلافت کی افادیت صرف گاندھی نے سمجھی اور مسلمانوں کی اس تحریک کی حمایت کر کے سالوں تک ان کے مسلمہ لیڈر بن کر بندے ماترم اور گاندھی کی جے کے ان سے بھی نعرے لگوائے۔ حماقتیں تو کانگریس کے لیڈروں نے کیں۔ اب سوامی شردھانند کو شدھی تحریک کا برسرعام پرچار کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ مسلمان جذباتی اور احمق قوم جو کانگریس تحریک خلافت میں اسی شردھا نند کو دلی کی جامع مسجد کے منبر سے خطاب کرواتی ہے۔“

”مگر میں کہتا ہوں۔“ گپتا کی آواز جوش غضب سے کانپ رہی تھی۔

” یہ ہمارے پرکھوں کا ہند ہے۔ باہر سے آئے ہوئے ان اٹھائی گیروں کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ وہ اس کا بٹوارہ کرتے پھریں؟ اور تمہارے اس بنگال نے تو لٹیا ہی ڈبو دی۔ سارا بنگال عاشق ہے جناح پر۔ تم لوگ بھی یار بونگے نکلے۔ فضل الحق کو بھی استعمال نہ کرسکے۔“

”واہ گپتا۔ فضل الحق کی حقیقت سن لو پھر کہنا۔“

میمن سنگھ کا ایک سٹیشن جمال پور ہے جہاں ایک بڑا جلسہ تھا۔ فضل الحق جونہی سٹیج پر آئے لوگوں نے شور مچا دیا۔

”نہیں، واپس، واپس، واپس، واپس جاؤ فضلو بھائی۔ ہم تمہیں سننا نہیں چاہتے۔“

فضل الحق حیران پریشان چند لمحے سوچنے کے بعد اپنے ساتھیوں کے ساتھ قبرستان کی طرف چلنے لگے۔ اب لوگ حیران۔ انہوں نے بھی تعاقب کیا۔ قبرستان کے عین مرکز میں کھڑے ہو کر انہوں نے شیر جیسی آواز میں قبروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔

”دیکھ لو میرے سنگی میرے ساتھیو! تمہارے بیٹوں اور عزیزوں نے مجھے سننے سے انکار کر دیا ہے۔“

اتنی جذباتی اپیل پر مجمع نے رونا شروع کر دیا اور ساتھ ہی شیر بنگال جندہ باد کے نعرے شروع ہو گئے۔ مگر الیکشن میں ووٹ جناح کو دیے اور فضل الحق کے امیدوار کی ضمانت ضبط کروا دی۔

اب دوسرا واقعہ سن لو ذرا۔ باقر گنج جو فضل الحق کا آبائی وطن ہے۔ وہاں کے طلبہ نے قائداعظم کو لکھا۔

”ہم آپ کو خوش آمدید کہنے کو بے قرار ہیں۔ آپ کی آمد کی خبر نے ہمارے تن مردہ میں زندگی کی روح پھونک دی ہے۔ آپ خود دیکھیں گے کہ آپ کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والے شیر بنگال کو ہم نے اس کے اپنے ضلع میں کیسے زیر کیا ہے۔“

آخر میں طلبہ نے لکھا تھا۔
” ہم ہیں آپ کے چاہنے والے۔“
”ابھی گپتا وقت نہیں آیا۔ تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو والی پالیسی پر چلو۔“
”کیا کہتے ہو بنگال کے بارے میں؟“
گپتا نے اپنے ہونٹ کاٹتے ہوئے پوچھا۔
”کہنا کیا ہے۔ پہلے کلکتہ کی منڈی تھا، اب پنجاب کی ہو جائے گا۔“
رنیش نے بے حد گہری نگاہوں سے اسے دیکھا تھا۔
”پر انہیں اپنی کثرت کا بہت خیال ہے۔“ گپتا بولا۔
رنیش کھلکھلا کر ہنسا۔

” کام کے نہ کاج کے دشمن اناج کے۔ کثرت پر نازاں ہیں پنجاب اس پر چھائے گا نہیں تو اور کیا ہو گا اور دیکھو یہی اس کا مقام گرفت ہو گا۔“

(جاری ہے )

Facebook Comments HS