کیا ہماری نانیاں اور دادیاں ان پڑھ تھیں؟


ڈاکٹر ثمینہ اعوان صاحبہ نے ایک بار پھر اپنی شاندار بصیرت کا ثبوت دیتے ہوئے ایک ایسے موضوع کا انتخاب کیا ہے جو ہماری تہذیبی و سماجی گہرائیوں میں پیوستہ ہے۔ ان کی تحریر کا محور پنجاب کے وہ دیہی علاقے ہیں جہاں کی زندہ و جاوید خواتین، ماؤں، نانیوں، دادیوں، خالاؤں، چاچیوں، ممانیوں اور پھوپھیوں کے روپ میں، ہمارے معاشرتی اور معاشی ڈھانچے کی اساس بنی ہوئی ہیں۔ یہ وہ ہستیاں ہیں جنہوں نے صدیوں پرانی روایات کا بوجھ اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھایا اور ’لام‘ (جنگ) کے کرب ناک ایام میں یہ بوجھ کئی گنا بڑھ گیا، مگر ان تمام خواتین نے اپنی ذمہ داریوں کو کمال استقامت سے نبھایا۔ ڈاکٹر صاحبہ نے ان اضافی مشکلات اور ذمہ داریوں کا براہ راست ذکر نہیں کیا جو ’لام‘ سے واپسی پر مرد اپنے ساتھ لائے تھے، کیونکہ جنگ سے لوٹنے والے سپاہی کے لیے وطن واپسی کبھی مکمل طور پر خوشگوار نہیں ہوتی۔ یہ وہ پہلو ہے جو ان خواتین کی عظمت کو مزید اجاگر کرتا ہے کہ انہوں نے ان پوشیدہ دکھوں کو بھی اپنے دامن میں سمیٹ لیا۔

یہاں اس بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ یہ روایات اور کردار صرف مشرق تک محدود نہیں تھے بلکہ مغرب میں بھی اتنے ہی مضبوط تھے اور وہاں کی خواتین نے بھی ایسے ہی سانجھے تجربات سے نبرد آزما ہو کر اپنی بقا کی جنگ لڑی۔ لیکن مغرب نے اپنی ماؤں، نانیوں اور دادیوں سے چشم پوشی نہیں کی بلکہ ان لازوال کرداروں پر لازوال کتابیں لکھیں، اور ان پر فلمیں اور ڈرامے بنا کر انہیں ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔ دوسرا اہم فرق یہ رہا کہ ’لام‘ کے بعد بھی مغربی خواتین نے زندگی کی دوڑ میں اپنا دوہرا کردار جاری رکھا اور گھر بار سنبھالنے کے ساتھ ساتھ معاشی ذمہ داریاں بھی خوش اسلوبی سے ادا کرتی رہیں۔ یہ پہلو ہمیں اپنی سمت متعین کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

مشرقی خواتین نے اپنے معاشرے کی تشکیل میں ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا ہے، جیسا کہ مضمون نگار نے نہایت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ ان کی محنت، ایثار، اور خاندانی اقدار سے وابستگی یقیناً قابلِ ستائش ہے۔ تاہم، مغرب نے جس طرح خواتین کو با اختیار بنایا ہے، اس کے اثرات زیادہ وسیع اور ہمہ گیر رہے ہیں، جو انفرادی ترقی اور سماجی مساوات کے نئے افق کھولتے ہیں۔

تعلیم اور خود مختاری کی بنیاد

مغرب میں خواتین کی تعلیم کو نہ صرف ان کے ذاتی فروغ کے لیے ضروری سمجھا گیا بلکہ اسے معاشرتی ترقی کا لازمی جزو قرار دیا گیا۔ تعلیمی اداروں نے خواتین کو نہ صرف کتابی علم دیا بلکہ انہیں تنقیدی سوچ، تجزیاتی صلاحیتوں اور جدید علوم سے روشناس کرایا۔ یہ وہ بنیاد تھی جس پر انہوں نے اپنے کیریئرز کی عمارت کھڑی کی، اور یوں انہیں صرف گھر کی دیکھ بھال تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ وہ ڈاکٹر، انجینئر، سائنسدان، فنکار اور کاروباری خواتین بن کر معاشرے کے مختلف شعبوں میں اپنا لوہا منوانے لگیں۔ اس کے برعکس، مشرق میں خواتین کی تعلیم کی اہمیت کو دیر سے سمجھا گیا، اور اب بھی کئی ایسے علاقے ہیں جہاں انہیں بنیادی تعلیمی حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے۔

معاشرتی ترقی اور آزادی کا مغربی ماڈل

مغرب نے خواتین کو نہ صرف تعلیمی میدان میں بے پناہ مواقع فراہم کیے، بلکہ انہیں ہر شعبہ ہائے زندگی میں مردوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہونے کی آزادی دی۔ یہ آزادی محض گھر کے اندرونی معاملات تک محدود نہیں رہی، بلکہ انہیں اپنی مرضی کے پیشے اختیار کرنے، مالی طور پر خود مختار بننے، اور سیاسی و سماجی فیصلوں میں حصہ لینے کے قابل بنایا۔ صنعتی انقلاب اور بعد ازاں عالمی جنگوں نے مغربی خواتین کو گھر کی چہار دیواری سے باہر نکل کر معاشی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر مجبور کیا، لیکن اس کے نتائج دور رس اور مثبت ثابت ہوئے۔ اس نے انہیں نہ صرف ایک مضبوط معاشی قوت بنایا بلکہ ان میں خود اعتمادی اور خود مختاری کا احساس بھی پیدا کیا۔

قانونی مساوات اور حقوق کا تحفظ

مغربی ممالک نے خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے مضبوط قانونی ڈھانچے وضع کیے۔ انہیں ووٹ کا حق دیا گیا، جائیداد کے حقوق میں مردوں کے برابر حصہ ملا، اور انہیں صنفی امتیاز کے خلاف قانونی تحفظ فراہم کیا گیا۔ یہ سب اقدامات خواتین کو ایک مکمل شہری کے طور پر تسلیم کرنے کی جانب اہم قدم تھے، جس کے نتیجے میں وہ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے اور اپنے مفادات کا دفاع کرنے کے قابل ہوئیں۔ یہ قانونی اور سماجی تبدیلیاں مشرق میں ابھی بھی ایک خواب ہیں، جہاں خواتین کو اکثر خاندانی اور قبائلی رواجوں کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے۔

ایک وسیع تر تناظر

مشرقی خواتین کا تقدس اور ایثار اپنی جگہ، لیکن انہیں ایک وسیع تر سماجی اور اقتصادی دائرے میں آزادی اور مواقع کی فراہمی میں مغرب نے کئی دہائیوں پہلے ایک سنگ میل عبور کر لیا تھا۔ یہ فرق صرف معاشی خود مختاری کا نہیں، بلکہ یہ ایک ذہنیت کا فرق ہے جہاں خواتین کو صرف ”ماں، بہن، بیٹی“ کے روایتی کرداروں سے ہٹ کر ایک مکمل انسان کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے، جس کے اپنے خواب، عزائم اور اہداف ہیں۔

کیا یہ ممکن نہیں کہ مشرقی اقدار کا احترام کرتے ہوئے، ہم مغربی ماڈل سے سبق سیکھیں اور اپنی خواتین کو بھی زندگی کے ہر شعبے میں مکمل خود مختاری اور مساوات کے مواقع فراہم کریں؟

وقت کا تقاضا ہے کہ ہمارا مشرقی میڈیا بھی ان عظیم موضوعات اور کرداروں پر فلمیں اور ڈرامے تخلیق کرے تاکہ ہماری آئندہ نسلیں ان خواتین کے احسانات اور قربانیوں کے قرض کی اہمیت کو سمجھ سکیں۔ اس قرض کو مکمل طور پر چکانا شاید ممکن نہ ہو، مگر اسے سمجھنا اور اس کا حق ادا کرنے کی کوشش کرنا ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے۔ یہ اہم کالم اس قرض کی ادائیگی کا آغاز کرنے کے لیے پہلا قدم ہے۔

Facebook Comments HS