منڈی بہاؤالدین کی ثقافتی و تہذیبی ورثہ کی باقیات


ضلع منڈی بہاؤالدین کے علاقہ کی تاریخی حیثیت صدیوں پرانی ہے، یہ علاقہ مختلف تہذیبوں کا مرکز رہا۔ قبل مسیح سے آباد شہروں کی باقیات جابجا نظر آتی ہیں۔ جن سے ملنے والے آثار یہاں کا اک تاریخی اثاثہ ہیں۔ اس طرح کی اک اہم دریافت ایک قدیم تانبے کا سکہ اس خطے کی تاریخی گہرائی، روحانی رنگ اور ثقافتی ورثے کا آئینہ دار ہے۔ یہ سکہ کشان سلطنت کے دوسرے بادشاہ ویما ٹیکٹو کا ہے، جسے سوٹر میگاس یعنی ”عظیم نجات دلانے والا“ کے لقب سے بھی جانا جاتا ہے۔ ویما ٹیکٹو عظیم الشان بادشاہ کنشک کا دادا لگتا تھا۔ ویما ٹیکٹو کو تاریخ میں بعض اوقات ”بے نام بادشاہ“ بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ اس کا اصل نام اکثر سکوں پر درج نہیں ہوتا، بلکہ مختلف نشانات و القابات سے اس کی شناخت ممکن ہوتی ہے۔ اس کا دور حکومت 80 تا 105 عیسوی کے درمیان ممکن ہے۔ اس سکے کے ملنے سے قدیم سکّہ سازی میں مہارت نظر آتی ہے اور دوسری جانب مذہبی ہم آہنگی، سیاسی بصیرت اور روحانی وابستگی ظاہر ہوتی ہے۔ سکے کے سامنے کی جانب بادشاہ کو اک ہیٹ پہنے ہاتھ میں تلوار لیے دیکھا جا سکتا ہے۔ سکے کی پچھلی جانب یونانی رسم الخط میں بادشاہ کی تصویر کے گرد (Basileus Soter Megas) جس کا مطلب ہے ”عظیم نجات دہندہ بادشاہ“ ۔ یہ اصطلاح بادشاہ کی سیاسی برتری کو ظاہر کرتی ہے اس کے ساتھ ساتھ روحانی لگاؤ اور عوامی فلاح و بہبود کے تصور کو بھی اجاگر کرتی ہے، جو اس وقت کے حکمرانوں کی شخصیت کا حصہ ہوا کرتا تھا۔ اس کے ساتھ بادشاہ کو ایک طاقتور گھوڑے پر سوار دکھایا گیا ہے۔ اس منظر کے نیچے ایک نہایت اہم علامت ”تری رتنا“ (Tri۔ Ratna) موجود ہے، جو بدھ مت کی مقدس ترین علامات میں شمار ہوتی ہے۔ تری رتنا کا مطلب ہے ”تین جواہرات“ بدھ، دھرم اور سنگھ۔ بدھ سے مراد وہ شخصیت ہے جو بیداری اور نروان کو پہنچ چکی ہو؛ دھرم، بدھ کی تعلیمات؛ اور سنگھ، راہبوں اور پیروکاروں کی جماعت کے طور پر جانا جاتا ہے تری رتنا کی علامت عموماً تین شعلوں، تین دائروں یا تین کونے والے نقش میں ظاہر کی جاتی ہے۔ اس کو ترشول بھی کہا جا سکتا ہے۔ اس علامت کا استعمال بدھ مت کے روحانی نظام میں ایمان، رہنمائی اور اجتماعیت کی بنیادی اساس کے طور پر ہوتا رہا ہے۔ یہ علامت صرف مذہبی عقیدت کی نشانی نہیں بلکہ ایک فکری پیغام بھی ہے، جو فرد، معاشرہ اور ریاست کو روحانیت، اخلاق اور ضبط نفس کی طرف بلاتا ہے۔

تری رتنا کو سب سے پہلے کنندہ سلطنت کے بادشاہ اموگھبوتی نے اپنے سکوں پر تقریباً 200 قبل مسیح میں کیا۔ یہ سلطنت شمالی ہندوستان، نیپال کے علاقوں میں موجود تھی اور حیران کن بات یہ ہے کہ اس سلطنت کا سکہ بھی منڈی بہاؤالدین سے مل چکا ہے جو رام پیاری محل عجائب گھر میں موجود ہے۔ اسی طرح تری رتنا کے نشان کا سیتھین سلطنت کے بادشاہ ازیسز دوم نے بھی کیا۔ انڈو سیتھین سلطنت کا خاتمہ کشان سلطنت نے کیا۔ تری رتنا کے نشان زیادہ تر مذہبی روایات کے لیے کیا جاتا تھا۔ ویما ٹیکٹو کے سکّوں پر تری رتنا کا نمایاں ہونا اس امر کا ثبوت ہے کہ کشان بادشاہ نہ صرف بدھ مت کے سرپرست تھے بلکہ وہ مذہبی رواداری، صوفیانہ فکر، اور روحانی فلسفے کو ریاستی پالیسی کا حصہ بنائے ہوئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے سکّے افغانستان، پاکستان، شمالی بھارت، تاجکستان اور ازبکستان کے مختلف علاقوں سے بھی دریافت ہوئے ہیں، خاص طور پر ٹیکسلا، پشاور، سوات، اٹک، صوابی، گجرات، جہلم، منڈی بہاؤالدین، جلال آباد اور قندھار جیسے شہروں سے

سکہ سازی کے لیے استعمال ہونے والی زبانیں بھی انتہائی اہمیت رکھتی ہیں۔ ویما ٹیکٹو کے سکوں پر یونانی، خروشتی اور برہمی رسم الخط میں تحریریں پائی جاتی ہیں۔ اس وقت یونانی زبان سکہ سازی کے لیے بین الاقوامی معیار کی زبان سمجھی جاتی تھی۔ جبکہ خروشتی اور برہمی رسم الخط مقامی ثقافتی، مقامی زبان اور مذہبی وابستگی کو ظاہر کرتی ہیں۔ یہ کثیر الزبانی طرز کشان سلطنت کی وسعت، رواداری اور انتظامی مہارت کی گواہی ہے۔ سکہ صرف لین دین کا ذریعہ نہیں تھا بلکہ وہ حکومت، عقائد، اور سلطنت کو بھی بیان کرتا تھا۔ اور حکومتی اقدار کو فروغ دینے کا سب سے اہم ذریعہ بھی ہوتا تھا۔ ویما ٹیکٹو نے سکہ کو ایک نظریاتی پیغام رسانی کا ذریعہ بھی بنایا۔ ”سوٹر میگاس“ کا لقب اور تری رتنا کی علامت اس دور کے سیاسی، مذہبی اور روحانی شعور کو مزید مستحکم کرتی ہیں۔ ان علامتوں کے ذریعے بادشاہ نے اپنے آپ کو محض دنیاوی حاکم نہیں بلکہ روحانی رہبر اور امن کا علمبردار ظاہر کیا۔ بدھ مت میں تری رتنا کو جس درجہ اہمیت دی گئی ہے، وہ سکّہ سازی، عبادت گاہوں، مندروں، راہبوں کے لباس، اور فنون لطیفہ میں واضح نظر آتی ہے۔ تری رتنا کی علامت آج بھی تھائی لینڈ، نیپال، سری لنکا، جاپان، چین اور تبت کے مندروں، کتابوں اور مذہبی رسومات میں دیکھی جا سکتی ہے۔ اس علامت کا استعمال نہ صرف مذہبی عقیدے کی علامت رہا ہے بلکہ اخلاقی تعلیمات، امن، ہمدردی اور انسان دوستی کے نظریات کو فروغ دینے کے لیے بھی کیا جاتا رہا ہے۔ تاریخی طور پر دیکھا جائے تو ویما ٹیکٹو کے سکے نہ صرف گندھارا تہذیب کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ وہ اس پورے عہد کی سماجی، اقتصادی، اور روحانی ساخت کو بیان کرتے ہیں۔ کشان دور میں ریاست، مذہب اور علم ایک دوسرے سے جدا نہیں تھے بلکہ ان سب کا اجتماع ریاستی نظریہ کا حصہ تھا۔ یہ سکے اس نظام کے گواہ ہیں جس میں فن، فلسفہ، روحانیت اور حکمرانی ایک دوسرے سے مربوط تھے۔ منڈی بہاؤالدین جیسے علاقوں سے ایسے سکے ملنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ خطہ صرف زرعی زمینوں یا قبائلی ثقافتوں کا علاقہ نہیں رہا بلکہ یہاں تہذیبی اور فکری زندگی بھی موجود رہی ہے۔ یہاں سے ملنے والے سکّے، مہریں، مجسمے اور برتن اس بات کے شاہد ہیں کہ اس علاقے میں ایک زمانے میں علمی مراکز، روحانی خانقاہیں اور بین الاقوامی تجارتی راستے موجود تھے۔ یہ تاریخی اور نہایت اہمیت کا حامل سکّہ ہمیں صرف ماضی کا پتہ نہیں دیتا، بلکہ حال میں ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ مذہبی رواداری، زبانوں کی کثرت، اور مختلف عقائد کا احترام کسی بھی معاشرے کی ترقی کا اصل زینہ ہیں۔ تری رتنا کی علامت علم، امن اور اخوت کو ریاستی و سماجی نظام کو بہتر بنانے کا سبق دیتی ہے۔

منڈی بہاؤالدین، گجرات، حافظ آباد، جہلم سرگودھا یہ سارے علاقے ان تہذیبوں کا گہوارہ رہے ہیں۔ یہ سب ایک متوازن اور ترقی یافتہ معاشرہ کی حامل تہذیب کا شاہکار بھی تھے۔

Facebook Comments HS