اوریا مقبول جان افغانستان کے بعد شام کو بھی سبق سکھانا چاہتے ہیں

شاید عظیم مفکر اور داعی غزوہ ہند، غزوہ ہند کے کچھ دیر کے لئے ملتوی ہونے کی وجہ سے دمشق دوبارہ فتح کرنے کے پر لطف خواب دیکھ رہے ہیں۔ یقیناً اپنے تخیل میں نعرہ ہائے تکبیر کی گونج میں وہ گکھڑ منڈی کے جاٹوں کو سیریا کی مقدس سرزمین پر ٹینک دوڑاتے دیکھ رہے ہوں گے۔ میں ان کی پرجوش آواز سے ہی ان کے رونگٹے کھڑے ہوتے محسوس کر سکتا ہوں۔ افسوس جنگ زدہ شام میں چیرنے پھاڑنے کو کوئی رومی افواج نہیں ہیں۔
اس عظیم مشورے کے باوجود دمشق کی فتح ثانی کے لئے انہوں نے کوئی جامع پلان نہیں دیا۔ ہم جانتے ہیں کہ ان کے نزدیک غزوہ ہند کے ممکنہ انجام میں فتح اور شکست کا پیمانہ بیس کروڑ مسلمانوں کے ہوا ہونے کے بدلے ہندو مت کا صفحہ ہستی سے مٹ جانا ہے۔ افسوس اس میں بھی پاکستان اور دیگر ممالک مثلاً ویسٹ انڈیز کے جزائر وغیرہ میں آباد ہندوؤں کی موجودگی بارے ان کا موقف تاحال نامعلوم ہے۔ اتنے بڑے پیمانے پر ہندوؤں کی صفائی کی مہم میں اگر دور دراز میں بسنے والے ہندو بچ گئے تو بیس کروڑ مسلمانوں کا ایٹمی بلی پر چڑھایا جانا ضائع جائے گا۔ ایسے میں کیا سندھ میں مقیم پاکستانی ہندوؤں پر پاکستان خود ہی دو چار ایٹم بم پھینک دے؟ اور ساری دنیا میں تاک تاک کر ہندو مار میزائل پھینکے جائیں؟ بہرحال اپنے ماضی کے ریکارڈ پر عمل کرتے ہوئے اوریا صاحب نے غزوہ ہند کا بھی کوئی کارآمد منصوبہ پیش نہیں کیا۔ فتح ثانی دمشق کی جنگ کے لئے کچھ رقم تو چاہیے ہی ہوگی۔ اب اپنی گریجویٹی پر حکومت کو جو سود انہوں نے چھوڑا تھا (جس کی سوشل میڈیا پر بہت دھوم مچائی گئی تھی) اس سے تو جنگ لڑی نہیں جاسکتی، خزانے کا حال آپ کے سامنے ہی ہے اور اس سال بھی مومن تاجروں سے وقت پر اور پورا ٹیکس ملنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
امریکہ سے ہم روپیہ لیں گے نہیں کہ مسلمانوں کی جنگ میں غیروں سے ڈالر لینے کی بے عزتی ہم پہلے ہی جھیل چکے ہیں۔ اور روس تو ملحد ہے اور اسے فتح کرنے کا نشہ ابھی گیا نہیں۔ ذرا خیال میں تو لائیں کہ اپنے بچوں کو ایک ہی وقت میں روس کو زیر کرنے کے قصے اور ‘دمشق کی فتح ثانی’ کے لئے ہزیمت زدہ روس سے روبل لینے کی کہانیاں سنائیں گے جب کہ آخری شکست کے بعد روس کے ایمان لانے کے ثبوت صفر کے برابر ہیں۔
قرین قیاس ہے کہ اوریا صاحب کا خیال ہو گا کہ اس مقدس مشن کے لئے سعودی امداد حاصل کی جائے۔ مگر اوریا صاحب کو تو معلوم ہی ہوگا کہ بشار الاسد کے مقابل اکثر گروہوں کا جنگ کا خرچہ مال غنیمت سے پورا نہیں ہوتا، اس میں پیٹرو ڈالر کی برکت پڑتی ہے تب کہیں جا کر اسد کو ٹف ٹائم دیا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں ہم اگر عربوں سے ریال لیں گے تو ظاہر ہے فریق بھی ان کی مرضی کا چننا پڑے گا۔ ایسے میں کیا ہماری فوج ‘پھر سے’ عربوں سے ریال لے کر القاعدہ، النصرہ اور داعش کے شانہ بشانہ لڑے گی؟ یادش بخیر افغان جنگ میں ایسوں کا ساتھ دینے کا انجام ہم ابھی بھگت رہے ہیں۔
اگر اوریا صاحب کا گمان ہے کہ ہم ایران سے دمشق کی فتح ثانی کے لئے امداد لیں گے تو یاد رہے کہ آج کل ہماری ‘اہل مشرق کے جنیوا’ یعنی تہران سے کسی فوجی اتحاد میں شمولیت پر نوک جھونک جاری ہے۔ آپ کی فوج جس اتحاد میں شامل ہو رہی ہے اس میں ایران بوجوہ شامل نہیں ہوا۔ ایسے میں ایران ہماری مالی امداد کرے گا تو کن شرائط پر؟ کیا ہم بشار الاسد کے کندھے سے کندھا ملا کر لڑتے ہوئے ساری دنیا بشمول اسلامی اتحاد مارکہ عرب ممالک کی دشمنی مول لے سکتے ہیں؟ ہم تو خلیج کی ریاستوں کا ہلکا سا ٹہوکا برداشت نہ کر سکے جب پچھلے سال میں چالیس ہزار پاکستانی سعودی عرب سے گھروں کو بھیج دیے گئے اور ہمیں بھاری درآمدات اور قلیل برآمدات کی بدولت ادائیگیوں کے شدید عدم توازن کو سنبھالنے کے واحد سہارے یعنی بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ملک میں بھیجی ہوئی رقوم میں کمی پیدا ہونے کے لالے پر گئے۔ ایران اور بشار الاسد سے ہاتھ ملانے کی صورت میں نہ دنیا رہے گی نہ ہی ‘اکثر’ دینی بھائی اور گھر میں جو ‘پواڑہ’ پڑے گا وہ الگ۔
ایسے میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ‘مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی’ کا نسخہ فقیروں کے مضروب ہاتھوں میں تھمایا جائے گا مگر صاحب دفاعی بجٹ نو سو ارب سے بڑھ چکا ہے۔ گھر میں جاری ضرب عضب کی لاگت بھی کئی ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے اور یہ آپریشن ابھی مکمل نہیں ہوسکا۔ آپ چاہتے ہیں کہ عوام کی اشیائے خورد و نوش پر ایک اور ان ڈائرکٹ ٹیکس یعنی شامی ٹیکس لگا دیا جائے اور ہمارے بچے اجنبی سرزمین پر لڑیں جہاں کس فریق کا ساتھ دینا ہے ہم اس کا ابھی فیصلہ بھی نہیں کر پا رہے؟
"Shaam mein Jang-Bandi Karwanay k liye Pakistan ko Apna Kirdaar Ada Karna Chaiyeh” –@OryaMaqboolJan in #SawalYehHai@Maria_Memon pic.twitter.com/kNjkyQUfA5
— Sawal Yeh Hai (@SawalYehHai) April 8, 2017

