نوزائیدہ بچّوں کے مزید عام مسائل، ان کی گھریلو دیکھ بھال (حصّہ دوم)
پچھلے مضمون میں ہم نے نوزائیدہ بچّوں کے کچھ مسائل پر گفتگو کی تھی۔ آج ہم کچھ مزید مسائل پر بات کریں گے۔
4۔ پاخانے یا اسٹول کی تعداد و نوعیت:
نوزائیدہ بچّوں میں اسٹول یا پاخانے کی نوعیت اور رنگ بڑے بّچوں کے مقابلے میں مختلف ہوتی ہے۔ ابتدائی چند دنوں کے دوران پاخانے عام طور پر سیاہ یا سبز رنگ کے اور چپ چپے ہوتے ہیں اور نوعیت میں نرم ہوتے ہیں۔ زندگی کے پہلے ہفتے کے دوران ان کا رنگ آہستہ آہستہ پیلے رنگ میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ نوعیت عام طور پر نرم ہوتی ہے۔ ماں کا دودھ پینے والے بچّوں میں ان کی تعداد ایک دن میں کئی بار ہو سکتی ہے اور کئی دنوں میں ایک بار بھی ہو سکتی ہے۔ یعنی یہ ایک دن میں 8۔ 10 بار بھی ہوسکتے ہیں لیکن ضروری نہیں ہے۔ بعض اوقات یہ 4 سے 5 دن کے بعد بھی ہو سکتے ہیں۔ اگر یہ نرم ہیں، تو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ صرف اس صورت میں ہوتا ہے جب سٹول یا تو سخت ہوں یا بہت زیادہ پانی والے ہوں۔ اگر ایسا نہ ہو تو کسی علاج کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ اگر بّچہ پیدائش کے بعد پہلے چوبیس گھنٹوں کے اندر پاخانہ نہیں کرتا تو اسے طبّی مشورہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیونکہ یہ آنت میں پیدائشی رکاوٹ یا کسی اور سنگین وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔ اسی طرح اگر یہ بہت پتلے ہوں اور پانی کی مقدار زیادہ ہو تو یہ انفیکشن کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔ نوزائیدہ بچّوں میں انفیکشن میں بخار کا ہونا ضروری نہیں ہوتا۔ اسی طرح سبز رنگ کے پاخانے بھی انفیکشن کی نشانی نہیں ہوتے۔ تاہم پانی کی کمی کے بارے میں محتاط رہنا چاہیے۔ ماں کا دودھ پلانا سب سے اہم ہے۔ بار بار ماں کا دودھ پلانے سے اکثر پانی کی کمی کو روکا جاسکتا ہے۔ ایسے معاملات میں جلد از جلد بچّوں کے ڈاکٹر سے مشورہ کیا جانا چاہیے۔
5۔ تھرش یا زبان کی سفیدی (Thrush) :
یہ شیر خوار بچّوں میں ایک عام بیماری ہے۔ اس حالت میں بّچے کی زبان سفید رنگ کی ہو جاتی ہے۔ عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ زبان پر دودھ جمع ہو گیا ہے۔ وہ اسے کپڑے وغیرہ سے صاف کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ بات صحیح نہیں ہے۔ یہ فنگل انفیکشن کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ بوتل سے دودھ پینے والے بچّوں میں بوتلوں کو مناسب وقت تک نہ ابالنے یا جراثیم سے پاک نہ کرنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ تاہم یہ ماں کا دودھ پینے والے بّچوں میں بھی ہو سکتا ہے۔ اس کا علاج آسان ہے جس کے لئے قطروں کی شکل میں نیسٹیٹین (Nystatin) جیسی اینٹی فنگل دوا استعمال کی جاتی ہے۔ یہ قطرے روزانہ تین سے چار بار آہستہ آہستہ زبان پر ڈالے جائیں تاکہ یہ کافی دیر تک زبان پر لگے رہیں۔ یہ دوا دن میں ایک ایم ایل چار بار دینی چاہیے۔ علاج ایک سے دو ہفتوں تک جاری رکھنا چاہیے۔ بوتلوں کی صفائی اور ذاتی حفظان صحت بنیادی حفاظتی اقدامات ہیں۔ بصورت دیگر، یہ بار بار ہوتا رہتا ہے۔ تاہم اگر مناسب علاج کے باوجود تھرش طویل عرصے تک برقرار رہتا ہے، تو مدافعتی کمی کا شبہ کیا جانا چاہیے۔ علاج کرنے والے ڈاکٹر کو اس کی وجہ معلوم کرنے کے لئے مناسب ٹیسٹ کرنے چاہئیں۔
6۔ سر کی خشکی:
بعض بچّوں کے سر پر خشکی ہو جاتی ہے اور اکثر ایک پپڑی سی جم جاتی ہے۔ اسے سیبورہک ڈرماٹائیٹس کہتے ہیں۔ اس کے علاج کے لئے خشکی دور کرنے والا کوئی بھی عام شیمپو استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ہفتے میں ایک دو بار شیمپو سے سر دھونے سے یہ خشکی ختم ہو جاتی ہے۔ البتّہ اگر سر پر پیلے سے رنگ کی پپڑی جمنے لگے تو ایسی صورت میں ہلکی قسم کی اسٹیرائیڈ کریم استعمال کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اس کے لئے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔
7۔ چھاتی کی سوجن:
کچھ بچوں میں ان کی چھاتی (Breast nipple) میں سوجن پیدا ہو سکتی ہے۔ بعض اوقات ان میں سے دودھ کے چند قطرے بھی نکل سکتے ہیں۔ اس کو عام طور پر ”چڑیلوں کا دودھ“ (Witch ’s milk) کہا جاتا ہے۔ یہ حمل کے دوران ماں سے بّچے میں منتقل ہونے والے ہارمونز کی وجہ سے ہوتا ہے اور یہ ایک نارمل چیز ہے۔ ایسی صورت میں کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ حالت کچھ دنوں میں خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔ کچھ لوگ اس کی مالش کرتے ہیں جس کے نتیجے میں انفیکشن ہو سکتا ہے۔ اس لئے اس کو بالکل بھی چھیڑنا نہیں چاہیے۔ البتہ اس میں اگر پیپ نظر آئے تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔
8۔ وجائینا سے خون بہنا:
کچھ نوزائیدہ بّچیوں میں کبھی کبھار ان کی وجائینا سے کچھ خون خارج ہو سکتا ہے۔ یہ صورت حال بھی حمل کے دوران ماں سے بّچیوں میں منتقل ہونے والے ہارمونز کی وجہ سے ہوتی ہے۔ جو پیدائش کے بعد بچّی کے جسم سے ختم ہو جاتے ہیں یہ حالت بالغ خواتین میں حیض کے دوران بہنے والے خون سے مماثلت رکھتی ہے۔ اس کے لئے کسی علاج کی ضرورت نہیں ہوتی۔ خون بہنا چند دنوں میں بند ہو جاتا ہے۔ اگر خون بہت زیادہ بہتا ہو یا جسم کے دیگر مقامات سے بھی بہتا ہو، تو وہ ہیمرہیجک یعنی خون بہنے والی بیماری کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے جسے اوپر بیان کیا گیا ہے۔ اس بیماری کی تشخیص کے لئے خون کے ٹیسٹ ضروری ہو سکتے ہیں اور خون دینے کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے۔ اس لئے ایسی صورت میں بچّی کو اسپتال لے جانا چاہیے۔
9۔ سر پر سوجن (سیفل ہیمیٹوما) (Cephalhematoma) :
بعض اوقات بچوّں کے سر کے ایک یا دوسرے حصے میں پیدائش کے بعد سوجن پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ جلد کے نیچے خون جمع ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے اور اسے ”سیفل ہیمیٹوما“ کہتے ہیں۔ یہ خود بخود وقت کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے اور اس میں کسی علاج کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی اس کے ختم ہونے میں ایک ماہ بھی لگ سکتا ہے۔ اس میں جمع شدہ خون کو نکالنے سے سنگین انفیکشن ہو سکتا ہے۔ اس لئے ایسا کبھی نہیں کرنا چاہیے۔ البتّہ کبھی کبھار معمولی ابھار باقی رہ سکتا ہے۔
10۔ دانتوں کے مسائل:
دانتوں کا نکلنا بچّے کے لئے ایک عام مسئلہ ہے۔ دانت دو طرح کے ہوتے ہیں، ایک عارضی یا دودھ کے دانت اور دوسرے مستقل دانت۔
عارضی دانتوں کی تعداد بیس ہوتی ہے اور چھ ماہ کی عمر میں نکلنا شروع ہو جاتے ہیں اور 30 ماہ کی عمر تک مکمل ہو جاتے ہیں۔ بعض اوقات دانت نکلنے میں تاخیر ہوتی ہے جو کہ بالکل نارمل بات ہے۔ تاہم بچّہ کبھی کبھی چڑچڑا بھی ہو سکتا۔ اس کے علاوہ اسی عمر میں بّچہ بیٹھنا شروع کرتا ہے اور ہر چیز کو ہاتھ میں لینا شروع کر دیتا ہے اور مختلف اشیاء کو منہ میں ڈالتا ہے اس وجہ سے اسے بخار اور اسہال سمیت متعدد انفیکشن ہوسکتے ہیں۔ ان بیماریوں کا دانت نکلنے کے عمل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اگرچہ والدین بخار اور اسہال کو دانتوں کے نکلنے سے منسوب کرتے ہیں، لیکن یہ بیماریاں انفیکشن کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ دانت نکلنے کے دوران کسی خاص علاج یا ادویات کی ضرورت نہیں ہوتی۔ البتّہ کبھی کبھار پیراسیٹامول دیا جا سکتا ہے لیکن کسی اور دوا کی ضرورت نہیں ہوتی۔
مستقل دانتوں کی تعداد بتیس ہوتی ہے اور یہ زندگی کے چھ سال بعد نکلنا شروع ہوتے ہیں اور بلوغت تک جاری رہتے ہیں۔ چھ سال کی عمر سے عارضی دانت گرنے لگتے ہیں اور مستقل دانت ان کی جگہ لے لیتے ہیں۔ سب سے پہلے سامنے والے دانت بدلتے ہیں جنہیں انسائیزر (Incisor) کہا جاتا ہے اور پھر دوسرے دانت آہستہ آہستہ تبدیل ہو جاتے ہیں۔ یہ ایک نارمل طریقہ ہے اور اس میں کسی خاص علاج کی ضرورت نہیں ہوتی۔
11۔ نیند کا پیٹرن
نوزائیدہ بچے اکثر دن میں 20 گھنٹے سوتے ہیں۔ اگلے چند دنوں اور ہفتوں میں ان کی نیند کا وقت آہستہ آہستہ کم ہو جاتا ہے۔ کچھ بچّے دن کے دوران سوتے رہتے ہیں اور رات کے دوران جاگتے رہتے ہیں۔ یہ مکمل طور پر نارمل ہے۔ لیکن زیادہ تر بچّے پوری رات سوتے ہیں۔ اگر وہ اچھی طرح سے کھانا کھا۔ تے ہیں اور دودھ پیتے ہیں۔ اور کھانا کھانے یا دودھ پینے کے لئے جاگتے ہیں ان کی دیگر سرگرمیاں معمول کے مطابق ہیں، تو آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر وہ کھانا نہیں کھاتے اور دودھ کے لئے بھی نہیں جاگتے اور فعال اور متحرّک نہیں ہوتے تو ڈاکٹروں سے مشورہ کیا جانا چاہیے۔ ایسی صورت میں کو ئی سنگین بیماری بھی ہو سکتی ہے، جس کے لئے فوری دیکھ بھال اور علاج کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
والدین کے لئے ہدایات:
1۔ نوزائیدہ بچّے کو 6 ماہ کی عمر تک صرف ماں کا دودھ پلائیں۔
2۔ چار سے چھ ماہ کی عمر میں دوسری نرم غذائیں متعارف کرائیں۔
3۔ اپنے بچّے کو وقت پر حفاظتی ٹیکے لگوائیں تاکہ وہ مہلک بیماریوں سے محفوظ رہے۔
4۔ دانت نکلنے کے دوران کوئی دوائیں نہ دیں۔
5۔ الٹیوں اور دست یا اسہال کی صورت میں فوراً نمکول یعنی او آر ایس کا استعمال کریں۔
6۔ بغیر ڈاکٹر کے مشورہ کے اینٹی بایوٹکس استعمال نہ کریں اور اگر ڈاکٹر اینٹی بایوٹکس تجویز کریں تو ضرور استعمال کریں اور انکار نہ کریں۔ اینٹی بایوٹکس کی صحیح مقدار میں تجویز کردہ پوری مدّت کے لئے دیں۔
7۔ اگر تیز بخار ہو، شدید الٹیاں ہوں، سانس میں تکلیف ہو، بچّہ کا رنگ نیلا ہونے لگے، یا بچّہ بے ہوش دکھائی دے تو کسی اچّھے اسپتال لے جائیں جہاں بچّوں کے امراض کے علاج کا الگ شعبہ ہو۔
8۔ دو ائیں بچّوں کی پہنچ سے دور رکھیں۔ بچّوں کو دوا دینے کے لئے گھر کا چمچہ استعمال نہ کریں۔ صرف دوا کے ساتھ ملا ہوا چمچہ ہی استعمال کریں یا سرنج سے ایم ایل میں ناپ کر دوا دیں۔
9۔ غیر ضروری طور پر نیبولائزر کا استعمال نہ کریں۔
10۔ اگر آپ کا بچّہ بالکل ٹھیک ہو تب بھی وقفہ وقفہ سے بچّوں کے ڈاکٹر سے مشورہ کرتے رہیں تاکہ آپ کو معلوم ہو کہ آپ کا بچّہ بالکل نارمل ہے۔
(یہ مضمون میری کتاب ”میں اور میرا بچّہ“ سے ماخوذ ہے )


