مکمل اور متوازن غذا پر ماہانہ کتنا خرچہ آتا ہے؟


روزانہ مغزیات کی تین قسمیں بدل بدل کر کھانا (جس کو ہم عرفِ عام میں ڈرائی فروٹ کہتے ہیں ) اس کا ایک دن کا خرچہ اندازہً دو سو سے تین سو روپے تک آئے گا۔
پھلوں یعنی فروٹ کا اوسط روزانہ خرچہ سو سے دو سو روپے تک آئے گا۔
بیجوں یعنی سیڈز کا روزانہ کا سو روپے۔
دو انڈے تقریباً پچاس سے اسی روپے تک۔
چکن دو سو روپے۔
کافی چالیس سے اسی روپے۔
دالیں، لوبیا، چنا بدل بدل کر ہفتے میں چار دن تقریباً سو روپے فی یوم۔
گوشت بڑا اور چھوٹا (بیف اور مٹن) بدل بدل کر ہفتے میں ایک دن تقریباً پانچ سو روپے۔
مچھلی (جو اومیگا تھری فیٹی ایسڈ سے بھرپور ہو) ہفتے میں دو دفعہ تقریباً تین ہزار روپے دونوں دفعہ کے۔
سبزیاں بدل بدل کر روزانہ تقریباً سو روپے۔
سلاد روزانہ تقریباً پچاس روپے۔
دہی اور اچار بدل بدل کر روزانہ پچاس روپے۔
دودھ اسی روپے۔
ایکسٹرا ورجن زیتون کا تیل دو سو سے چار سو روپے۔
مکس ملٹی گرین کی روٹی روزانہ ایک چپاتی بیس سے چالیس روپے۔

ان تمام خوراکوں کے باوجود شاید کچھ نیوٹرینٹس کی کمی رہ جائے، جیسے وٹامن ڈی، اومیگا تھری فیٹی ایسڈ اور میگنیشیم، تو پھر وٹامن ڈی کے لیے ہفتے میں تین دن پندرہ منٹ کے لیے دھوپ میں یوں بیٹھنا کہ آپ کے بازو اور پنڈلیوں تک ٹانگوں پر کپڑا ہٹا کر دھوپ لگے، چہرہ البتہ چھپانا بہتر ہے۔ اگر دھوپ میں بیٹھنا مشکل ہو تو وٹامن ڈی کے سپلیمنٹ لیے جا سکتے ہیں، اس کی قیمت ہزار روپے مہینے کے۔ میگنیشیم کی روزانہ ضرورت چار سو ملی گرام ہے، لہذا اس کے لیے بھی خوراک کے ساتھ ساتھ سپلیمنٹ کو زیر غور لایا جاسکتا ہے، مہینے کا خرچہ دو ہزار۔ اومیگا تھری فیٹی ایسڈ بھی جس مقدار میں جسم کو چاہیے، اس کے لیے سپلیمنٹ ضروری ہو جاتا ہے کیونکہ اومیگا تھری فیٹی ایسڈ سے بھرپور مچھلی (سالمن، سارڈین وغیرہ) کھانے کے باوجود مقررہ مقدار پوری کرنا اکثر مشکل ہوتا ہے، مہینے کا دو ہزار روپے اس کا خرچہ ہو گا۔ یہ ایک صحت مند فرد کے حساب سے خرچے کا اوسط اندازہ ہے۔ اس میں پکانے اور مرچ مسالوں کا خرچہ الگ سے شامل کر لیں۔

اوپر بیان کیے گئے خرچے کے مطابق ایک فرد کا ایک مہینے کا خرچہ اوسطاً پچپن ہزار روپے تک آئے گا۔

دراصل مکمل خوراک وہ ہے جو ایک جسم کی غذائی ضرورتوں کو پورا کرے جس میں تمام قسم کے وٹامنز، منرلز، پری اور پرو بائیوٹکس اور پروٹین شامل ہوں، نیز جو جسم کے مدافعتی نظام کو بیماریوں کے خلاف طاقتور بنائے اور جو نظامِ انہضام کے لیے بہترین ہو، جو جلدی بڑھاپا لانے سے بچائے اور جو جسم کو چاق و چوبند رکھے۔ جن لوگوں کو کوئی بیماری ہو اور ڈاکٹروں نے ان کو مختلف قسم کے کھانوں سے منع کیا ہو، وہ لوگ اپنے ڈائیٹ پلان کے حساب سے اپنا خرچہ کیلکولیٹ کر سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS