تنہا: سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا ناول۔(13)


تب ان سب نے پوچھا۔
” ہوں، تو شلپی کوئی نئی خبر؟“

اور اماوس رات کے ان لمحوں میں، جب ہوا بانس کے درختوں سے ٹکرا کر سائیں سائیں کرتی تھی۔ اس نے سوچا کہ وہ اب انہیں کیا بتائے کہ اس کے پاس نت نئی خبروں کا سارا سٹاک ختم ہو گیا ہے اور اپنے ساتھیوں پر معلومات کا رعب جھاڑنے کے لئے کچھ باقی نہیں رہا۔ پھر بھی وہ بولا۔

” دادو کہتے ہیں کہ اب پاکستان بن گیا ہے۔ تم لوگ محنت سے پڑھو اور قابل بنو تاکہ اس نئے دیش کی خدمت کر سکو۔“

یوں اسے اس بات کا افسوس بھی تھا کہ خبروں کا سارا جوش و خروش ختم ہو گیا ہے۔ دادو کے وقت کا کچھ حصہ کھیتوں اور بقیہ مطالعے میں گزرتا۔ وہ اپنی کتابوں میں جتا رہتا۔ یا پھر کھیتوں میں کام کرتا۔ اس کا وہ ذہن جو ہمہ وقت پاکستان سے متعلق خبریں جاننے، جھنڈے بنانے اور ساتھیوں کے ساتھ نت نئی ترکیبوں کے تانے بانے میں الجھا رہتا، اب ایک دم پر سکون تھا۔ اور یہی سکون اکثر اسے اذیت دہ محسوس ہوتا۔

”پر شلپی تمہارے دادو نئی حکومت کے بارے میں کچھ تو بتاتے ہوں گے؟“
تمیز الدین نے پوچھا۔
”کچھ نہیں بتاتے اب وہ۔ ایک بات ہے تمیج! یہ خبروں میں اب کوئی کشش نہیں رہی۔“ وہ قدرے اکتاہٹ سے بولا۔

اور یہ بات تو وہ اپنے ساتھیوں سے یکسر چھپا گیا تھا کہ ابھی چند دن پہلے دادو اس کے دیر تک باہر رہنے اور پڑھنے میں عدم دلچسپی پر ناراض ہوئے تھے۔

”تم نہیں جانتے ہو۔“ وہ خفگی سے بولے تھے۔

”ہم نے کیسے پڑھا؟ یہ کاغذ جو آج تمہیں حاصل ہے، ہمیں کب میسر تھا۔ ہم نے تو لکھنا کیلے کے پتوں پر سیکھا تھا۔ ہمارے وقتوں میں سلیٹ، تختی کہاں تھی۔ روشنائی ہنڈیا کے نیچے کالک سے بناتے تھے۔ کوسوں چل کر کسی کے گھرمیں پڑھنے جاتے تھے۔ دو لفظ کسی نے بتا دیے تو اس کا احسان مانتے تھے۔ بچے! قدر کرو وقت کی اور چیزوں کی۔ جی جان سے محنت کرو کہ سب بھاگ اسی سے لگتے ہیں۔“

یہ عبدل چاچا کی باشا تھی جو ان کے مرنے کے بعد اب خالی ہی تھی اور یہیں وہ دیے کی مدھم روشنی میں ایک دوسرے کے قریب قریب بیٹھے تھے۔ اسے عبدل چاچا کے مرنے کا کچھ اتنا غم نہ تھا بلکہ وہ ان سے آخری دنوں میں ناراض ہو گیا تھا۔ پاکستان بننے کی خوشخبری انہیں سنانے کے لئے وہ بھاگا بھاگا ان کے پاس گیا تھا۔ پر وہ اتنی سرد مہری سے بولے تھے۔

”ارے بچہ تو نہیں جانتا پاکستان بن جائے یا یہ ہندوستان، ہمیں تو جیون نے ایک بات سکھائی ہے کہ غریب کو دال بھات کبھی نہیں ملے گا۔ دیکھ نا ان داغوں کا پھیلاؤ کتنا بڑھ گیا ہے۔ موت کا انتظار ہے جو آپ آ بھی نہیں چکتی۔ مجھے بتا کہ میں کاہے کی خوشی مناؤں؟ یہ غریب پرجا تو یونہی سسک سسک کر مر جائے گی۔ ارے بچہ یہاں کون سراج الدولہ بیٹھا ہے جو انہیں سنے گا۔“

ان کی ان باتوں پر اس نے بہت غصہ کھایا۔
” کتنے عجیب ہیں یہ عبدل چاچا بھی۔“
وہ خود سے بولا اور بوجھل دل سے گھر لوٹ آیا۔
”دادو عبدل چاچا کو پاکستان میں ذرا خوشی نہیں۔ انہیں مسلمانوں کے کٹنے مرنے کا بھی دکھ نہیں۔ “
اس نے داد و کے سامنے اپنے غم کا اظہار کیا۔
”بیمار ہے نہ بیٹے! جب انسان کو شانتی نہ ملے تو وہ بددل ہو جاتا ہے تب کوئی چیز اچھی نہیں لگتی۔“

”پر دادو وہ دُلدُل کا بابا کتنا بیمار ہے۔ لیکن کہتا تھا کہ کوئی ہماری جان لے لے اور اس کے عوض ہمیں پاکستان دے دے۔“

”ہاں بچہ ہر آدمی ایک جیسے خیال کا مالک نہیں ہوتا۔“
انہوں نے آہستگی سے کہا۔

”نہیں دادو عبدل چاچا کو تو خوش ہونا چاہیے تھا۔ ان کو اگر شانتی نہی ملی تو کیا ہوا؟ پاکستان بننے سے لاکھوں لوگ تو شانت ہو گئے ہیں نا۔“

وہ خاصا پریشان جان پڑتا تھا۔ آنکھوں میں کچھ کہنے کی تشنگی تھی پر معلوم ہوتا تھا کہ اپنے مافی الضمیر کو صحیح ادا نہیں کر پا رہا ہے۔

تب دادو نے اس کی مشکل کو سمجھا اور اسے اپنے قریب کر لیا۔
”ایسا ہوتا ہے۔ اتنا اثر نہیں لیتے۔ آؤ میں تمہیں کچھ سناتا ہوں۔“
انہوں نے ”آگنی بینا“ اٹھائی اور اس نظم کو پڑھنے لگے جس کی وہ اکثر فرمائش کیا کرتا تھا۔
”اپنے سہمے ہوئے وطن کو میں جرات کا درس دیتا ہوں۔“
اور میری جانبازی، روشن میناروں سے طوفان کی آرتی اتارتی ہے۔

جب مستقبل کی کوئی شام آزادی کا پرچم لہراتے ہوئے اس طرف آئے تو لوگو! ایک نظرآسمان کی طرف دیکھ لینا۔ ”

” دادو جس نے کویتا لکھی ہے وہ کہاں ہے؟“
”وہیں کلکتے میں بیٹے! بہت بیمار ہے۔“ ان کی آواز میں غم تھا۔

”آگنی بینا“ ان کی گود میں گر گئی تھی اور ان کے گھٹنے سے ٹکا وہ گھنے بالوں والا لڑکا دادی ماں کے بلاوے پر باہر جا چکا تھا۔ وہ اس وقت بہت رنجیدہ نظر آر ہے تھے انقلابی شاعر کے دردناک انجام کے خیال نے ان پر افسردگی طاری کر دی تھی۔ وہ کلکتہ میں بستر مرگ پر جو تھا۔ تنگدستی اور افلاس اسے بالآخر وہاں گھسیٹ لایا تھا جہاں زندگی کی آس ٹوٹتی نظر آ رہی تھی۔

”پر قاضی نذرُالاسلام تم یقیناً خوش ہو گے کہ آزادی کی وہ سحر جس کا تمہیں انتظار تھا تمہاری زندگی میں ہی طلوع ہو گئی۔“

(جاری ہے )

Facebook Comments HS