جب انہوں نے اونٹ بٹھا دیے


شاعر: حسان بن ثابت
ترجمہ: احمد تراث

جب انہوں نے
جبل صرار کے پہلو میں
اونٹ بٹھا دیے
اور کجاوے کھول دیے
تو پشت کی جانب سے
اچانک آنے والے
تیز رفتار گھوڑوں
اور بہت بڑے لشکر نے
ان کو خوفزدہ کر دیا
لہذا وہ خوف کھاتے ہوئے
اکیلے اکیلے ہی بھاگ نکلے
اور ہم ان کی طرف
ایسے شیروں کی طرح
اڑتے چلے جاتے تھے
جن کا مقابلہ کوئی نہ کر سکتا ہو
(اور ہم ایسے) طویل القامت گھوڑوں پر سوار تھے
جن کی کھال، ڈھال جیسی تھی
اور جو طویل اکتاہٹ کے باوجود
سکون کے طلبگار نہیں ہوتے تھے
اور سیاسی مائل سرخ رنگ کے گھوڑوں پر
جن کے دل تیز دھڑکنے والے تھے
اور جوڑ جوڑ تیر کی مانند صحیح سلامت تھا
ان گھوڑوں پر ایسے شہسوار تھے
جو سورماؤں سے ٹکر لینے کے عادی ہو چکے تھے
ایسے شیر دل
جو غضبناک ہو جائیں
تو بغیر کسی بزدلی کے
ہر شے کو روندتے چلے جائیں

Facebook Comments HS

احمد تراث

احمد تراث عربی زبان و ادب کی درس تدریس اور تراجم سے تقریبا ڈیڑھ دہائی سے منسلک ہیں اور ان کے عربی شاعری کے اردو تراجم قومی اور بین الاقوامی سطح پر اہل علم سے پذیرائی حاصل کر چکے ہیں۔

ahmad-turas has 1 posts and counting.See all posts by ahmad-turas