قیام پاکستان سے قبل کے سنیما (آخری قسط)

دوستوں میں نے پچھلی دو اقساط میں کراچی اور لاہور کے ان سنیماؤں کا ذکر کیا تھا، جو پاکستان بننے سے پہلے کے تھے۔ آج ذکر کروں گا، ان دو شہروں کے علاوہ پاکستان کے دیگر شہروں کے ان سنیماؤں کا جو قیام پاکستان کے وقت ہمیں ورثے میں ملے ۔
لاہور اور کراچی میں تو میں خود رہ چکا ہوں، اس لئے ان دونوں شہروں کے زیادہ تر سنیماؤں کا احوال اکثر میرے ذاتی مشاہدے کی بنیاد پر مضمون میں ہوتا ہے ، لیکن پاکستان کے دیگر شہروں کے سنیماؤں کا احوال زیادہ تر دوستوں کی آرا کی روشنی میں مرتب کیا گیا ہے۔ اس لئے کسی بھی قسم کی غلطیوں اور خامیوں کے لیئے پیشگی معذرت کے ساتھ ساتھ دوستوں سے ان غلطیوں کی نشاندہی اور تصحیح کا خواست گار ہوں ۔
قیام پاکستان سے قبل کے سنیماؤں میں سب سے پہلے ذکر کروں گا، گوجرانوالہ کے سنیماوں کا۔
پاکستان بننے سے پہلے یہاں پر تین عدد سنیما تھے ۔ ریجنٹ ، کشمیر محل ، اور نشاط سنیما ۔ ریجنٹ گوندلہ والا چوک کے قریب جی ٹی روڈ پر واقع تھا ، یہ سنیما غالبا” 2002 تک چلتا رہا ،
2008 میں اسے گرا کر مارکیٹ بنا دی گئی۔ نشاط سنیما سیالکوٹی دروازے کے سامنے جی ٹی روڈ پر واقع تھا ، جی ٹی روڈ کی توسیع کی نذر ہونے والے اس سنیما کی جگہ اب موٹر سائیکل اسٹینڈ قائم ھے ۔
کشمیر محل سنیما ، سابقہ وزیر محنت غلام دستگیر کے والد کو پاکستان بننے کے بعد کلیم میں ملنے والے اس سنیما کی جگہ پر اب لنڈا بازار اور دکانیں ہیں ۔ اس کے بالکل برابر میں گلستان سنیما بھی انہی کی ملکیت ھے جو اب بھی قائم ھے ۔
اب چلتے ہیں قصور جس کے بارے میں کہا جاتا ھے ، کہ
قصور نہ تیرا ھے نہ میرا ھے ،
بلکہ قصور نورجہاں کا ھے ،
قصور میں 1930 میں ریلوے اسٹیشن کے پاس ایک ہندو سیٹھ نے میجیسٹک کے نام سے ایک سنیما بنایا تھا ، جو قصور شہر کا پہلا سنیما تھا ، جس پر 1954 میں فلم سسی کئی ہفتوں تک زیر نمائش رہی ۔ 1930 سے 1980 تک چلنے والے اس سنیما کی جگہ پر اب راجہ سنٹر قائم ھے ۔
اس کے بعد فیصل آباد کی طرف۔ پاکستان بنتے وقت فیصل آباد میں بھی تین عدد سنیما موجود تھے۔ نشاط ، ریگل ، اور منروا سنیما ۔
فیصل آباد میں سب سے پہلے نڑوالا روڈ پر 1938 میں نشاط سنیما کا قیام وجود میں آیا ، اس کے بعد مزید دو سنیما ریگل اور منروا تعمیر کیے گئے۔ 1990 کی دہائی کی وسط میں منروا سنیما کی بیسمنٹ میں سٹار سنیما بنایا گیا تھا۔ میرے دورہ فیصل آباد کے وقت منروا اور سٹار دونوں سنیماؤں پر اسٹیج ڈرامے پیش کئے جا رہے تھے ۔
2019۔02۔21 کو میں نے خود اپنےموبائل سے نورمحل ، منروا اور سٹار سنیماؤں کی تصاویر بنائی تھیں اور نشاط سنیما کو گراتے وقت کی تصویر بھی نیٹ سے حاصل کی تھی ۔ نشاط سنیما کی جگہ پر اب پلازہ بنا دیا گیا ھے۔ اس کے علاوہ ریگل کی موجودہ حالت کے بارے میں لا علم ہوں ۔
اب ذکر ہوگا ملتان کے سنیماؤں کا۔ ملتان کے جو سنیما قیام پاکستان کے وقت ہمیں ورثے میں ملے، ان کی تعداد چھ ہے ۔
1 کراؤن ٹاکیز
2 رادھو ٹاکیز
3 امپیریل سنیما
4 نیو کراؤن ٹاکیز
5 حشمت محل سنیما ( ابتدائی نام معلوم نہیں )
6 نورمحل سنیما
اول ذکر تین سنیما 1929 سے بھی پہلے کے قائم ہیں ۔

پہلے ذکر کرتے ہیں کراؤن ٹاکیز کا ۔
کراؤن ٹاکیز کے مالک سیٹھ رادھو ملک سے لالہ حکومت رائے نے تھیٹر کرائے پر لے رکھا تھا، گونگی فلموں سے پہلے سنیما میں اسٹیج ڈرامے اور ناچ گانا ہوتا تھا، بعد میں ٹاکی فلموں کی نمائش ہوتی تھی، لالہ حکومت رائے نے کراؤن ٹاکیز سے اتنا کمایا ، کہ انہوں نے کچھ عرصہ بعد کراؤن ٹاکیز سے حسین آگاہی کی طرف چند قدم کے فاصلے پر ، نیو کراؤن ٹاکیز کے نام سے ایک بڑا تھیٹر ہال تعمیر کیا، اور کرائے پر لئے پرانے کراؤن ٹاکیز کو ان کے مالک سیٹھ رادھو ملک کو واپس کرکے نئے کراؤن ٹاکیز پر ساری توجہ مرکوز کی، اسٹیج ڈراموں کے ساتھ ساتھ یہاں فلموں کی نمائش بھی ہوتی تھی ، نیو کراؤن ٹاکیز میں پنجابی زبان کی فلم ہیر سیال مسلسل 52 ہفتے تک زیر نمائش رہی ، اس فلم میں ہیر کا کردار صبیحہ خانم کی والدہ اقبال بانو اور کیدو کا کردار ایم اسماعیل نے ادا کیا تھا، جب لالہ حکومت رائے نے کراؤن ٹاکیز سیٹھ رادھو ملک کو واپس کیا، تو انہوں نے کراؤن ٹاکیز کی تزین و آرائش کے بعد سنیما ہال میں تبدیل کیا، اور اس کا نام کراؤن ٹاکیز سے بدل کر رادھو پیلس رکھا، جو کچھ عرصہ بعد صرف پیلس کہلانے لگا،
قیام پاکستان کے وقت سیٹھ رادھو ملک بھارت چلا گیا، تو پیلس سنیما مشہور فلم ہدایت کار نذیر اور ان کی بیوی سورن لتا کو الاٹ ہوا ، جنہوں نے سنیما کا نام بدل کر محفل سنیما رکھا ۔
رادھو ٹاکیز ، اس قدیم ترین عمارت کی بار بار مرمت ہو چکی ھے ۔ رادھو ٹاکیز ، اور کراؤن ٹاکیز کے زمانے کا ایک امپیریل سنیما بھی تھا، امپیریل سنیما ملتان چھاونی کے علاقے میں تھا۔
قیام پاکستان سے پہلے قائم ملتان کا ایک اور تھیٹر جس کا ابتدائی نام تو معلوم نہ ہو سکا، لیکن بعد میں ستارہ ٹاکیز کے نام سے مشہور اس تھیٹر کا نام قیام پاکستان کے بعد تبدیل کر کے حشمت محل سنیما رکھا گیا تھا ۔
نورمحل سنیما ، قیام پاکستان سے قبل قائم یہ ملتان کا پہلا سنیما تھا ، جن کے مالک مسلمان تھے ، تحریک آزادی کے دنوں میں سنیما کو کسی وجہ سے آگ لگ گئی ، اور سنیما مکمل جل کر خاک ہو گیا ، مالکان نے بھی ہمت نہیں ہاری اور کچھ ہی عرصہ بعد سنیما کو نئے سرے سے تعمیر کرکے نئے سنیما کا نام نورمحل سے تبدیل کرکے تاج محل رکھ دیا گیا ۔
اب چلتے ہیں راولپنڈی ۔
قیام پاکستان سے پہلے قائم پنڈی شہر کے سنیماؤں میں سب سے پہلے ذکر کریں گے خورشید سنیما کا ، راجہ بازار کے کمیٹی چوک میں قیام پاکستان سے قبل سے تا حال قائم ہندو سیٹھ کے بنائے ہوئے اس سنیما کا پرانا نام نگار سنیما تھا ۔ پرانی دستاویزات میں پنڈی کے ایک پرانے سنیما لکشمی سنیما کا ذکر ملتا ھے ۔ کہا جاتا ہے کہ خورشید سنیما کا نام نگار سے پہلے لکشمی سنیما تھا ۔ خورشید سنیما اب بھی اپنی اوریجنل بلڈنگ کے ساتھ اردو اور زیادہ تر پشتو فلموں کا مرکز بنا ہوا ھے ۔
اب ذکر کریں گے صدر میں قائم اوڈین سنیما کا جسکا ابتدائی نام لینس ڈاؤن سنیما تھا ، جسے سوجھان سنگھ نے لینس ڈاؤن کی حدود میں بنایا تھا۔ سوجھان سنگھ کا شمار راولپنڈی شہر کے رئوسا میں ہوتا تھا ، جسے انگریزی سرکار کی طرف سے رائے بہادر کا خطاب بھی ملا تھا۔ کافی عرصے تک بند رہنے والے اس سنیما کی آج کل تزین و آرائش کا کام جاری ھے ۔
صدر میں اوڈین سنیما کے قریب ہی پلازہ سنیما ھے ، پلازہ سنیما کا ابتدائی نام الفنسٹن تھا ، سنیما میں ایک ڈانسنگ فلور بھی تھا۔ برطانوی دور میں چھاونی میں مقیم برطانوی فوج کے افسران تسکین طبع کے لئے پلازہ سنیما کے ڈانسنگ فلور کا رخ کرتے تھے ۔ اوڈین کی طرح پلازہ سنیما بھی اپنی اوریجنل حالت میں قائم ھے ۔
اب باری ھے روز سنیما کی ۔ فوارہ چوک میں قائم روز سنیما کا افتتاح 1926 میں ہوا تھا ، روز سنیما کے افتتاح کے موقع پر ڈپٹی کمشنر سمیت شہر کے عمائدین نے شرکت کی تھی ، اس سنیما پر پہلے شو میں فلم Rupert of hentzan چلائی گئی تھی ، برصغیر کی پہلی بولتی فلم عالم آرا کی نمائش کے لئے بھی پنڈی میں اسی سنیما کا انتخاب کیا گیا تھا ۔ حال ہی میں روز سینما گرا دیا گیا ہے۔
اب ذکر آتا ہے ایک اور سینما کی جس کا نام امپیریل سنیما تھا جہاں اب امپیریل مارکیٹ ھے ۔ شنید ھے کہ امپیریل سنیما بھی قیام پاکستان سے قبل کا ھے ۔
قیام پاکستان سے قبل تعمیر کیا گیا ایک سنیما نیو روز بھی تھا، بعد میں نیو روز سنیما کا نام تاج محل سنیما رکھا گیا ، تاج محل سنیما کے مالک کے بارے میں مشہور تھا کہ یہ اپنی سنیما میں ٹکٹ بلیک پر بیچنے کا سخت مخالف تھا ، اس لئے تاج محل سنیما میں ٹکٹ ہمیشہ اپنی اوریجنل قیمت پر ہی فروخت ہوتے تھے ۔ اوڈین کی طرح روز سنیما اور نیو روز سنیما بھی پاکستان بننے سے پہلے سوجھان سنگھ کی ملکیت تھے ، تاج محل سنیما کو 1984 میں گرا کر مارکیٹ بنا دیا گیا ھے ۔
ریلوے اسٹیشن کے بالکل قریب ہی بینک روڈ پر 1919 میں روشن لال بلڈرز نے کیپٹل نام کا سنیما بنایا تھا ، جو اس وقت اپنی اوریجنل بلڈنگ کے ساتھ دولت کے پجاریوں کے انتظار میں ھے ،کہ کب اسے گرا کر کوئی پلازہ بنایا جائے ۔ (نوٹ۔ کیپیٹل سینما گرا دیا گیا ہے)
لیاقت روڈ پر راجہ بازار میں قیام پاکستان سے قبل تعمیر کیا گیا نشاط سنیما اب بھی اپنی اورجنل حالت میں موجود ھے، لیکن شائد کسی کیس کی وجہ سے کافی عرصے سے بند پڑا ھے ۔
راجہ بازار کے قریب کشمیری بازار میں بھی پاکستان بننے سے پہلے ناولٹی نام کا سنیما تھا جسکا ابتدائی نام ناولٹی ٹاکیز تھا ، سنیما ختم ہوئے کو عرصہ ہوا ھے ، اس سنیما میں ریلیز ہونے والی 1964 کی فلم نائلہ کی کمائی سے کمیٹی چوک میں شبستان سنیما بنایا گیا تھا۔
منڈی بہاؤالدین میں بھی قیام پاکستان سے قبل روز نام کا ایک سنیما تھا ، جس کی جگہ پر اب پلازہ قائم ھے۔
اب باری ھے مردان کے سنیماوں کی ۔ مردان میں قیام پاکستان سے قبل کے تین سنیماؤں کا سراغ ملا ھے ۔ منظور ٹاکیز ، تاج سنیما ، اور گولڈن سنیما ۔
ان میں سے دو سنیما منظور ٹاکیز اور تاج سنیما تو کنفرم ہیں، لیکن گولڈن سنیما کے بارے میں دوستوں کے ملے جلے تاثرات سامنے آئے ہیں ۔
مردان میں موجودہ سعیدہ مارکیٹ پاکستان چوک میں ایک سنیما خاموش فلموں کے دور سے ایک ہندو سیٹھ کی ملکیت تھا ، 1947 کے ہنگاموں میں جہاد کی نذر ہوتے ہوتے بچ جانے والے اس سنیما کا نام قیام پاکستان کے بعد نئے مسلمان مالک نے منظور ٹاکیز رکھا۔
جب میں مردان کے سنیماؤں کی کھوج میں مردان گیا تھا، تو اس سنیما کی جگہ کی نشاندہی کے سلسلے میں وہاں کے ایک مقامی بزرگ شخص سے ملنے کی بہت کوشش کی تھی جنہوں نے منظور ٹاکیز پر خود فلمیں دیکھی تھیں ، لیکن شومئی قسمت کہ باوجود طویل انتظار کے ان سے ملاقات نہ ہو سکی ، وقت کی کمی کی وجہ سے مجھے منظور ٹاکیز کی جگہ کی فوٹو لئے بغیر واپس آنا پڑا تھا۔
تاج سنیما کا افتتاح 1941 میں ہوا تھا ۔ مردان کے یہ سنیما اپنا وجود برقرار رکھنے میں ناکام رہے ہیں ۔
اب رخ کرتے ہیں پشاور کا۔ میری تحقیق کے مطابق پاکستان بننے سے پہلے پشاور میں 6 عدد سنیما تھے ، جن میں باوجود نہایت کوشش کے اول ذکر سنیما کا نام معلوم نہیں ہو سکا ،
1 : نامعلوم سنیما
2 : امپیریل تھیٹر ( ناولٹی سنیما )
3 : پکچر ہاؤس سنیما
4 : دلشاد ٹاکیز ( تصویر محل سنیما )
5 : وائٹ روز سنیما ( ناز سنیما )
6 : گریژن سنیما ( پی اے ایف )
1 : جنگ عظیم کے بعد پشاور کے قصہ خوانی بازار میں ایک سنیما تعمیر کیا گیا تھا ، کچی اینٹوں سے بنے اس سنیما کے پروجیکٹر کو بجلی نہ ہونے کی وجہ سے ہاتھوں سے چلایا جاتا تھا ، اس وقت صرف خاموش فلمیں ہی بنتی تھی ، کچھ عرصے بعد سنیما آگ کی نذر ہو گیا اور مقامی لوگوں کے اعتراض کی وجہ سے سنیما کی تعمیر دوبارہ ممکن نہ ہو سکی ۔
2 : موجودہ بدرمنیر روڈ پر 1925 میں ایک ہندو سیٹھ اچرچ رام نے امپیریل تھیٹر کے نام سے ایک سنیما بنایا، جو پشاور شہر کا پہلا سنیما کہلایا ، خاموش فلموں کے ساتھ ساتھ سنیما میں موسیقی شو اور ڈانس پروگرام بھی پیش کئے جاتے تھے ، پہلی ٹاکی فلم عالم آرا کے ریلیز کے وقت امپیریل تھیٹر کا نام امپیریل ٹاکیز اور آخر میں ناولٹی سنیما رکھا گیا ، بلور برادران کے اس سنیما کی جگہ پر اب کثیرالمنزلہ پلازہ تعمیر کیا گیا ھے ۔
3 : خاموش فلموں کے دور میں ہی ایک سکھ تاجر سونتی سنگھ نے پشاور میں پکچر ہاؤس کے نام سے ایک سنیما تعمیر کیا، جس میں 1941 میں فلم سکندر کی نمائش بھی ہوئی تھی، جس کے موسیقار سلمی آغا کے نانا رفیق غزنوی تھے ، اسی سنیما پر حادثاتی طور پر ہیرو بننے والے بیدار بخت کی پہلی فلم ارمان بھی سپر ہٹ کامیابی کی سند حاصل کر چکی تھی، نہایت خستہ حال بلڈنگ کے ساتھ سنیما اب بھی چالو حالت میں ھے ۔ (نوٹ ۔ حال ہی میں پکچر ہائوس سینما کو بھی گرا دیا گیا ہے)
4 : موجودہ بدرمنیر روڈ پر پاکستان بننے سے پہلے دلشاد ٹاکیز کے نام سے تعمیر ہونے والے سنیما کو آغا جی اے گل صاحب نے کرائے پر لیا تھا جو پاکستان بننے تک ان کے پاس رہا، اس دوران انہوں نے اپنے ذاتی سنیما کا سنگ بنیاد رکھا، اور دلشاد سنیما کو ان کے مالکان کو واپس کر دیا، پاکستان بننے کے فورا” بعد 15 اگست 1947 کو انہوں نے اپنے ذاتی سنیما فردوس سنیما کا افتتاح کیا اور یوں فردوس سنیما پاکستان بننے کے بعد پہلا سنیما قرار پایا ، موجودہ ہدایت کار عنایت اللہ خان کے والد حبیب اللہ فردوس سنیما کے منیجر مقرر ہوئے ، جو بعد میں مشہور فلمساز بنے ،
واپس دلشاد سنیما کی طرف آتے ہیں ، دلشاد سنیما کے مالکان نے بعد میں دلشاد کا نام تصویر محل سنیما رکھا ، جسے حال ہی میں مسمار کر دیا گیا ھے ۔
5 : پشاور شہر میں سردار ارجن سنگھ نے وائٹ روز کے نام سے ایک سنیما تعمیر کیا، جس میں خاموش فلموں کے ساتھ ساتھ ڈانس اور موسیقی کے پروگرام ہوتے تھے، پاکستان بننے کے بعد نئے مالک نے سنیما کا نام ناز سنیما رکھا ، سنیما کے موجودہ مالک غالبا” جان محمد خان ابھی بھی اس سینما کو چلا رہے ہیں۔
6 : اس کے علاوہ 1931 میں پشاور میں ائر فورس کے زیر انتظام گریژن سنیما تعمیر کیا گیا تھا ، بعد میں اس سنیما کا نام پی اے ایف سنیما رکھا گیا تھا، جو اب ختم ہو چکا ھے ۔ اس کے علاوہ کوہاٹ میں بھی قیام پاکستان سے قبل کیپٹل نام کا ایک سنیما تھا ۔
اب باری ھے سندھ کے مشہور شہر حیدرآباد کی ۔ حیدر آباد میں قیام پاکستان سے پہلے پانچ عدد سنیما تھے ۔
نیو میجیسٹک سنیما پرانی عید گاہ کینٹ ۔ قیام پاکستان سے قبل کا یہ سنیما غالبا” حیدر آباد شہر کا سب سے پرانا سنیما تھا ، نیو میجیسٹک سنیما کی جگہ پر اب پاک سٹی ٹاور قائم ھے۔
کیپٹل سنیما 1932 سے 1979 چوڑی مارکیٹ نزد پنجرہ چوک کی جگہ پر اب پلازہ قائم ھے ۔
نشاط سنیما نزد میمن ہسپتال کی جگہ پر اب نشاط ٹاور موجود ھے ۔ نورمحل سنیما کی جگہ پر اب اوپر رہائشیں اور نیچے دکانیں ہیں۔
راحت ٹاکیز رسالہ روڈ کی جگہ پر اب مسکان جینئیس بلڈرز والوں کا پلازہ ھے ۔
اب چلتے ہیں لاڑکانہ ۔ پاکستان بنتے وقت لاڑکانہ میں بھی دو عدد سنیما موجود تھے ۔ رائیل سنیما اور ایمپائر سنیما ۔ رائیل سنیما 1932 سے 1992 تک قائم رہا۔ اور ایمپائر سنیما 1932 سے 2004 تک قائم رہا۔ فردوس سنیما میرپور خاص کی پرانی طرز تعمیر کی بلڈنگ بھی قیام پاکستان سے قبل قائم ہونے کی دلالت کرتی نظر آتی ھے ۔
سندھ کے مشہور شہر ٹھٹھہ میں بھی قیام پاکستان سے قبل کا ایک سنیما تھا ، 1933 میں تعمیر کئے گئے اس سنیما کا افتتاح 1934 میں ہوا تھا ، سنیما کا ابتدائی نام تو معلوم نہیں ہو سکا ، لیکن دوسرا نام نیشنل سنیما تھا ، سنیما عرصہ سے بند پڑا ھے ، مکمل چار دیواری کے ساتھ سنیما بغیر چھت کے اب بھی قائم ھے ۔ مالک سنیما کو پلازہ بنانے کی تیاری میں ھے ۔
اس کے بعد کوئٹہ کے ایک سنیما کا ذکر کریں گے ، اکثر دوست جانتے ہیں ،کہ پاکستان بننے سے پہلے 1930 میں کوئٹہ میں اوپیرا سنیما کا افتتاح ہوا تھا، جو 1935 میں کوئٹہ میں آنے والے زلزلے میں مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا، اس کے بعد اس سنیما کو دوبارہ تعمیر نہیں کیا گیا ۔
یہ تھا قیام پاکستان سے قبل قائم کراچی اور لاہور کے علاوہ دیگر شہروں کے سنیماؤں کا احوال =
Facebook Comments HS

