خواب، محبت اور زندگی (32)


mahnaz rahman

حصہ دوم۔ دی لیفٹ
یہ حصہ بنیادی طور پر میرے لیفٹسٹ آدرشوں اور خوابوں سے لے کر عملی جدوجہد کا حصہ بننے تک کے سفر کی کہانی ہے۔ میں کیسے نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن NSFکا حصہ بنی۔ میں نے کیسے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کے کامیاب انتخابی مہم چلائی اور کراچی یونیورسٹی کے سب سے بڑے ڈپارٹمنٹ کی اکنامکس سوسائٹی کی پہلی ترقی پسند لیفٹسٹ خاتون نائب صدر منتخب ہوئی۔ اور بہت سے فیصلہ کن لمحات اور واقعات کے ساتھ ساتھ کیسے میں کمیونسٹ تحریک کے چین نواز دھڑے کی جانب کھنچتی چلی گئی۔
ان واقعات کے ذکر کے ساتھ ساتھ میں یہ بھی بتانا چاہوں گی کہ کیسے مجھے یہ حسرت رہی کہ کاش ہمارے سینئیر کامریڈز نے اس تحریک سے جو سبق سیکھا تھا، وہ ہمیں بھی سکھایا ہوتا لیکن پھر ہماری نسل نے بھی یہی غلطی دہرائی، ہم نے بھی اگلی نسل کو یہ نہیں بتایا کہ ہم نے پاکستان میں انقلاب لانے کی کوششوں سے کیا سبق سیکھا، ہم سے کیا غلطیاں اور کوتاہیاں ہوئیں۔ بائیں بازو کے دانشوروں نے سرمایہ داری کی خوفناکی، سامراجیت کے استحصال اور دنیا کو درپیش مختلف مسائل اور مصائب کے بارے میں تو شاندار مضامین قلم بند کیے لیکن ہم میں سے کسی نے بھی اسی شد و مد کے ساتھ بائیں بازو کی تحریک کی دستاویز بندی اور اس کے بارے میں سوال اٹھانے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی یہ بتایا کہ تحریکیں کیسے بنتی اور چلائی جاتی ہیں۔ اس کے لئے کیا کچھ درکار ہوتا ہے؟ آپس میں یک جہتی کیسے پیدا کی جائے اور گروہ بندی سے کیسے بچا جائے۔ زمینی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے قابل عمل حکمت عملی کیسے تیار کی جائے؟ یہ وہ علم ہے جو آرام دہ کرسیوں پر بیٹھنے
والے اکیڈیمکس یا ماہرین فراہم نہیں کر سکتے۔
چنانچہ اس حصے میں اپنی کم علمی کے باوجود میں کوشش کروں گی کہ بائیں بازو کی طاقت اور کمزوریوں کا جائزہ لوں۔ شاید میری یہ کوشش جدوجہد کی طویل اور غیر یقینی شاہراہ پر چلنے والے مستقبل کے ایکٹوسٹس کے لئے چراغ راہ ثابت ہو۔

باب پنجم:انقلاب زندہ باد۔ کراچی یونیورسٹی

حیدرآباد میں زبیدہ کالج اور ہوسٹل میں ایک سال گزارنا میری زندگی میں ایک خاموش انقلاب لانے کا سبب بنا۔ کتابوں سے بچپن سے عشق رہا تھا۔ کلاسز ختم ہونے کے بعد میں لائبریری کا رخ کرتی تھی۔ جلد ہی میں نے لائبریری میں موجود اردو ادب کی ساری کتابیں پڑھ ڈالیں۔ مطالعے کے لئے اتنا وافر وقت پہلے کبھی نہیں ملا تھا۔ شاید ان ہی کتابوں نے میرے اندر روایات سے بغاوت کا بیج بویا۔ اسے آپ اصطلاحی معنوں میں سوشلزم یا آئیڈیالوجی تو نہیں کہہ سکتے لیکن نا انصافی کے خلاف میرے اندر ایک شدید قسم کی غیر متزلزل حساسیت پیدا ہو گئی تھی۔ مجھے ساحر اور فیض اور دیگر ترقی پسند شعرا کی شاعری متاثر کرتی تھی۔ کرشن چندر اور سارے ترقی پسند ادیب اچھے لگتے تھے لیکن جس ناول کا جادو سر پر چڑھ کر بولا وہ قرۃالعین کا آگ کا دریا تھا۔ ان سب کی تحریریں معاشرے اور نظام کے خلاف ایک بے چینی اور اضطراب اور عام لوگوں سے محبت کا جذبہ پیدا کرتی تھیں۔

فہمیدہ ریاض کی روایت شکنی

میرے نظریاتی اور فکری سفرپر ایک فوری اور گہرا اثر اس شاعرہ نے ڈالا جو مجھ سے پہلے حیدرآباد کے اسی کالج اور ہوسٹل میں رہ چکی تھی۔ وہ جا چکی تھی مگر کالج اور ہوسٹل کے درو دیوار میں اس کے ادبی کارناموں اور سیاسی بغاوتوں کی بازگشت سنائی دیتی تھی۔ میرا آج بھی ماننا ہے کہ وہ پاکستان کی سب سے زیادہ جینئس شخصیات میں سے ایک تھی۔ اس کی چھوٹی بہن نجمہ ریاض میری کلاس فیلو بھی تھی اور ہوسٹل میٹ بھی تھی۔ وہ میری اچھی دوست بن گئی تھی اور یہ دوستی آج بھی قائم ہے۔ اسی نے مجھے بتایا کہ کیسے فہمیدہ نے اختیاری مضمون کے طور پر بدھ ازم کا انتخاب کر کے کالج انتظامیہ کو مشکل میں ڈال دیا تھا کہ صرف ایک طالبہ کے لئے بودھ مت پڑھانے والی لیکچرر کہاں سے لائیں۔ اور کیسے ایوب خان کی حکومت کے خلاف اس نے کالج کی عمارت پر سیاہ جھنڈا لہرایا تھا۔ نجمہ نے زندگی کے ہر موڑ پر اپنی بہن کا ساتھ دیا۔
فہمیدہ شادی کے بعد لندن چلی گئی تھی اور ہم یہی سمجھتے تھے کہ وہ ایک خوش گوار اور آرٹسٹک زندگی گزار رہی ہو گی۔ اس دوران اس نے بی بی سی کے لئے بھی کام کیا تھا۔ اور ڈاکیومینٹری فلمسازی میں ڈپلومہ بھی لیا تھا۔ کالج کے زمانے میں اس کا پہلا مجموعہ کلام ہمارے ہاتھ لگا۔ ”پتھر کی زبان‘‘۔ ہمیں تو ایک کچی عمر کی خوب صورت نسائی آواز کا اردو شاعری میں اضافہ بہت اچھا لگا۔ لیکن بعد میں فہمیدہ نے اپنی اس دورکی شاعری کو رد کر دیا تھا۔ مجھے ’پتھر کی زبان‘ کی ایک نظم بہت پسند آئی تھی اور اس کی کچھ سطور مجھے آج بھی یاد ہیں :
میرا حوصلہ سر کو زانو پہ رکھے
خجالت سے آستیں میں منہ چھپائے
بڑی دیر سے سسکیاں لے رہا ہے
میری بے بسی مجھ پہ ظاہر ہے لیکن
تمہاری تمنا! تمہاری تمنا
میری فہمیدہ ریاض سے پہلی ملاقات 1970 کے عشرے کے ابتدائی نصف حصے میں ہوئی۔ میں اس وقت روزنامہ مساوات میں کام کر رہی تھی اور فہمیدہ لندن سے ان ہی دنوں واپس آئی تھی۔ اس کی ’متنازع‘ شاعری کا مجموعہ ’بدن دریدہ‘ شائع ہو کر ادبی حلقوں میں طوفان بپا کر چکا تھا۔ فہمیدہ کے نسوانی خواہش اور اختیار کے بے باک اظہار نے مرد حضرات کو چونکا دیا اور انہیں یہ ناگوار بھی گزرا۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ کوئی عورت اتنی سچائی کے ساتھ اپنے جنسی تجربے کو بیان کر سکتی ہے۔ اس شاعری کے خلاف کچھ حلقوں کا رد عمل بے حد شدید اور کردار کشی اور الزام تراشی سے لبریز تھا۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں ہم تصور بھی نہیں کر سکتے کہ فہمیدہ نے کیا کچھ سہا ہو گا۔
فہمیدہ کی وفات کے بعد دی سیکنڈ فلور ٹی ٹو ایف میں ہونے والے تعزیتی اجلاس میں عطیہ داؤد نے فہمیدہ کے ظفر اجن سے شادی کے فیصلے کا ذکر کیا۔ ان کی بات اپنی جگہ صحیح ہو گی لیکن میں مساوات کی ملازمت کے زمانے میں فہمیدہ سے کافی قریب رہی۔ ہم سب اسے ایک بہادر انسان کی حیثیت سے جانتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ بدن دریدہ کی اشاعت کے بعد مردوں کے رد عمل سے گھبرا کر فہمیدہ نے اجن سے شادی کا فیصلہ کیا تھا۔ خواہ ڈر کر نہ کیا ہو زچ ہو کر کیا ہو لیکن اس وقت اسے وہ تحفظ چاہیے تھا جو شادی کا ادارہ فراہم کرتا ہے۔
فہمیدہ صرف دنیائے ادب کی نامور شخصیت نہیں تھی۔ وہ ایک بے لوث اورسرگرم نظریاتی اور سیاسی ایکٹوسٹ بھی تھی اور اس نے جلا وطنی سمیت اپنے عقائد کی بھاری قیمت ادا کی۔ بد قسمتی سے اس وقت ہم چین نواز اور سوویت نواز کیمپوں میں بٹے ہوئے تھے۔ مجھے یاد ہے ایک دفعہ انگولا کے مسئلے پر فہمیدہ اور میری گرما گرم بحث ہو گئی اور احفاظ ہم دونوں کے درمیان کھڑے شرمندگی سے مسکراتے رہے۔ اب سوچتی ہوں تو اپنی حماقت پر ہنسی آتی ہے۔ دونوں طاقتوں کے اپنے اپنے جیو پولیٹیکل مفادات تھے اور ہم آدرش پسند لوگ ان کو صحیح یا غلط ثابت کرنے کے لئے ایک دوسرے سے لڑتے رہتے تھے۔
ضیا الحق کے دور میں فہمیدہ نے ہندوستان میں پناہ لی جب کہ ہم احفاظ کی بے روزگاری سے تنگ آ کر چین چلے گئے۔ نظریاتی اختلاف اور سیاسی کشیدگی نے کبھی ہمارے تعلقات کو متاثر نہیں کیا۔ ہم ہمیشہ گرم جوشی، محبت اور احترام کے ساتھ ایک دوسرے سے ملتے رہے۔ زندگی کے دکھ خاص طور پر نو عمر بیٹے کی موت بھی فہمیدہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو گہنا نہیں پائی۔ وہ صرف اچھی شاعرہ ہی نہیں غضب کی نثر نگار بھی تھی۔ وہ ایک جینئس، بہادر، روایت شکن اور اپنی نوعیت کی واحد شخص تھی۔ بہرحال جس معاشرے کو اس نے چیلنج کیا اور گراں قدر ادبی خدمات سر انجام دیں، اس معاشرے نے اسے وہ مقام نہیں دیا جس کی وہ بجا طور پر مستحق تھی۔ میں اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتی ہوں کہ اپنی زندگی کے تشکیلی دور میں مجھے فہمیدہ جیسی شخصیت سے تحریک ملی۔ اور اس سے بھی بڑی خوش قسمتی یہ کہ مجھے فہمیدہ سے دوستی کا شرف حاصل ہوا۔

Facebook Comments HS