ذہنی امراض کی صورت حال، وزیرستان کے تناظر میں
سابقہ قبائلی اضلاع، خصوصاً لوئر وزیرستان میں جاری بدامنی، غیر یقینی حالات اور دہشت گردی کے مسلسل اثرات نے ذہنی صحت کے بحران کو وبائی شکل دے دی ہے۔ پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (PTSD) یہاں کی آبادی میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ لوگ شدید ذہنی اذیت، بے چینی اور ڈپریشن کا شکار ہو چکے ہیں۔ اس کا اندازہ بڑے شہروں جیسے پشاور اور ڈی آئی خان میں سائیکاٹری کلینکس پر وزیرستان سے تعلق رکھنے والے مریضوں کے ہجوم سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف اگر مقامی سطح پر غیر رسمی سروے کیا جائے، تو میڈیکل اسٹورز پر دستیاب سائیکاٹری ادویات کی فروخت سے بھی صورتحال کی سنگینی واضح ہو جاتی ہے۔ غربت کے باوجود لوگ مہنگی دوائیں خریدنے پر مجبور ہیں، کیونکہ یہاں نہ مناسب ذہنی صحت کی سہولیات میسر ہیں، نہ ہی سرکاری یا غیر سرکاری سطح پر موثر ذہنی صحت کے پروگرام موجود ہیں۔
میں یہ بات تسلیم کرتا ہوں کہ اسپتال، ادویات اور میڈیکل کیمپ اس مسئلے کا مکمل حل نہیں ہیں۔ ذہنی صحت کا دیرپا اور موثر علاج اس وقت ممکن ہے جب علاقائی حالات بہتر ہوں، خصوصاً امن و امان کی بحالی سے۔ بصورت دیگر یہ تمام اقدامات عارضی ریلیف کا ذریعہ تو بن سکتے ہیں، لیکن مسئلے کی جڑ کو نہیں پکڑ سکتے۔
پی ٹی ایس ڈی اس خطے کے ہر فرد کے ذہن میں نصب ایک ایسا بم ہے جو وقتاً فوقتاً پھٹتا ہے کبھی خودکشی کی صورت میں، کبھی شدید غصے، خاندانی جھگڑوں یا معمولی تنازعات کے بڑھنے کی صورت میں۔ ہم حکومتِ پاکستان، محکمہ صحت، اور تمام متعلقہ اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ قبائلی اضلاع بالخصوص اپر، لوئر اور شمالی وزیرستان میں پائیدار امن کے قیام کو ترجیح دیں، اور ساتھ ہی ذہنی صحت کے شعبے کو مستحکم کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کریں۔


