گمشدہ لوگوں کے قصے
ساز اگروال کی کتاب ”سندھ :اسٹوریز فرام اے لوسٹ ہوم لینڈ“ (سندھ: گمشدہ وطن کے فسانے ) آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی طرف سے 2013 میں شائع کی گئی ہے۔ یہ کتاب ہندستان میں ایک مختلف نام ”سندھ: اسٹوریز فرام اے وینشڈ مدرلینڈ“ ( سندھ : غائب کردہ مادرِ وطن کے فسانے ) کے نام سی چھپی۔ مس اگروال کے بقول، آکسفورڈ پاکستان نے انہیں کہا کہ ’سندھ کو تاحال غائب نہیں کیا گیا۔‘ اس لیے پاکستانی ایڈیشن کے لیے انہوں نے اپنی کتاب کا عنوان تبدیل کر لیا۔
کتاب میں عام ہندو عورتوں اور مردوں کے سندھ اور اس سے باہر گزرے ہوئے وقت کی چھوٹی چھوٹی آپ بیتیاں لکھی گئی ہیں۔ سندھ کے بارے میں منتخب علمی مضمون، تقسیمِ ہند کے وقت کچھ اہم سرکاری اجلاسوں کے نوٹس اور کتابوں سے اقتباسات بھی دیے گئے ہیں جن کے ذریعے قارئین اس خطے میں ہونے والے کچھ اہم واقعات سے بہرہ مند ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں، اس دور کی گھریلو اور سماجی زندگی کے بارے میں کارآمد پس منظر بتایا گیا ہے جس میں گزشتہ صدی کے اوائل میں سندھ کی ہندو خواتین کا بدلتا ہوا کردار، ہندو مسلمان تنازعات کی شروعات اور صحت و تعلیم کے بارے میں لوگوں کے عمومی رویے شامل ہیں۔
پاکستان بننے کے بعد سندھ میں ہندو آبادی پر اولین منظم حملے مسعود کھدرپوش کی سرکردگی میں ضلع نوابشاہ میں ہوئے تھے۔ اس کے بعد دسمبر 1947 میں حیدرآباد اور جنوری 1948 میں کراچی میں خونریزی کے بعد سندھ سے ہندووں کی نقل مکانی کی شروعات ہوئی تھی۔ کتاب میں لکھا ہے کہ مسعود کھدرپوش کے پھیلائے ہوئے لوگ، جانے والے ہندو افراد سے زیور، کھانے کے ٹفن اور بستر بھی چھین لیا کرتے تھے۔
ہندو آبادی کی بڑی اکثریت 1947 میں، کچھ 65 اور 71 کی جنگوں کے بعد اور باقی ماندہ جنرل ضیا کے دورِ حکومت میں یہاں سے چلی گئی۔ اس پس منظر میں اس کتاب میں دی گئی ہر کہانی کے دو پہلو ہیں : پہلا یہ کہ سندھ کے شہروں لاڑکانہ، دادو، ڈھرکی، اُباوڑو، بِھریا، شہداد کوٹ، میہڑ، رتو ڈیرو، شکارپور، نوشہروفیروز اور حیدرآباد کی اُس وقت سماجی اور تمدنی زندگی کیا تھی اور یہ شہر کیسے ہوتے تھے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ، یہاں سے جانے کے بعد ، سندھی ہندوؤں نے نئے ہندستانی معاشرے، تجارت اور ثقافت میں اپنے آپ کو کس طرح ڈھالا، ہندستان سے باہر شنگھائی، جبرالٹر اور کینری جزائر میں کاروبار کی غرض سے جانے والے ہندو جن کے گھر بار سندھ میں تھے، انہوں نے اپنے خاندانوں کو کیسے بچایا۔
سندھ کی 50 فی صد غیر منقولہ جائیدادیں ہندووں کے پاس تھیں۔ یہ خوشحال لوگ یہاں سے بیدخل ہو کر شرنارتھی کیمپوں میں جا بسے لیکن اپنی قسمت کو صبر اور فراخدلی کے ساتھ قبول کیا۔ ان میں صفر سے شروعات کرنے، نئی حالتوں میں اپنے آپ کو ڈھالنے اور نئے زمانے کے ہنر صبر مندی سے سیکھنے کی بڑی صلاحیت تھی۔ کچھ بھی ہو جائے لیکن یہ لوگ بھیک نہیں مانگتے تھے۔ انہوں نے شروع میں ہی طے کر لیا تھا کہ انہیں راشن کی قطاروں میں کھڑا نہیں رہنا اور ماضی کا تذکرہ ترک کر دینا ہے۔
ان کے مرد، صبح کو تلے ہوئے آلو اور روٹی سفید کپڑے میں لپیٹ کر روزگار اور نوکری کی تلاش میں نکل جاتے، عورتیں کیمپوں میں پاپڑ اور مٹھائی بناتیں اور چھوٹے بچے بمبئی اور پونا کی ریل گاڑیوں میں پاپڑ، ٹافیاں، بسکٹ، کنگھیاں اور بَکل بیچنے نکل جاتے۔ ان میں سے کئی ٹرینوں کے نیچے آ کے مرے ۔ ہزاروں بچے، ہر روز سات آٹھ کلومیٹر پیدل چل کے اسکول جاتے تھے۔
ساز اگروال ایک جگہ لکھتی ہیں کہ شرنارتھی کیمپ میں ایک جگتیانی صاحب تھے، جو کہ کیمپ میں آلو چِپس فرائی کر کے بیچتے تھے۔ دو آنے میں آلو چپس کی ایک پڑیا دیتے تھے۔ یہ جگتیانی صاحب، کراچی میں فرانسیسی زبان کے استاد تھے۔ اسی کیمپ میں معروف سندھی شاعر پرسرام ضیا نے سگریٹ کا کیبن کھولا تھا۔ اس طرح پندرہ بیس سالوں میں سب کے سب نہ صرف اپنے پیروں پر کھڑے ہو گئے بلکہ گجراتی اور مرہٹہ ہول سیل تاجروں سے بھی آگے نکل گئے۔
سندھ کی ہندو کمیونٹی نے ہندستان میں کم آمدنی والوں کے لیے ہاؤسنگ اسکیموں میں بھی کافی بڑی سرمایہ کاری کی۔ اس مقصد کے لیے جیٹھی سپاہی مَلانی کی نو جیوت (نئی زندگی) کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کی بڑی خدمات ہیں۔ اس کے علاوہ بھائی پرتاب نے پندرہ ہزار ایکڑ زمین خرید کر ان بے گھر لوگوں کو دوبارہ آباد کیا۔ اِس وقت ضلع کچھ کا شہر ’گاندھی دھام‘ سندھی ہندووں کا بہت بڑا تجارتی اور ثقافتی مرکز ہے۔
ساز اگروال سندھی نہیں بولتیں۔ ان کی شادی گوا کے اگروال گھرانے میں ہوئی جو کہ کونکنی زبان بولتے ہیں۔ ساز کے گھر میں بھی کوئی سندھی نہیں بولتا اور نہ ہی سندھ کا کوئی ذکر ہوتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ خود اس کی سندھ سے دلچسپی ایلس ایل بینیا کی کتاب ’ایمپائرس آف دا انڈس‘ پڑھنے کے بعد ہوئی۔
ساز کے نانا کشن چند بجلانی سندھ کے نامور وکیل اور لاڑکانہ کے تھے۔ کشن چند، پاکستان بننے سے پہلے کچھ عرصے کے لیے سندھ کے پراسیکیوٹر جنرل بھی رہے تھے۔ مئی 1934 میں جب اللہ بخش سومرو کو قتل کیا گیا اور خان بہادر ایوب کھوڑو، ان کے بھائی اور دو اور لوگوں کو اس کیس میں نامزد کیا گیا تو کشن چند نے اس کیس میں خان بہادر کھوڑو کے وکیل دیال مل لالوانی کے ماتحت کے طور پر کام کیا تھا۔


