ایران پر اسرائیلی حملہ۔ پاکستان اور مسلم ورلڈ کے لئے کی ریڈ لائن
اسرائیلی فضائیہ نے جمعہ 13 جون کو ایران پر کئی حملے کر کے ایٹمی تنصیبات، ائر پورٹس اور فوجی ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں ایرانی کمانڈر انچیف سمیت کئی جرنیلوں اور نیوکلیئر سائنسدانوں کی شہادتوں کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجینسی نے NATANZ اٹامک پلانٹ پر حملے کی تصدیق کی ہے۔ جمعہ 13 جون کی دوپہر اور شام کو کیے جانے والے حملوں میں تبریز اور نوجہ ائرپورٹ کو نقصان پہنچنے کی بھی اطلاعات ہیں۔ ایران نے اس حملے کا جواب دینے کا اعلان کیا لیکن اسرائیل سے کئی گنا بڑا اور وسائل سے مالا مال ملک ہونے کے باوجود اسرائیلی جدید ٹیکنالوجی اور امریکی امداد کے مقابلے میں ایران محدود جنگی صلاحیت کا حامل ہے۔
اسرائیل گزشتہ کئی ماہ سے ایران پر حملے کی دھمکیاں دے رہا تھا اور دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران سے اس کے اٹامک پروگرام پر پابندیاں لگانے کی بات کرتے ہوئے اس سلسلے میں اس سے مذاکرات شروع کرنے کی بات کرتے چلے آرہے تھے اور یہ بیانات بھی دے رہے تھے کہ اگر ایران نے پابندیاں قبول نہ کیں تو پھر اسے جنگ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مذاکرات کی ٹیبل پر آنے سے کچھ دن پہلے ہی ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ کہہ کر کہ اسرائیل ایران پر حملہ کر سکتا ہے دنیا کا ذہن اس صورتحال کے لئے تیار کرنا شروع کر دیا تھا اور حملے سے چند گھنٹے پہلے منعقد ہونے والے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجینسی کے اجلاس میں ایران کے ایٹمی پروگرام کے خلاف قرار داد پاس کروا کے امریکہ نے اسرائیل کو حملے کی بنیاد فراہم کر دی۔
پاکستان اس اجلاس میں ماضی کی طرح غیر حاضر رہا۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کے یہ حملہ امریکہ کی آشیرباد سے کیا گیا ہے اور امریکہ فی الحال پس پردہ رہ کر اسرائیل کو حملے میں مدد فراہم کر رہا ہے اور اس جنگ میں باقاعدہ کودنے کے لئے ایران پر حملوں کے جواز کا انتظار کر رہا ہے اور یہ موقف بھی اختیار کر رہا ہے کہ ہم صورتحال کو دیکھ رہے ہیں اور ضرورت پڑی تو اسرائیل کی مدد کو میدان میں آ جائیں گے۔ اس کا مطلب ایک طرف دنیا کا یہ ذہن بنانا اور دیگر قوتوں کو بالواسطہ یہ باور کرانا ہے کہ اس جنگ میں کسی قوت کی طرف سے اسرائیل کے خلاف کوئی جنگی اقدام امریکہ کے خلاف تصور ہو گا۔ تاہم یہ بات خوش آئند ہے کہ پاکستان سمیت بیشتر اسلامی اور دیگر اہم ممالک نے اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہوئے جنگ کو فوری روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ لیکن اس مذمت سے تو اسرائیل اور امریکہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اس صورتحال کے پس منظر میں ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے دیے جانے والے مختلف بیانات کا جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ اسرائیل نے یہ جنگ امریکہ کی آشیرباد سے شروع کی ہے اور یہ ان کے طے کردہ اہداف تک جاری رہے گی۔ اور وہ اہداف یہ ہو سکتے ہیں کے ایران کو کمزور کر کے اپنی شرائط پر مذاکرات کی ٹیبل پر لایا جائے اور دوسرا یہ کے ایران کے اسٹریٹجک اثاثوں کو شدید نقصان پہنچا کر مذاکرات کے بغیر ہی مقاصد حاصل کر لئے جائیں اور دونوں صورت میں مقاصد حاصل ہونے کے بعد ایک بار پھر ڈونلڈ ٹرمپ جنگ بندی کے کریڈٹ کا ایک اور پر اپنے تاج میں لگانا چاہیں گے۔
پاکستان کے لئے اس کے پڑوسی برادر ملک پر مسلط کی جانے والی یہ جنگ اس لحاظ سے انتہائی تشویشناک ہے کہ اس کے اثرات براہ راست پاکستان پر مرتب ہوں گے۔ پاکستان جو کہ طویل عرصے کے بعد امریکہ سے تعلقات کی بہتری کی طرف بڑھ رہا تھا اب امریکی ناراضگی کے پیش نظر اس تنازع میں ایران کی کھل کر مدد نہیں کرسکے گا اور دوسری طرف انڈیا اور اسرائیل گٹھ جوڑ کے باعث ہماری افواج کو کسی بھی ایڈونچر سے بچاؤ اور نبٹنے کے لئے انتہائی الرٹ اور مسلسل جنگی حالت میں رہنا ہو گا جو کہ یقیناً کسی بھی ملک کی معیشت اور امن عامہ کی صورتحال کے لئے مثبت اثرات کا حامل نہیں ہوتا۔ پاک انڈیا تنازع کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کو مختلف لالی پاپ دے کر جنوبی ایشیا میں چین اور روس سے دور کر کے اپنے قریب کرنے اور ایران کے معاملے میں کوئی بڑا سفارتی و جنگی قدم اٹھانے سے باز رکھنے کی ایک کوشش ہو سکتی ہے۔
اس حملے کی ٹائمنگ پر غور کیا جائے تو اس وقت پاکستانی چیف آف آرمی سٹاف امریکہ میں مدعو ہیں اور ہم اس دعوت کا سفارتی لحاظ سے خوب ڈنکا پیٹ رہے ہیں۔ لہذا پاکستان کو یاد رکھنا چاہیے کہ امریکہ نے پاکستان کو ہمیشہ اپنے مفادات کے لئے استعمال کر کے بیچ منجھدار میں چھوڑ دیا ہے اور اسرائیل امریکہ انڈیا گٹھ جوڑ کا آئندہ ٹارگٹ پاکستان ہو سکتا ہے۔ اسرائیل اس سے قبل بھی پاکستان کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کرنے کی دھمکی دے چکا ہے۔ لہذا پاکستان سمیت اسلامی ممالک کو اسرائیلی حملے کی مذمت تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ تمام مصلحتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بغیر کسی تاخیر کے یک زباں ہو کر امریکہ پر ہر طرح کا سفارتی معاشی و اخلاقی دباؤ ڈال کر فوری طور پر ایران اور غزہ پر اسرائیلی حملے رکوانا چاہیے اور ایران پر اس حملے کو اپنی ریڈ لائن قرار دینا چاہیے۔ کیونکہ یہ اسلامی ممالک کی قوت کا شیرازہ بکھیرنے کے اس گرینڈ ایجنڈے کا حصہ ہے جس کے تحت حماس عراق ’لیبیا شام‘ مصر ’یمن کی فوجی اور معاشی طاقتوں کو ختم کیا گیا اور ایران کی باری ہے اور اس کے بعد خدانخواستہ پاکستان یا کسی اور اسلامی ملک کی باری آ سکتی ہے لہذا اس وقت خاموشی یا مصلحت پسندی مستقبل میں مسلم امہ کو مکمل فوجی معاشی اور اقتصادی تباہی کی طرف لے جا سکتی ہے۔


