اب تو کہیں کے نہیں رہے
میرے پر نانا اور دادا دونوں رزق کی تلاش میں پہاڑوں سے اتر کے شہروں میں چلے آئے تھے۔ اولادوں نے اسکول کالجوں کی شکلیں دیکھیں اور یوں پہاڑ کے بیٹے شہری بابو بن گئے۔ جنم میرا لاہور میں ہوا؛ ہوش راول پنڈی میں سنبھالا؛ لڑکپن میں گجرات پڑھنے چلا گیا؛ اور وہیں سے لاہور منتقل ہونا پڑا کہ پہلی ملازمت وہیں کی۔ لاہور سے ملتان، پنڈی؛ پنڈی سے لاہور، لاہور سے کراچی، لاہور، گلگت، کراچی سے کوئٹہ، سرگودھا، ایبٹ آباد، کراچی، حال مقیم راول پنڈی۔
عمر کو تین بڑے حصوں میں تقسیم کروں تو پنڈی، لاہور، کراچی میں تقسیم ہو جائے گی۔ اٹھارہ سال کی عمر کو پہنچتے ڈومیسائل بنانے کا مرحلہ در پیش تھا تو ایک انتخاب مانسہرہ کا تھا، یہاں سے میری والدہ کا ڈومیسائل ہے ؛ کہا گیا، یہاں سے بنواؤ، داخلے اور سرکاری ملازمت کے کوٹے میں حصہ مل سکتا ہے، مگر سرکار کی نوکری کس کو کرنا تھی۔ دوسرا انتخاب مری کا ہو سکتا تھا، جہاں سے آبا کا تعلق ہے، لیکن میں نے راولپنڈی کو منتخب کیا کہ یہاں ملکیتی مکان تھا۔
شناخت بنانے کی عمر ہوئی تو پنڈی کو خیر باد کہہ چکے تھے، لاہور میں پنڈی وال کہلائے، کراچی میں لاہوریا، اور واپس پنڈی کے ہوئے تو کراچیٹ شمار ہوتے ہیں۔ کوئی پوچھے کہاں سے ہیں تو جھٹ سے کہتا ہوں، ”اب تو کہیں کے نہیں رہے۔“
یہ عجب فلمی سا اتفاق ہے کہ ہوش سنبھالنے سے آج تلک جتنے پڑوسی ملے، وہ ”ہندستانی“ (مہاجر) نکلے۔ ہمارے گھروں میں اردو بولی جاتی ہے، اور الٹے توے کی چپاتی سمیت، ہمارے کھانوں کے نسخے بھی ”ہندوستانیوں“ والے ہیں، نا کہ پہاڑیوں کے کھانوں جیسے پتلا پانی، یا پنجابیوں کے کھانوں جیسے گھی نچڑتے پکوان (پنجابی کشمیریوں کی بات سوا ہے ) ۔ لیکن کڑھی ہزارے کی رہی، ساگ پنجاب کا اور آلو گوبھی پوٹھوہاری۔
پہلے پڑوسی یو پی کے تھے تو بعضے ہم سے بھی پوچھ لیا جاتا، آپ یو پی سے ہیں؟ ہم بچے ٹکڑ ٹکڑ دیکھتے کہ یو پی کیا ہے۔ شناختی کارڈ بنواتے فارم پر مادری زبان اردو لکھی تو پوچھا گیا، کیا آپ مہاجر ہیں؟ نفی میں جواب پا کر فارم لوٹا دیا گیا کہ پھر آپ مادری زبان اردو نہیں لکھوا سکتے۔ جھنجٹ سے بچنے کے لیے مادری زبان کے خانے میں ”پنجابی“ لکھ دیا۔
سرامکس پڑھنے گجرات پہنچا تو میری پنجابی (پوٹھوہاری) سن کر پنجابی ہنسنے لگتے کہ یہ کون سی زبان ہے۔ تین سال بعد جب گجرات سے لاہور منتقل ہوا تو گجراتی، جانگلی، وزیر آبادی، سیالکوٹی، فیصل آبادی لہجے میں بات کرنا سیکھ چکا تھا، اور لہجے سے بولنے والے کا علاقہ پہچان لیتا تھا۔
وہی دن ہوں گے کہ مانسہرہ ویگن اڈے پر کنڈکٹر سے تو تکار کی نوبت آ گئی؛ زچ ہو کے کنڈکٹر نے ساتھ والے سے ہندکو میں کہا، یہ اپنے علاقے کا نہیں، تبھی تمیز نہیں۔ یہ بات ماموں نے سنی تو اس کا گریبان پکڑ کے اسی کی زبان میں کہا کہ تیری ہمت کیسے ہوئی، ہمارے بچے کو غیر کہنے کی۔ اس دن سوچا، ہندکو بھی سیکھ لینی چاہیے تا کہ ماموں کو میرے لیے لڑنا نہ پڑے ؛ سیکھ لی۔
کراچی میں ایک نام نامی کے دفتر میں بیٹھے تھے، وہاں ایک صاحب نے میرا تعارف چاہا تو نام نامی نے شرارتی لہجے میں کہا، ”نجیب الطرفین پنجابی ہیں۔“ انھوں نے مجھ سے استفسار کیا تو میں نے ننھیال ددھیال کا پتا دیا۔ تس پہ انھوں نے جھٹلا دیا کہ پھر کہاں سے پنجابی ہوئے۔ میں منمنایا کہ ڈومیسائل پنجاب کا ہے تو انھوں نے پنڈی کو پنجاب سے نکال باہر کیا۔
کوئی آٹھ برس ادھر کی بات ہے، لاہور میں ایک دوست کی عیادت کے لیے آیا۔ رکشے میں بیٹھے ہم دوست پنجابی میں بات کر رہے تھے کہ رکشا ڈرائیور مجھ سے مخاطب ہوا، ”بھائی صاحب، کراچی سے آئے ہیں؟“ میں نے اثبات میں جواب دیتے پنجابی ہی میں پوچھا، کیا میری پنجابی ٹھیک نہیں؟ اس نے جوابی سوال کر دیا، ”کتنے دن ہوئے ہیں کراچی سے آئے؟“ میں نے بتایا، تین روز۔ تب اس نے اطمینان سے کہا، تین دن کے حساب سے تو ٹھیک لہجہ ہے۔ اس بات پر ہم کئی دن تک ہنستے رہے۔
کراچی سے پنڈی منتقل ہوئے چھہ برس ہونے کو آئے ؛ نہ پوٹھوہاری، نہ پنجابی اور نا ہی ہندکو لہجہ پکڑ میں آتا ہے۔ کہیں نہ کہیں کوئی نا کوئی پوچھ ہی لیتا ہے، ”بھائی صاحب، کراچی سے کب آئے؟“
آخر وہی بات، کوئی پوچھے کہاں سے ہیں تو یہی کہتے خلاصی پاتا ہوں، ”اب تو کہیں کے نہیں رہے۔“


