ایران نے دکھا دیا ہے کہ وہ اب بھی اسرائیلی حملوں کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے


ایران نے دکھا دیا ہے کہ وہ اب بھی اسرائیلی حملوں کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے: سیباسچن اُشر، مشرقِ وسطیٰ کے ایڈیٹر

جمعے کے روز اسرائیل نے ایران پر یکے بعد دیگرے کئی حملے کیے جن میں جوہری تنصیبات اور میزائل اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔

نطنز میں یورینیم افزودگی کے مرکز اور اصفہان کی جوہری تنصیب سمیت کئی اہم مقامات پر حملے کیے گئے جبکہ اعلیٰ فوجی کمانڈرز اور جوہری سائنسدانوں کو بھی مارا گیا۔

یہ کارروائیاں ایران اور اسرائیل کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی میں ایک بڑا اور خطرناک موڑ ثابت ہوئی ہیں۔

اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو کئی برسوں سے اس طرح کے حملے کی وکالت کرتے آئے ہیں۔ ان کے نزدیک ایران نہ صرف اسرائیل بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک خطرہ ہے۔

جمعے کے روز اپنے ایک بیان میں نیتن یاہو نے ایرانی عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنی آزادی کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔

اس کے جواب میں ایران نے کئی مرتبہ اسرائیل پر ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں سے حملے کیے۔ صبح کے وقت پہلا حملہ ناکام بنا دیا گیا تھا لیکن شام ہوتے ہی سائرن بجنے لگے اور یروشلم سمیت کئی علاقوں کے آسمان دھماکوں اور روشنیوں سے بھر گئے۔

تل ابیب میں دھوئیں کے بادل چھا گئے اور زور دار دھماکے ہوئے جس کے بعد شہری پناہ گاہوں میں چلے گئے جیسا کہ انھیں ہدایت دی گئی تھی۔

ایران نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اگرچہ وہ آج سے ایک یا دو سال پہلے کے مقابلے میں کمزور ہو سکتا ہے مگر اسرائیل کے غیر معمولی حملے کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت اب بھی رکھتا ہے۔

 تہران پر اسرائیلی حملے جاری رہنے کی اطلاعات ہیں

تہران سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق شہر کے مختلف حصوں میں اب بھی دھماکوں اور فضائی دفاعی سرگرمیوں کی آوازیں سنی جا رہی ہیں۔

ویڈیوز اور رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ وردآورد کے علاقے میں ایک ریڈار سائٹ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

جنوبی ایران کے علاقے عبدانان سمیت بعض دیگر مقامات پر بھی ریڈار سائٹس کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔

ایرانی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ مشرقی تہران کے علاقوں حکیمیہ اور تہران‌ پارس میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

ایرانی خبررساں ادارے اسنا کے مطابق حکیمیہ میں امدادی ٹیمیں روانہ کر دی گئی ہیں۔

سرکاری ذرائع نے مہرآباد کے علاقے میں ایک بڑے دھماکے کی تصدیق کی ہے۔

جاری کردہ ویڈیوز میں علاقے میں آگ اور دھویں کے بادل دیکھے جا سکتے ہیں۔

تاہم کچھ ذرائع نے مہرآباد کے قریب واقع آزادی ٹاور کو نقصان پہنچنے کی خبروں کی تردید کی ہے۔

’ایرانی حملوں میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی لیکن کافی تباہی ہوئی‘

اسرائیل کے ہیریٹز اخبار کے صحافی اور تل ابیب کے رہنے والے گیڈون لیوی نے اسرائیل پر ایران کے بیلسٹک میزائل حملوں کے بارے میں بی بی سی سے بات کی ہے۔

بی بی سی کے پروگرام نیوز آور کے لیے ایک انٹرویو میں لیوی جو تل ابیب میں ایک محفوظ مقام پر پناہ لیے ہوئے تھے نے بتایا کہ ’ہم نے دھماکوں کی بہت زور دار آواز سنی۔ یہ کوئی بہت خوشگوار احساس نہیں تھا۔‘

اس سوال پر کہ آیا ایرانی میزائلوں کو روکا گیا یا وہ شہر میں گرنے میں کامیاب رہے پر انھوں نے بتایا کہ ’کچھ کو دفاعی نظام نے روک لیا گیا، لیکن کچھ گرے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’کم از کم دو واقعات ایسے تھے جہاں وہ براہ راست عمارتوں پر گرے اور انھیں جزوی طور پر تباہ کر دیا۔‘ انھوں نے کہا ان حملوں میں ’کوئی جانی نقصان نہیں ہوا لیکن لوگ زخمی ہوئے ہیں اور کافی تباہی ہوئی ہے۔‘

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp