کرہ ارض پر مسلمانوں کی حیثیت


نقشے کو دیکھنے کے بعد ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کرہ ارض سرخ یعنی عیسائی ہے۔ اور مسلمان عیسائی کرہ ارض کے ایک چھوٹے سے حصے پر زندگی گزار رہے ہیں۔ جو علاقے یا براعظم عیسائی دنیا کے پاس ہیں۔ وہاں کے بے شمار وسائل وہ استعمال کر رہے ہیں۔ زرعی زمین، جنگلات، معدنیات، پانی کے وسائل، انرجی کے لئے ہوا کے بے شمار وسائل سولر وسائل، لاکھو میلوں پر پھیلے سمندری وسائل۔ گزشتہ 5 صدیوں میں یورپ اور امریکہ نے سماجی علوم اور قدرتی علوم میں بے شمار ترقی کی۔ اور انہی علوم نے آگے بڑھ کر نئی سے نئی ٹیکنالوجیز پیدا کیں۔ نئی سے نئی ایجادات کے مراکز بھی یورپ اور امریکہ ہی معلوم ہوتے ہیں۔ کائنات کے نئے نئے گوشے بھی یورپ اور امریکہ والوں کی جدوجہد کا نتیجہ ہیں۔ چاند کی تسخیر تو اب قصہ یارینہ ہوچکی ہے۔ اب تو مغرب ہماری زمین سے 4 کروڑ 75 لاکھ کلومیٹر دور مریخ پر جانے کی تیاری کررہا ہے۔ مریخ پر اب تک چار گاڑیاں (لیبارٹریز) پہنچائی جاچکی ہیں۔ سورج کے گرد گھومنے والے تمام سیاروں کے بارے مغرب کی تیارکردہ رصد گاہوں اور دوربینوں نے بے شمار معلومات اکٹھی کر لی ہیں۔
مغرب کی طاقت کاایک راز سائنس اور ٹیکنالوجیز کی وجہ سے ہے۔ اور وہ لوگ اب بھی تحقیقی کاموں پر اربوں ڈالر خرچ کرکے نئی سے نئی اشیا بناتے چلے جا رہے ہیں۔ اب مغرب کا دور سروسز کا دور کہلاتا ہے۔ اسے آپ پوسٹ انڈسٹریل دور بھی کہہ سکتے ہیں۔ مجھے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ مسلمان اب کبھی بھی مغربی دنیا (عیسائی دنیا) کو Catch upنہیں کر سکیں گے۔ رقبے اور سائنس وٹیکنالوجی نے اب بہت بڑا Gap پیدا کر دیا ہے۔ مغرب جب چاہتا ہے مسلم دنیا کو روند دیتا ہے۔ 9/11 کے بعد جو کچھ ہمارے ساتھ ہوا وہ ہم سب کو بہت اچھی طرح یاد ہے۔ گزشتہ 20 برس کے دوران عیسائی بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور اندازہ یہ لگایا جارہا ہے کہ اب سے20سالوں کے بعد مسلم بچوں کی مجموعی تعداد سالانہ حساب سے بڑھ جائے گی۔ لیکن یہ تو صرف ایک پہلو آبادی کی خبر ہے۔ کیا ہم رقبے کا فرق کم کرسکتے ہیں؟۔ یہ آج کل کے ماحول میں ناممکن ہے۔ اقوام متحدہ کو بھی آپ عیسائی کلب کہہ سکتے ہیں۔ عیسائیوں کے 157 ممالک کے بالمقابل مسلمانوں کے صرف 50 ممالک۔ ان میں سے بہت سے ایسے جو صرف گنتی کے لئے ہیں۔ آج کل بھی دو بڑی عیسائی طاقتیں روس اور امریکہ شام میں کھلی مداخلت کر رہی ہیں۔ مسلم ممالک کچھ روس کے ساتھ اور کچھ امریکہ کے حامی۔ مسلمانوں کی اجتماعی سوچ مرچکی ہے۔ اسے زندہ کرنا ضروری ہے۔ 40۔ ممالک کا اتحاد۔ امید کی ایک کرن ہے۔ مسلمانوں کے لئے "ایک ہو جانا” ہی بچنے کا طریقہ ہے۔ آخری بات جو مسلمانوں کے لئے ضروری ہے۔ تمام مسلم اقوام سائنس وٹیکنالوجی میں تیزی سے آگے بڑھیں۔ اپنی تحقیقات کو نئی نئی ٹیکنالوجیز میں ڈھالیں۔ اپنے تمام شعبہ جات میں اپنی تخلیق کردہ ٹیکنالوجیز کو استعمال کرنا سیکھیں۔ مغرب اور دوسرے ممالک سے بنی بنائی (تیارشدہ) اشیا نہ منگوائیں بلکہ خود اشیا سازی کریں۔ مسلمان اقوام انڈسٹریل دور میں تیزی سے داخل ہوں اور اشیا و مشینری میں خود کفیل ہوں۔ پھر یہاں سے مشینری ایکسپورٹ کریں۔ اس طرح دولت جو اب مشرق یعنی مسلم ممالک سے مغرب کو جاتی ہے۔ اس کے سفر کا رخ بدل جائے گا۔ مسلم اقوام جمود کا شکار ہیں۔ ذہنی جمود کو توڑ کر آگے کی طرف سفر کرنا شروع کریں۔ مسلمان کرہ ارض پر اپنا وجود بطور ایک "قوت” کے ثابت کر کے ہی وقار سے زندگی گزار سکتے ہیں۔

