پاکستانی ڈراموں کی ہیروئن کو آخر ہوا کیا ہے؟

ایسا ہمیشہ نہیں تھا۔ ان کہی، تنہایاں، دھوپ کنارے، خدا کی بستی، شہزوری – ان کہانیوں میں بھی خاندانی سیاستیں اور محبت اور طلاقیں ہوا کرتی تھیں لیکن بہرکیف ان کے پلاٹ حقیقت سے قریب تر اور اس میں سوچ اور فکر کا عنصر پایا جاتا رہا ہے۔ آج کل کے ڈراموں میں خواتین کا روپ بہت محدود کر دیا گیا ہے۔ اور میں بیٹھ کے محض تنقید نہیں کچھ اس سے بڑھ کر کرنا چاہتی تھی۔ یہ کہہ دینا آسان ہے کہ اچھا ڈرامہ لکھا نہیں جا رہا۔ مگر کوئی یہ نہیں بتا رہا کہ اچھا ڈرامہ کیوں نہیں لکھا جا رہا اور اس کے پیچھے کیا وجوہات ہیں۔ دی ریویو ود مہوش کی خصوصی پوڈکاسٹ میں میں نے مدعو کیا تزین جاوید کو جو کہ ایک صحافی بھی رہ چکی ہیں اور پاکستان بھر میں خواتین سے منسلک منصوبوں میں کام بھی کرتی رہی ہیں۔ آپ بھی سنئے اور اپنی رائے دیجئے۔

