بلا عنوان
جون 2025 کی شب کو اگر مشرقِ وسطیٰ کی کسی نئی تاریخ کا آغاز کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ یہ وہ رات تھی جب اسرائیل نے براہِ راست ایران پر انتہائی مہلک اور بڑی عسکری کارروائی کی، جس کے نتیجے میں ایران کے کئی اعلیٰ فوجی جنرل، ایٹمی سائنسدان اور حساس تنصیبات تباہ ہو گئیں۔ یہ حملہ نہ صرف ایران کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے بھی ایک انتباہ ہے۔ ایک آئینہ ہے، جس میں امت مسلمہ کی بے بسی، تقسیم اور مصلحت کا چہرہ صاف نظر آتا ہے۔
اسرائیل نے اس حملے کو ”آپریشن رائزنگ لائن“ کا نام دیا۔ اس آپریشن میں تقریباً 200 لڑاکا طیارے، خفیہ میزائل اور ڈرونز استعمال کیے گئے۔ حملہ ایران کے فوجی و ایٹمی نیٹ ورک پر کیا گیا، جس میں نطنز، فورڈو، اور دیگر تنصیبات نشانہ بنیں۔ اس حملے میں جن اہم شخصیات کی ہلاکت کی عالمی میڈیا نے تصدیق کی، ان میں :
میجر جنرل محمد باقری۔ ایرانی فوج کے چیف آف اسٹاف
میجر جنرل حسین سلامی۔ پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے سربراہ
میجر جنرل غلمعلی رشید۔ ایرانی اسٹریٹیجک کوآرڈینیشن فورس کے سربراہ
جنرل امیر علی حاجی زادہ۔ ایرانی ایرو اسپیس فورس کے سربراہ
ان کے ساتھ ساتھ چھ سے زیادہ سینئر نیوکلیئر سائنسدان بھی اس حملے میں مارے گئے، جن میں :
فریدون عباسی۔ سابق سربراہ، ایرانی ایٹمی انرجی آرگنائزیشن
محمد مہدی تہرانچی۔ ممتاز نیوکلیئر فزکس ماہر اور یونیورسٹی سربراہ
اور دیگر زیرِ زمین یورینیم افزودگی پروگرام کے مرکزی انجینئرز
اسرائیل کا یہ حملہ غیر متوقع نہیں تھا۔ گزشتہ کئی ہفتوں سے ایران اور اسرائیل کے درمیان پراکسی سطح پر تصادم جاری تھا، لیکن جمعہ کی رات اسرائیل نے براہِ راست ایران کی خودمختاری کو چیلنج کر دیا۔ ایرانی جوابی کارروائی میں سینکڑوں ڈرون اسرائیل کی طرف روانہ کیے گئے، مگر ان میں سے زیادہ تر کو عراق، اردن اور امریکی دفاعی نظام نے فضا میں ہی تباہ کر دیا۔
پوری مسلم دنیا میں اس واقعے پر حیرانی اور دکھ کا اظہار تو ضرور ہوا، لیکن کوئی اجتماعی یا عملی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ عرب ریاستیں خاموش ہیں، کچھ اس لیے کہ وہ اسرائیل سے سفارتی و تجارتی تعلقات بنا چکی ہیں، اور کچھ اس لیے کہ وہ ایران کو اپنا حریف سمجھتی ہیں۔ ترکی نے صرف بیان دیا، پاکستان نے مذمتی نوٹ جاری کیا، جبکہ دیگر اسلامی ممالک نے یا تو خاموشی اختیار کی یا مغرب کی پالیسیوں کو دیکھتے رہے۔
فلسطین کا معاملہ اس پوری صورتحال میں ایک بار پھر قربانی کا بکرا بن کر سامنے آیا ہے۔ اسرائیل نے اس حملے کو ”ایرانی خطرے“ کے خلاف پیش کیا، لیکن حملے کی آڑ میں غزہ، نابلس اور جنین پر بھی بمباری کی گئی، جس میں درجنوں فلسطینی شہید ہو گئے۔ اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ وہ حماس اور ایران کے درمیان تعلقات کی بنا پر کارروائی کر رہا ہے، لیکن عالمی مبصرین اس بات پر متفق ہیں کہ اسرائیل ہر بار ایران کے خلاف کارروائی کی آڑ میں فلسطینیوں کو نشانہ بناتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اب آگے کیا ہو گا؟ ایران کی قیادت نے شدید انتقام کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے : ”یہ حملہ جنگ کا آغاز ہے، نہ کہ انجام، اور ہم اس کا جواب زمین و فضا میں دیں گے۔“ اگر ایران نے براہ راست اسرائیل یا خلیجی ریاستوں میں امریکی مفادات پر حملے کیے تو مشرق وسطیٰ میں مکمل جنگ چھڑ سکتی ہے۔ اس صورت میں صرف ایران اور اسرائیل ہی نہیں، بلکہ پورا خطہ لپیٹ میں آ جائے گا، اور اس کا سب سے بڑا اثر معصوم شہریوں اور بالخصوص فلسطینیوں پر پڑے گا۔
یہ صورتحال مسلم دنیا کے لیے ایک اور موقع ہے۔ سوچنے کا، جاگنے کا اور متحد ہونے کا۔ اگر اب بھی اسلامی ممالک نے صرف مذمتی بیانات تک خود کو محدود رکھا تو وہ دن دور نہیں جب ایک ایک کر کے سب اس آگ کا ایندھن بنیں گے۔ امتِ مسلمہ کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ سفارتی، اقتصادی اور سیکیورٹی کے محاذ پر ایک موثر اتحاد قائم کرے، ورنہ کل کے مورخ لکھیں گے کہ جب بیت المقدس جل رہا تھا، تب اُمت صرف ”بیانات“ دیتی رہی۔


