خاموش بحران: پاکستان کے وہ مسائل جو نظر انداز ہو رہے ہیں


پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو بے پناہ قدرتی وسائل، نوجوان آبادی اور جغرافیائی اہمیت کے باوجود عالمی سطح پر متعدد شعبوں میں پسماندہ ہے۔ ترقی یافتہ دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کی بجائے، ہم مسلسل بنیادی مسائل میں الجھے ہوئے ہیں۔ پاکستان اقوام متحدہ کے انسانی ترقیاتی اشاریے (Human development Index) میں 193 ممالک میں سے 168 ویں نمبر پر ہے۔ یہ درجہ بندی تعلیم، صحت اور آمدنی جیسے عوامل پر مبنی ہوتی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ان تینوں شعبوں میں پاکستان مسلسل زوال کا شکار ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں ڈھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں اور اس تعداد کے ساتھ نائجیریا اور بھارت کے بعد پاکستان دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔ خوشی کے بین الاقوامی پیمانے یعنی ورلڈ ہیپی نیس انڈیکس میں بھی پاکستان ان ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں لوگ کم خوش اور زیادہ بے اطمینانی کا شکار ہیں۔ اس کی وجوہات میں سیاسی بے یقینی، معاشی دباؤ، بنیادی سہولیات کی کمی اور معاشرتی نا انصافی شامل ہیں۔ عوام کی اکثریت بنیادی ضروریات جیسے صاف پانی، صحت، تعلیم، روزگار اور انصاف تک رسائی سے محروم ہے، جس کا براہ راست اثر ان کے ذہنی و جسمانی سکون پر پڑتا ہے۔

پاکستان کی معیشت قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ ہر سال ملکی بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں کی واپسی اور سود کی ادائیگی میں صرف ہو جاتا ہے جبکہ صحت، تعلیم اور روزگار جیسے بنیادی شعبے نظر انداز ہو رہے ہیں۔ ملک میں ہر تیسرا فرد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہا ہے، جب کہ نوجوانوں کی بڑی تعداد بے روزگار ہے یا غیر معیاری روزگار پر مجبور ہے۔ اس وقت پاکستان میں اوسط زندگی کی مدت تقریباً 68 سال ہے جو عالمی اوسط سے کہیں کم ہے۔ ناقص صحت کا نظام، غیر معیاری اسپتال، مہنگی دوائیں اور دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات کا فقدان زندگی کے معیار کو گرا رہا ہے۔

خوراک کی دستیابی (Food Security) کے لحاظ سے صورتحال تشویشناک ہے۔ ملک میں ہر پانچواں فرد غذائی قلت یا غیر متوازن خوراک کا شکار ہے۔ زراعت میں جدت کا فقدان، موسمیاتی تبدیلیوں کا اثر، پانی کی قلت اور پالیسیوں میں تسلسل کی کمی اس شعبے کو زوال کی طرف دھکیل رہی ہے۔ تعلیم کا شعبہ بھی مایوس کن تصویر پیش کرتا ہے۔ پاکستان میں تعلیمی بجٹ جی ڈی پی کے صرف 1.7 فیصد کے لگ بھگ ہے، جو دنیا میں سب سے کم شرحوں میں سے ایک ہے۔ سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی کمی، ناقص اساتذہ کی تربیت، اور نصاب کا جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہونا بچوں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار نہیں کر رہا۔

ہنر اور مہارت کی تربیت کا نظام بھی پسماندہ ہے۔ پاکستان کا اسکل ڈویلپمنٹ انڈیکس جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک جیسے بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش سے بھی پیچھے ہے۔ ملک میں لاکھوں نوجوان محنت تو کرتے ہیں، مگر انہیں وقت کی ضرورت کے مطابق ہنر نہیں سکھایا جاتا، جس کی وجہ سے وہ نہ صرف بین الاقوامی مارکیٹ سے باہر ہو جاتے ہیں بلکہ ملکی معیشت پر بھی بوجھ بن جاتے ہیں۔

ان تمام مسائل کی جڑ معاشی بدنظمی، سیاسی عدم استحکام، کرپشن، ادارہ جاتی کمزوری اور پالیسیوں میں عدم تسلسل ہے۔ جب تک ریاستی ادارے میرٹ اور شفافیت کو اپناتے ہوئے فیصلہ سازی نہیں کریں گے، تب تک پاکستان عالمی درجہ بندیوں میں بہتری کی طرف نہیں بڑھے گا۔ اصلاحات کی ضرورت آج پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ صحت، تعلیم، خوراک اور روزگار جیسے شعبوں میں انقلابی اقدامات کرنے ہوں گے۔ ٹیکس نظام میں شفافیت، احتساب کا موثر نظام، اور عوامی نمائندوں کا خلوص ہی پاکستان کو ترقی کی راہ پر ڈال سکتا ہے۔

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کے پاس نوجوان آبادی، قدرتی وسائل، اور جغرافیائی اہمیت جیسے اہم اثاثے موجود ہیں۔ مگر یہ سب کچھ صرف اس وقت فائدہ مند ہو سکتا ہے جب نیت صاف ہو، پالیسیاں دیرپا ہوں، اور ترجیحات درست ہوں۔ قومیں خواب دیکھنے سے نہیں، بلکہ بیدار ہونے سے بنتی ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے بیدار ہو، ورنہ دنیا ہمیں پیچھے چھوڑ کر بہت آگے نکل چکی ہے۔

Facebook Comments HS