وارث میر بہت خوش ہوں گے

یقینایہ ایوارڈ پاکستان کی صحافت کا اعزاز ہے اور حامد میر پاکستانی صحافت کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ بات پاکستان میں آئین کی حکمرانی کی ہو یا پارلیمنٹ کی بالادستی کی عالمی طاقتوں کے پاکستان کے خلاف عزائم ہوں یا کشمیر میں بھارتی جارحیت ، بلوچستان کے عوام کا احساس محرومی ہو یا پسے ہوئے طبقات کے حقوق کی ترجمانی حامد میر جنوں کی حکائت لکھتے رہے۔
اس راہ میں کئی تکالیف، آزمائشیں اور خطرات آئے لیکن وارث میر کی تربیت ہی ایسی تھی کہ حامد میر کا آزادی صحافت پر سے ایمان متزلزل نہ ہو سکا۔ حامد میر صاحب کو ملنے والے ایوارڈ کے ہمراہ خطیر انعامی رقم تھی جو انہوں نے پاکستان میںآزادی اظہار کی راہ میں شہید ہونے والے صحافیوں کے لواحقین میں تقسیم کر دی۔ اس رقم کے علاوہ انہوں نے صحافیوں کے کوٹہ سے ملنے والا اسلام آباد کا پلاٹ بھی بیچ کر اس کا رِ خیر کی نذر کر دیا۔

یعنی یہ صحافی ایک داستان رقم کر گیا ، لیکن آفرین ہے کہ میڈیا مالکان پر جو اربوں کروڑوں کماتے ہیں لیکن شہید ہونے والے ان صحافیوں کے لواحقین کی کفالت نہ کر سکے۔ میڈیا مالکان کے کیمرے اور گاڑیاں تو انشورڈ ہیں لیکن میڈیا ورکرز انشورڈ نہیں بروقت تنخواہیں ہی مل جائیں تو بڑی بات ہے۔
لیکن آفرین ہے حامد میر پر جس نے یہ سچ کر دکھایا کہ بڑے دل کے لئے بڑا دولتمند ہونا ضروری ہیں۔ یقینا آج عرش بریں سے پروفیسر وارث میر مسکرا رہے ہوں گے اور حامد میر کے اس عمل پر بہت خوش ہوں گے۔

