سیاسی جماعتیں جمود کی نقیب ہیں


نواز لیگ کی حکومت کی طرف سے سال 2025 / 26 کے وفاقی بجٹ میں ملک کی خطِ غربت سے نیچے جینے والی 47 فیصد آبادی کو ریلیف دینے کی بجائے جس سفاکی کے ساتھ غریب کا خون نچوڑ کر بالادست طبقات کی پُر تعش زندگی کو سنوارنے کے اسباب مہیا کیے گئے اس نے مسلم لیگ نون سے مثبت تبدیلیوں کی توقع رکھنے والے عوام کو مایوس کیا، بلاشبہ ہماری اجتماعی حیات جس گہرے جمود کی گرفت میں ہے اس سے نجات پانا آسان نہیں ہو گا کیونکہ بالادست طبقات جمود کے بینفشری ہونے کی وجہ سے ہمیشہ ایسی صحتمند تبدیلی کی راہ میں حائل رہے، جس سے قومی وسائل کا رخ عوامی فلاح و بہبود کی طرف مڑ سکتا ہے۔ تاریخ بھی ہمیں یہی بتاتی ہے کہ حصول اقتدار کا نصب العین رکھنے والے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں بامعنی تبدیلیوں کے خلاف مزاحمت کا ٹول بنتی رہی ہیں چنانچہ دنیا بھر میں جہاں اور جب بھی کوئی سیاسی یا سماجی تبدیلی رونما ہوئی اس کا حقیقی محرک ہمیشہ وہی افراد بنے جو اقتدار کے طلبگار نہیں بلکہ اصلاحات کے خواہشمند تھے، نوع انسانی کی سماجی و سیاسی تاریخ میں معاشرتی نا انصافیوں اور سیاسی جمود کے خلاف آواز اٹھانے والوں میں ہمیں فلسفی، ادیب، شاعر، دانشور اور سماجی سائنسدان نمایاں نظر آتے ہیں۔

برصغیر میں پچھلے 125 سالوں میں سیاسی جماعتوں نے نو آبادیاتی نظام کے تسلسل کو برقرار رکھا ہوا ہے، یہاں کی حکمراں اشرافیہ نے ایسی سماجی تحریکوں کو پنپنے کی مہلت ہی نہیں دی جس سے انسانی ارتقاء میں مدد ملتی، جیسے یورپ میں تحریکِ اصلاح، نشاہِ ثانیہ اور روشن خیالی کی تحریکوں میں والٹیئر، روسو، ڈیڈرو، سپینوزا اور دیگر فلسفیوں نے جمود کے خلاف لافانی مزاحمتی کر کے انسانی حقوق اور فکری، مذہبی و سیاسی آزادیوں کے شعور کو متشکل کر کے سائنسی، علمی اور سماجی ترقی کی راہیں کشادہ بنائیں۔ سیاسی جمود، جس کی خصوصیات سیاسی منظرنامے میں بامعنی پیش رفت کو روکنا ہوتا ہے، افسردہ کن اطمینان کو فروغ دے کر ترقی کے لئے جدوجہد کی حوصلہ شکنی اور زندگی کی ازسرنو تزئین و آرائش کے لئے درکار اختراع کے داعی کو کند کر کے بالآخر زندگی کے مجموعی معیار میں گراوٹ کا سبب بنتا ہے۔ جمود سے مملو سیاسی ماحول اکثر مصنوعی خطرات کے خوف کے ذریعے غیر یقینی صورتحال پیدا کر کے مستقبل کی تعمیر کے جذبہ کو اعتماد کے فقدان کا شکار رکھتا ہے۔ اس لئے ہمارے یہاں سیاست میں بسیط اور دور رس منصوبوں کا فقدان رہا، سیاسی حرکیات کے فقدان نے نئے آئیڈیاز اور مسابقت کی فطری صلاحیت کو کند کر کے ٹیکنالوجی کے ظہور کی راہ روک لی۔ امر واقعہ بھی یہی ہے کہ اختراع کی کمی ہمیشہ سماجی عدم مساوات کو بڑھا کر دولت اور مواقع میں مزید تفاوت پیدا کر دیتی ہے، جس سے معاشرے کے اندر اختلاف رائے کا رجحان کمزور، شہریوں کی سیاسی عمل میں شمولیت کی حوصلہ شکنی اور تبدیلی کی وکالت کرنے کی صلاحیت بتدریج کم ہوتی جاتی ہے، جس کے نتیجہ میں معاشی جمود، سماجی عدم مساوات اور دبے ہوئے اختلاف رائے کا امتزاج انسانی مواد کے ذہنی زوال کا سبب بنتا ہے۔ قصہ کوتاہ سیاسی جمود فکری زوال کا ایسا چکر پیدا کرتا ہے، جہاں سیاسی میدان میں پیش رفت نہ ہونے سے سیاست، معاشرت، معیشت اور عام اذہان پہ مستقل تھکن کی کیفیت ہویدا رہتی ہے۔

تاہم سیاسی جماعتوں کے برعکس سماجی اور ادبی تحریکوں نے ہمیشہ اجتماعی زندگی پر مثبت اثر ڈالا، ثقافتی اصولوں کی تشکیل افراط و تفریط کو ختم کرنے میں معاونت کے علاوہ سماجی اور سیاسی تبدیلی کو آگے بڑھاتی رہی۔ ڈاکٹر جمیل جالبی نے لکھا ہے کہ ”ادب کسی بھی معاشرے کی روح کا ترجمان ہوتا ہے، جس معاشرے میں ادب پیدا ہونا بند ہو جائے سمجھو وہ معاشرہ اندر سے مر گیا“ بلاشبہ ادب سماجی اور اخلاقی مسائل کے بارے میں آگاہی پیدا کر کے باہمی ہمدردی کو فروغ اور اجتماعی فلاح کے عوامل کو مہمیز دیتا ہے۔ ادبی کاوشوں کے ذریعے ہم ثقافتی شناخت، طبقے، صنف اور دیگر سماجی زمروں سے متعلق علم حاصل کر کے مجموعی حیات میں توازن پیدا کر سکتے ہیں، جیسے ڈرامہ، فلم اور ناول کے ذریعے پسماندہ گروہوں یا نا انصافیوں کے شکار لوگوں کو درپیش مشکلات کو اجاگر کر کے پورے معاشرے کو ازالہ کی ترغیب دی جاتی رہی تاکہ ہم سب کو اِس دنیا کو یکساں طور پر برتنے میں مدد ملے یعنی ادب افراد کے متنوع نقطہ نظر میں ہم آہنگی پیدا کر کے باہمی ہمدردی اور بھائی چارہ کے ذریعے معاشرے کو فعال اور طاقتور بناتا ہے۔ برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں میں سماجی اور سیاسی بیداری کو فروغ دینے میں کانگریس اور مسلم لیگ کی بجائے سرسید کی علمی و سماجی تحریک زیادہ موثر ثابت ہوئی جس کی بدولت مسلم معاشروں میں روشن خیالی، جدید علوم کو حاصل کرنے کے شوق سمیت کئی مثبت تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ جس طرح انیسویں صدی کے وسط میں Harriet Beecher Stow کے ناول ”انکل ٹام کا کیبن“ نے غلامی بارے میں رائے عامہ کو تشکیل اور غلامی کے خاتمہ کی تحریک کے لیے ہراول دستے کا کام کیا تھا۔ یہ ادب ہی تھا جو طویل عرصے سے جبر پر روشنی ڈالنے اور معاشرتی تبدیلی کو ہوا دینے کا طاقتور آلہ بنا رہا۔

قدیم یونان کی رزمیہ نظموں اور تریجڈی داستانوں سے لے کر شکسپیئرکے ناول ”ہملٹ اور جیولس سیزر“ ، گوئٹے کے ”فاوسٹ“ اور ٹالسٹائی کے ”وار اینڈ پیس“ میں فنکارانہ اظہار سے بڑھ کر نا انصافیوں کو روشن کرنے کی گہری صلاحیت کا اظہار کیا گیا۔ زمانوں کے دوران، مصنفین نے سماجی ڈھانچے کی تنقید کے لئے اپنے قلم چلائے، مظلوموں کو آواز دی اور تبدیلی کی تحریکوں کی بنیاد رکھی۔ غلامی اور نسلی تعصب کی دلکش داستانوں سے لے کر صنفی عدم مساوات اور طبقاتی تقسیم کے خلاف جدوجہد کی کہانیوں تک، ادب نے معاشرتی تبدیلی کی لہر کی مسلسل عکاسی کی۔ والٹیئر جنہوں نے مذہبی عدم رواداری، آزادیِ اظہار اور کلیسا و بادشاہت کے گٹھ جوڑ کے خلاف ناقابل فراموش قلمی جدوجہد کی بنیاد رکھی۔ یہ جان ژاک روسو تھا جس نے ”معاہدہِ عمرانی (The Social Contract ) میں یہ تصور پیش کیا تھا کہ جائز حکومتی اختیار عوام کی مرضی کے بغیر نہیں ملتا، روسو کے خیالات نے فرانسیسی انقلاب کی فکری بنیاد فراہم کر کے بدترین جمود کے خلاف ایک فکری مزاحمت کو جنم دیا چنانچہ جب تک عوامی سطح پہ سماجی سائنسدان، دانشور، شاعر اور ادیب علمی اور ادبی تحریکیں برپا کر کے جمود کے خلاف فکری مزاحمت پیدا نہیں کرتے اس وقت تک ہمارا معاشرہ فلاحی ریاست کے تصور کو عملی شکل دینے میں کامیاب نہیں ہو گا۔

Facebook Comments HS