محکمہ تعلیم میں انٹری


صبح دس بجے کے قریب بس نے گورنمنٹ ہائی سکول روجھان کے گیٹ کے سامنے اتار دیا۔ گیٹ کے ساتھ ہی ایک شخص زمین پر بیٹھا ہوا حقے کے دھوئیں کے مرغولوں میں ہر چہ کہیں ہے کہ نہیں ہے کی تصویر بنا بیٹھا تھا۔ وہاں کا حقہ بھی عجیب سی ساخت کا ہوتا ہے۔ چلم کے ساتھ ہی ایک ڈیڑھ فٹ کی ایک نڑی عموداً لگائی جاتی ہے۔ اس کی چلم میں تمباکو بھی خاص قسم کا ہوتا ہے۔ اسے چلم میں ڈال کر اس کے اوپر بس دو تین کوئلے ہی رکھے جاتے ہیں۔ اور حقہ پینے والا زمین پر بیٹھ کر اس کے لمبے لمبے کش مسلسل کھینچتا جاتا ہے۔ اور دھوئیں کے مرغولے ہوا میں چھوڑتا جاتا ہے۔ دو تین منٹ میں ہی وہ اپنے ماحول کو دھواں دھواں کر دیتا ہے اور بس یہی حقہ پینے کا دورانیہ ہے۔ ہماری طرح حقہ صبح سے لے کر شام تک نہیں چلایا جاتا۔ ایک سگریٹ پینے کے وقت سے بھی شاید کم وقت میں ہی وہ لوگ حقہ پی کر فارغ ہو جاتے ہیں۔ جونہی میں گیٹ کے اندر داخل ہوا۔ وہ شخص گھبرا کر کھڑا ہو گیا۔ حقہ اپنے پیچھے چھپانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے مجھے سلام کیا۔ اور تیزی سے بیگ میرے ہاتھ سے پکڑ لیا۔ میں نے اس سے دریافت کیا کہ ہیڈ ماسٹر بیٹھے ہوئے ہیں۔ کہنے لگا کہ نہیں جناب وہ تو کل سے اپنے گھر کوٹ مٹھن گئے ہوئے ہیں۔ ہیڈ ماسٹر صاحب کی عدم موجودگی کا علم ہوتے ہی میری حس مزاح انگڑائی لے کے پوری طرح بیدار ہو گئی اور روجھان سے متعلقہ تمام خوفناک معلومات اور آدم خور وحشی قبائل جیسے میرے اپنے مفروضات سارے کے سارے یک دم ذہن سے ایسے محو ہو گئے جیسے یہاں کبھی موجود ہی نہ تھے۔ اور تمام تر توجہ موجودہ صورت حال میں مزاح کے لیے دستیاب اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھانے پر مرتکز ہو گئی۔ ایسے ماحول میں مزاح کے علاوہ باقی تمام مسائل کو نظر انداز کر دینا میرا پرانا وتیرہ ہے۔ اس سلسلے میں پہلے ایک اور واقعہ بیان کرتا چلوں۔

میں حج کے لیے سعودیہ گیا ہوا تھا۔ اور خانہ کعبہ کے گرد پورے خشوع و خضوع کے ساتھ طواف میں مصروف تھا۔ شدید گرمی کا موسم تھا اور موسم کی شدت سے بچاؤ کے لیے میں نے سر پر ایک بڑا سا پگڑ باندھا ہوا تھا۔ شیو بھی خاصی بڑھی ہوئی تھی۔ اس حلیے میں عام واقف کار کے لیے مجھے پہچان لینا آسان کام نہیں تھا۔ دوران طواف میں نے اپنے دائیں کندھے کے اوپر سے دیکھا تو مجھے قمرو بھائی نظر آئے۔ جو نہ صرف میرے ساتھ چل رہے تھے۔ بلکہ مجھے بغور دیکھتے ہوئے پہچاننے کی کوشش بھی کر رہے تھے۔ مجھے پہلی نظر میں ہی صورت حال کا اندازہ ہو چکا تھا۔ اور اس کے ساتھ ہی میرے اندر موجود مزاح کی حس پوری طرح چاق و چوبند ہو چکی تھی۔ اب میں سب کچھ بھول چکا تھا۔ کہ کہاں ہوں کیا کر رہا ہوں۔ یہاں پر ادب اور تعظیم کے تقاضا جات کیا ہیں میں صرف اور صرف اپنی حس مزاح کی تسکین کے لیے فوراً ہی منصوبہ بندی کر چکا تھا۔ تھوڑی دیر اسی طرح بے دھیانی سے چلنے کے بعد میں نے ایک بار پھر قمرو بھائی پر ایک انجان سے نظر ڈالی۔ جو مسلسل بغور میری طرف دیکھتے ہوئے چلے آرہے تھے۔ جونہی ہماری آنکھیں چار ہوئیں وہ فوراً بولے تم خالد ہو۔ میرے لیے اس کا سوال حسب توقع تھا۔ میں نے طے شدہ منصوبے کے متعلق فوراً جواب دیا۔ لا، لا، انا عبدا اللہ، انا من الہمن۔ اس کے ساتھ ہی نہ بولی اور نہ سمجھی جانے والی خود ساختہ عربی بڑبڑاتے ہوئے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کر دیا۔ اور چہرے کو ناک کی سیدھ میں کرتے ہوئے حسب سابق ہی چلتا گیا۔ یاد رہے کہ قمرو بھائی بورے والا میں کسی زمانے میں ہمارے پڑوس میں رہا کرتے تھے۔ تھوڑی دیر کے بعد صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے چہرے کو پھر دائیں طرف گھمایا۔ قمرو بھائی حسب سابق میرے کندھے کے ساتھ ساتھ مجھے بغور دیکھتے ہوئے چلے آرہے تھے۔ انہوں نے ایک بار پھر مخاطب ہونے کی کوشش کی تو میں نے چہرے پر ناپسندیدگی کے تاثر کے ساتھ ان کے بولنے سے پہلے ہی اپنے ہاتھ کو اوپر کر کے نفی میں ہلایا اور خود ساختہ عربی میں کچھ بولنے کی کوشش سے پہلے ہی وہ ظالم تیزی سے میرے سامنے آ کھڑا ہوا۔ اور میرا چہرہ خانہ کعبہ کی طرف گھما کر بولا۔ تمہیں یہ معلوم ہے کہ تم کس جگہ کھڑے ہو کر جھوٹ بول رہے ہو۔ یہ بات میرے علم میں تو یقیناً تھی لیکن مزاح کی حس کے غلبے کی وجہ سے چند لمحوں کے لیے ذہن سے بالکل ہی نکل چکی تھی۔ فوراً اعتراف جرم کیا قمرو سے معذرت چاہی اور بڑی گرم جوشی سے معانقہ بھی کیا۔

اب یہی حس مزاح پوری طرح چاق و چوبند ہو چکی تھی۔ میرے استفسار پر مذکورہ حقہ نوش نے بتایا کہ وہ اس سکول کا نائب قاصد کرموں ہے۔ میں نے چہرے پر خفگی کے اثرات کے ساتھ اسے گھورتے ہوئے سختی سے ڈانٹا۔ تمہیں شرم نہیں آتی سکول ٹائم میں سکول کے اندر طلباء کے سامنے بیٹھ کر حقہ پیتے ہو۔ وہ شرمندہ سا کھڑا رہا میں نے کہا چلو مجھے ہیڈ ماسڑکے دفتر لے چلو۔ اب صورت حال یہ تھی کہ کرموں میرا بیگ اٹھائے میرے آگے آگے چل رہا تھا اور میں سوٹ ٹائی میں ملبوس افسرانہ انداز میں اس کے پیچھے پیچھے آ رہا تھا۔ جب میں سکول میں داخل ہوا تھا۔ تو بیشتر طلباء کمروں سے باہر دوڑ بھاگ رہے تھے۔ شور شرابا کر رہے تھے۔ اور اساتذہ کرام دو دو چار چار کی ٹولیوں میں کھڑے گپ شپ لگا رہے تھے۔ یہ سکول تقریباً ڈیڑھ دو ایکڑ زمین پر مشتمل تھا۔ جس میں چاروں طرف کمرے بنے ہوئے تھے۔ اور باقی ساری جگہ درمیان میں خالی چھوڑی ہوئی تھی۔ اس لیے میں اور کرموں سکول میں موجود سبھی لوگوں کی نظر میں تھے۔ اور اس کے خاطر خواہ نتائج بھی حاصل ہوئے۔ فوراً ہی اساتذہ کرام نے بھاگ بھاگ کر طلباء کو کلاس روم میں بھیجنا شروع کر دیا۔ ہمارے دفتر پہنچنے پر سب لوگ کمروں میں پہنچ چکے تھے۔ اور اساتذہ نے پڑھانا شروع کر دیا تھا۔ میں دفتر میں آ کر ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔ اور خالص پاکستانی افسرانہ انداز میں کرموں کو ڈانٹتے ہوئے پوچھا۔ کون ہے انچارج ہیڈ ماسڑ۔ کرموں نے بتایا کہ مولوی نور محمد خان وہاں پر سکول ٹیچر کو ماسٹر کی بجائے مولوی صاحب کہہ کر پکارا جاتا تھا۔ میں نے کہا کہ انہیں فوراً دفتر بلا کر لاؤ۔ تھوڑی دیر کے بعد مولوی نور محمد صاحب تشریف لے آئے۔ چھوٹے سے قد، دبلے پتلے جسم اور روایتی وضع قطع کے ساتھ گھبرائے ہوئے دفتر میں داخل ہوئے۔ میں نے انہیں کچھ پوچھنے کا موقع دیے بغیر ہی ان پر چڑھائی کر دی۔ نور محمد خان یہ سکول ہے یا بھنگڑ خانہ۔ تم اچھے ہیڈ ماسٹر ہو۔ یہی ڈسپلن ہے۔ تمہارا سارا سکول ہی کمروں سے باہر ہے۔ ہیڈ ماسٹر کہاں ہے تمہارا، میرا انداز ایسا تھا۔ جیسے کہ وہ میرا ماتحت ہو۔ وہ بے چارہ مسکین آدمی بالکل ہی گھبرا چکا تھا۔ اور اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اپنی صفائی کیسے دے۔ اتنے میں ایک اور ٹیچر دفتر میں داخل ہوئے۔ اور آتے ہی نہایت بے تکلفانہ انداز میں بولے، خالد صاحب ہم تو بہت دنوں سے آپ کا انتظار کر رہے تھے۔ آپ بہت لیٹ پہنچے ہیں خیریت تھی اور ساتھ ہی بڑی گرم جوشی سے جپھا مار لیا اور اس کے ساتھ ہی ہماری خود ساختہ افسری بھی دور کہیں روپوش ہو گئی۔ ہم سات لوگوں کی ایک ہی لیٹر پر ایک ساتھ تقرری ہوئی تھی۔ اور موصوف میاں چنوں سے آنے والے خادم صاحب تھے۔ میرے راز کے طشت ازبام ہوتے ہی نور محمد صاحب بڑی پھرتی سے دفتر سے باہر جا چکے تھے۔

میں اور خادم صاحب ابھی محو گفتگو ہی تھے کہ تقریباً سکول کا سارا سٹاف ہی نور محمد خان صاحب کی سربراہی میں اندر آ دھمکا اور سب لوگ خاموشی سے کرسیوں پر بیٹھ کر مجھے گھورنے لگے۔ اب مجھے حالات کی سنگینی اور اپنی اس بے وقوفی کا اندازہ ہوا۔ لیکن اب تو تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ جو ہونا تھا وہ ہو چکا تھا۔ دل ہی دل میں ہرچہ بادا باد کا نعرہ لگاتے ہوئے اپنے آپ کو اپنی مزاح کی حس کی بدولت پیدا ہونے والے حالات اور ان کے نتائج کا خمیازہ بھگتنے کے لیے تیا ر کر رہا تھا۔ وہ سب لوگ تین چار منٹ تک بالکل خاموشی سے باجماعت مجھے گھورتے رہے۔ اس کے بعد غازی خان نام کے ایک ٹیچر کھڑے ہو کر بولے۔ خالد صاحب آپ کی جرات بلکہ حماقت کو ہم سلام کرتے ہیں۔ اس علاقے میں پنجاب سے جو بھی آتا ہے وہ ڈر اور خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ آپ پہلے شخص ہیں جس نے ہمارے گھر میں آ کر ہم سب کو ڈرایا ہے۔ بہرحال ہم آپ کو سلام بھی کرتے ہیں اور کھلے ہوئے دل کے ساتھ آپ کو یہاں خوش آمدید بھی کہتے ہیں۔ یہاں تقریباً پانچ ماہ کا عرصہ میں نے گزارا۔ ان سب لوگوں کی محبتیں اور چاہتیں آج بھی خوبصورت یادوں کی شکل میں میرے ذہن کے پردوں پر نقش ہیں اور مجھے اس عرصہ میں انہوں نے وہاں پر ایک لمحے کے لیے بھی کسی قسم کی اجنبیت کا احساس نہیں ہونے دیا۔

ہر اجنبی ہمیں محرم دکھائی دیتا ہے
جب بھی تیری گلی سے گزرنے لگتے ہیں

Facebook Comments HS

6 thoughts on “محکمہ تعلیم میں انٹری

  • 17/06/2025 at 3:26 شام
    Permalink

    ایک واری فیر ریپیٹ ٹیلی کاسٹ۔
    اس سے بہتر ہوتا ہے گذشتہ سے پیوستہ آخری جو بھی مضمون تھا اس کا لنک شروع میں ظاہر کردیں
    اگر عدنان خان کاٹ دیں تو نیچے تبصرے میں لکھ دیں کہ اس کا گذشتہ کس سےبپوستہ ہے۔

    • 17/06/2025 at 5:17 شام
      Permalink

      او کے اب جہاں سے چھوڑا تھا وہیں سے شروع کروں گا

    • 17/06/2025 at 11:53 شام
      Permalink

      ایک اور صورت یہ بھی ممکن ہے کہ روداد زندگی کی کہانیوں کو سلسلہ وار نمبر دے دیں گویا قسط نمبر اور ہر مختلف سلسلے کو بھی یعنی "یورپ کا سفر : قسط 1”
      نوکری کی کہانی یا محکمہ تعلیم میں انٹری یا طالب علم سے استاد کا سفر : قسط 5
      اور اگر کوئی سلسلہ چھوٹ بھی جائے تو دوبارہ شروع کرتے وقت پچھلے چار پانچ کا لنک مضمون کے شروع میں لکھ دیں۔
      ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کا بھی یہی مسئلہ ہے ان کی زندگی کے کئی کٹے کھلے ہوئے ہیں اگر آپ نے کسی ایک مضمون یا کہانی کو ویب سائٹ پر ختم نہیں کرنا بلکہ ناظر کو مجبور کرنا ہے کہ وہ بعد میں چھپی کتاب پڑھے تو سوال ہے کہ شروع کیوں کیا تھا ؟

    • 18/06/2025 at 5:43 صبح
      Permalink

      مجھے اس بات سے تو خوشی ہوتی ہے کہ آپ جیسے ناظرین نہ صرف یہ کہ مجھے پڑھتے ہیں بلکہ فیڈ بیک بھی دیتے ہیں بس پہلے میں نے زندگی میں رونما ہونے والے واقعات کو بغیر کسی ترتیب کے شروع کیا تھا اس کے بعد سوچا کہ انہیں آٹوبائیوگرافی کی صورت میں ایک ترتیب کے ساتھ لکھ لوں اور اسے ترتیب دیتے ہوئے کچھ آرٹیکل ری پیٹ ہوگئے باقی اپنی کتاب کو بیچ کر پیسے کمانے کی نہ تو نیٹ ہے نہ کوئی پلاننگ اور شاید اس دور میں ایسا ممکن بھی نہیں ہے آپ جیسے قاری ہے میرا بہت بڑا سرمایہ ہیں آپ اپنا ایڈریس بھجوائیں مجھے اپنی کتب آپ کی خدمت میں پیش کرکے خوشی ہو گی

    • 18/06/2025 at 10:58 شام
      Permalink

      بہت شکریہ ۔
      ویسے آپ مجھے غائبانہ اور قدرے اچھی طرح جانتے ہیں
      باقی کمنٹس (اچھے برے) میں ہر تحریر پر ضرور دیتا ہوں۔
      اور اگر لکھنے والا (چھوٹے دل کا ہو) اور اس کو غلط معنوں میں لے تو دوبارہ تبصرے سے گریز کرتا ہوں۔
      کتاب فروخت سے کمائی اس دور میں شاید اب بابا یحیی یا تاررڑ صاحب جیسے لوگ ہی کرسکتے ہیں۔
      بمشکل 500 کتاب چھپ جائیں تو مصنف کیا ناشر کے حصے میں بھی کیا ائے گا۔
      آپ کا مسئلہ اتنا ٹیڑھا نہیں بلکہ ڈاکٹرنی صاحبہ کا زیادہ ہے (اور چند کچھ اور لکھنے والوں کا بھی)۔

    • 18/06/2025 at 11:52 شام
      Permalink

      جی مجھے آپ سے شناسائی کااعزازاسی فورم کی وساطت سے حاصل ہے اگر آپ اپنا پوسٹل ایڈریس بھجوا دیں تو آپ کی خدمت میں اپنی دونوں کتب پیش کرنا میرے لئے بڑی سعادت کاسبب ہو گا صدا خوش رہیں

Comments are closed.