”نورِ تحقیق کے تیس شمارے“ مرتب ڈاکٹر محمد ارشد اویسی


ادبی مجلّات کسی بھی زبان کی علمی و تحقیقی روایت میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لاہور گیریژن یونیورسٹی کے شعبۂ اردو سے شائع ہونے والا سہ ماہی مجلہ ”نورِ تحقیق“ بھی اسی روایت کی ایک قابلِ قدر اور مضبوط کڑی ہے، جس نے مختصر عرصے میں اردو تحقیق کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ ”نورِ تحقیق کے تیس شمارے“ (اجمالی تعارف اور توضیحی اشاریے پر مشتمل کتابِ حوالہ) دراصل اس تحقیقی مجلے کے پہلے تیس شماروں کا توضیحی اشاریہ جو 2017 سے 2024 تک شائع ہونے والے مضامین، مقالات اور خاص نمبروں کا احاطہ کرتا ہے۔ اس اہم اور وقیع کام کے مرتب اردو دنیا کے ایک معتبر محقق و کہنہ مشق ادیب اور استاد ڈاکٹر محمد ارشد اویسی ہیں۔ یہ کتاب لائل پور پبلشرز، فیصل آباد سے حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔

رسائل کے توضیحی اشاریے کی اہمیت میدان تحقیق میں مسلمہ ہے کیونکہ یہ کسی بھی مجلے کے تمام مشمولات کو باقاعدہ ترتیب اور وضاحت کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ اس کے ذریعے محققین اور قارئین کو رسالے میں شائع ہونے والے مضامین، تبصروں، تراجم اور دیگر تحریروں کی موضوعاتی درجہ بندی اور خلاصہ معلوم ہو جاتا ہے، جس سے متعلقہ مواد تک فوری اور بامقصد رسائی ممکن ہوتی ہے۔ توضیحی اشاریہ نہ صرف وقت کی بچت کا ذریعہ بنتا ہے بلکہ کسی رسالے کے فکری و ادبی رجحانات، موضوعات کی وسعت اور ارتقائی سفر کو سمجھنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ اس کے ذریعے محققین کو اپنی تحقیق کے لیے بنیادی ماخذات اور حوالہ جات بآسانی میسر آ جاتے ہیں اور رسالے کی فکری قدر و قیمت اور علمی مقام کا تعین بھی کیا جا سکتا ہے۔

تحقیقی و تنقیدی سہ ماہی مجلے ”نورِ تحقیق“ کا آغاز جنوری 2017 میں ہوا۔ عموماً ایچ ای سی سے منظور شدہ اُردو جرائد جامعات کے شعبہ اردو کے زیر اہتمام شائع ہوتے ہیں، تاہم کچھ انفرادی یا غیر سرکاری رسائل بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ یہ تمام رسائل ایچ ای سی کے معیارات و ضوابط کے مطابق شائع ہوتے ہیں اس لیے ان سب میں ایک طرح کی یکسانیت نظر آتی ہے۔ تاہم ”نور تحقیق“ ان تمام جرائد میں قدرے منفرد دکھائی دیتا ہے، جو باقاعدہ ایک نظریے کے فروغ میں کوشاں ہے۔ اس مجلے کی انفرادیت اس کا فکری و نظریاتی منصوبہ ہے جس کا بنیادی ہدف علمی، تحقیقی اور تہذیبی شناخت کو محفوظ بنانا اور فروغ دینا ہے۔ لاہور گیریژن یونیورسٹی کے موٹو ”Knowledge is Light“ کے اردو ترجمے ”العلم النور“ کو عملی صورت دیتے ہوئے ”نورِ تحقیق“ نے تحقیق اور تنقید کے دونوں میدانوں میں ایک متوازن، معیاری اور نتیجہ خیز روش اختیار کی ہے۔

2017 سے اب تک ”“ نورِ تحقیق ”کے ارتقائی سفر کا جائزہ لیں تو اب تک اس تحقیقی مجلے کے تیس شمارے شائع ہو چکے ہیں، جن میں پانچ خاص نمبر (“ اقبال نمبر ”،“ آزادی نمبر ”،“ قائداعظم نمبر ”،“ اکیسویں صدی نمبر ”اور“ پاک فوج کے اہلِ قلم ”) بھی شامل ہیں۔ ان شماروں میں علامہ اقبال پر 89 اور قائداعظم پر 45 مقالات شائع کیے گئے جو مجلے کی پاکستانیت اور قومی نظریے سے وابستگی کو ظاہر کرتے ہیں۔

بقول ڈاکٹر ارشد اویسی ”اس وقت جب عالمی گاؤں میں عالمی استعمار جو ایسٹ انڈیا کمپنی سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کا چولا بدل کر ہر ملک کی تہذیبی شناخت کو تباہ کرنے پر تلا ہوا ہے، اس سے بچاؤ کے لیے ہر ملک کو اپنی تہذیبی شناخت کو متعارف کرانے اور محفوظ بنانے کی کوشش کرنا پڑے گی۔ پاکستانیت ہمارے خون میں شامل ہے اور ہم نے اسی خون کا رنگ دکھانے کے لیے اپنے تحقیقی مجلے میں اس کا اہتمام کیا ہے۔“

عموماً تحقیقی مجلات اور بہ طور خاص ایچ ای سی سے منظور شدہ تحقیقی مجلات میں اس طرح کا اہتمام دیکھنے میں نہیں ملتا۔ اب تک اس مجلے کے تیس شماروں میں پانچ سو دس مضامین شائع ہو چکے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب میں ان تمام مضامین کا توضیحی اشاریہ شمارہ وار زمانی ترتیب سے دیا گیا ہے۔ اس اشاریہ میں ہر مضمون کے مقالہ نگار، عنوان، صفحہ نمبر، خلاصہ، کلیدی الفاظ کے اندراجات شامل ہیں۔ اشاریہ سازوں میں ڈاکٹر عبد العزیز ملک، ڈاکٹر سمیرا اکبر، ڈاکٹر خرم یاسین، ڈاکٹر صائمہ بی بی شامل ہیں۔ کتاب کے آخر میں مقالہ نگاروں کا الف بائی اشاریہ بھی شامل کیا گیا ہے۔ یوں یہ کتاب نہ صرف ”نورِ تحقیق“ کے گزشتہ شماروں کا آئینہ ہے بلکہ اردو تحقیق کی موجودہ جہات، موضوعات اور رجحانات کا عکس بھی پیش کرتی ہے۔ نیز محققین کے لیے متعلقہ مواد تک رسائی کا ایک منظم اور مرتب وسیلہ بھی ہے۔ یہ کتاب محض ایک اشاریہ نہیں بلکہ اردو تحقیق کے موجودہ منظرنامے کا عکس بن گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد ارشد اویسی کی اس علمی سعی کو بجا طور پر اردو تحقیق کی دنیا میں ایک وقیع اور لائقِ تحسین کارنامہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ”نورِ تحقیق“ کے تیس شماروں کا نہ صرف توضیحی اشاریہ مرتب کیا بلکہ اسے تحقیقی و تنقیدی بصیرت کے ساتھ کچھ اس انداز میں پیش کیا ہے کہ یہ محض اعداد و شمار کی فہرست نہیں بلکہ اردو تحقیق کے موجودہ رجحانات، موضوعات اور فکری ترجیحات کا آئینہ بن گیا ہے۔ انہوں نے اپنے ادارے کی اردو تحقیق کی تاریخ کو جس انداز میں محفوظ کیا ہے اس سے ان کی محنت، تجربہ، مہارت اور خوش سلیقگی عمدگی سے عیاں ہوتی ہے۔ یہ علمی خدمت اُردو زبان و ادب کے ساتھ ان کی گہری وابستگی اور سنجیدہ مزاجی کی مظہر ہے اور اردو علمی دنیا کے لیے ایک مفید اور دیرپا اثاثہ ہے۔

Facebook Comments HS