زیب داستاں : کیا کمزور معیشت کا بوجھ شعبہ تعلیم نے ڈھونا ہے؟


پاکستان کے شعبہ تعلیم کا ذکر ہوتا ہے تو لامحالہ تعلیم کے لئے مختص بجٹ کا پہلو بھی زیر بحث آتا ہے۔ تعلیمی بجٹ کے بارے میں برسوں سے یہ بحث جاری ہے کہ ہماری حکومتیں تعلیم کے لئے ضرورت سے کہیں کم بجٹ مختص کرتی ہیں۔ اقوام متحدہ کی سفارش ہے کہ کسی بھی ملک کو اپنے جی۔ ڈی۔ پی کا کم از کم 4 فیصد تعلیم پر خرچ کرنا چاہیے۔ پاکستان میں ہم اپنی جی۔ ڈی۔ پی کا بمشکل 1.5 سے 1.7 فیصد تک خرچ کرتے ہیں۔ اس بجٹ کا بڑا حصہ بھی تنخواہوں وغیرہ کی ادائیگی کی نذر ہو جاتا ہے۔ ہر سال جب وفاقی یا صوبائی بجٹ پیش ہوتے ہیں۔ ہمیشہ یہ نوحہ سننے کو ملتا ہے کہ تعلیم کے لئے ضرورت سے کہیں کم رقم مختص کی گئی ہے۔ حکومتوں پر تنقید ہوتی ہے کہ تعلیم ان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہے۔ چند دن پہلے وفاقی حکومت نے فنانس بل یعنی بجٹ پیش کیا ہے۔ حسب معمول تعلیم کے لئے مخصوص بجٹ کے تناظر میں وہی پرانی باتیں دہرائی جا رہی ہیں۔ حکومت پر تنقید ہو رہی ہے کہ اس نے تعلیم کے لئے بہت کم بجٹ رکھا ہے۔

اسے ایک خوش آئند پیش رفت ہی کہنا چاہیے کہ خود حکومتی صفوں کے اندر سے بھی ایسی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ چند دن پہلے سینٹ میں حکومتی جماعت مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر عرفان صدیقی صاحب نے اپنی حکومت کے پیش کردہ تعلیمی بجٹ پر اظہار افسوس کیا اور صورتحال کو تشویش ناک قرار دیا۔ صدیقی صاحب نے برملا کہا کہ وہ اپوزیشن کی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ تعلیم ہماری ترجیحات میں وہاں نہیں ہے، جہاں اسے ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ خاص طور پر اعلیٰ تعلیم کا بجٹ بہت کم ہے۔ انہوں نے باقاعدہ اعداد و شمار پیش کیے اور بتایا کہ گزشتہ سات آٹھ سال سے ہایئر ایجوکیشن کمیشن کی ”ریکرنگ گرانٹ“ 66 ارب روپے پر جامد ہے۔ یہ گرانٹ مسلم لیگ (ن) کے گزشتہ دور حکومت میں بھی 66 ارب روپے تھی۔ تحریک انصاف کے دور میں بھی۔ اس کے بعد پی۔ ڈی۔ ایم کی حکومت اور اب مسلم لیگ (ن) کی موجودہ حکومت میں بھی یہ بجٹ وہیں کھڑا ہے۔ مہنگائی کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ بجٹ یا گرانٹ بہت کم ہے۔

عرفان صدیقی صاحب کا مزید کہنا تھا کہ ہایئر ایجوکیشن کمیشن کے ترقیاتی اخراجات کے لئے 2023۔ 24 میں 70 ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔ اگلے برس یعنی 2024۔ 25 میں یہ کم ہو کر 66 ارب روپے رہ گئے۔ اب مزید کٹوتی کے بعد یہ بجٹ 39 ارب روپے پر آ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہایئر ایجوکیشن کمیشن کے ساتھ زیادتی ہے۔ خسارے کا شکار سرکاری اداروں کا حوالہ دیتے ہوئے سینیٹر صاحب کا کہنا تھا کہ آخر حکومت سفید ہاتھیوں کو بھی تو ہر سال ایک ہزار ارب روپے کی رقم کھلا رہی ہے۔ اس سال بھی ان سفید ہاتھیوں کے لئے ایک ہزار ارب ر و پے کی خطیر رقم رکھی ہے۔ سو ہایئر ایجوکیشن کا بجٹ کیوں نہیں بڑھایا جا سکتا؟ اطلاعات ہیں کہ سینیٹر صاحب نے حکومت کو بجٹ میں اضافے کے ضمن میں اپنی سفارشات ارسال کر دی ہیں۔ اللہ کرے کہ حکومت ہوش کے ناخن لے اور ان سفارشات پر غور کرے۔

بجٹ سے جڑا ایک معاملہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں سالانہ اضافے کا ہے۔ حکومت نے تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے۔ راکٹ کی رفتار سے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں یہ اضافہ یقیناً نا کافی ہے۔ اساتذہ یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ ان کی تنخواہوں میں مناسب اضافہ ہو گا۔ اس صورتحال میں سرکاری ملازمین ججوں، جرنیلوں، اور اراکین پارلیمان کی تنخواہوں میں ہونے والے اضافے کا حوالہ بھی دیتے ہیں۔ کافی عرصہ سے جامعات کے اساتذہ یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ انہیں بھی مذکورہ بالا شعبوں کے ملازمین کی طرح کی مراعات دی جائیں۔ تاہم ان کی آواز حکام بالا کو متاثر کرنے میں ناکام رہی ہے۔ بجٹ کے ہنگام یہ اچھی خبر سننے کو ملی تھی کہ حکومت نے جامعات کے اساتذہ کو ماضی میں حاصل ٹیکس ریلیف بحال کر دیا ہے۔ اس خبر نے اساتذہ میں اطمینان کی لہر دوڑا دی۔ تاہم اب اطلاع آئی ہے کہ حکومت نے صرف وقتی ریلیف کا اہتمام کیا ہے۔ اگلے سال یہ ٹیکس چھوٹ ختم ہو جائے گی۔

ایسے اقدامات دیکھ کر واقعتاً محسوس ہوتا ہے کہ تعلیم کا شعبہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہے۔ حکومت اساتذہ کو ٹیکس میں کچھ چھوٹ دے دیتی ہے تو اس میں آخر حرج ہی کیا ہے؟ کیا حکومتی خزانے پر پڑنے والے بوجھ کو فقط اساتذہ نے ہی ڈھونا ہے؟ شعبہ تعلیم یا استاد کی باری آتی ہے تو ہر حکومت کو قومی معیشت کی نازکی یاد آجاتی ہے۔ آخر ہر سال ایوان صدر، ایوان وزیر اعظم اور ایوان پارلیمان کے اخراجات کا بوجھ بھی تو یہ نازک معیشت ڈھوتی ہے۔ دفاع کے بجٹ میں بھاری بھرکم اضافہ بھی قومی معیشت کا مرہون منت ہے۔ افسر شاہی کی تنخواہوں میں اضافے، مراعات اور اللے تللوں کا بوجھ بھی بستر مرگ پر پڑی اور وینٹی لیٹر پر لگی یہ معیشت برداشت کرتی ہے۔ بقول سینیٹر عرفان صدیقی صاحب آخر حکومت سفید ہاتھیوں کو پالنے میں بھی تو ایک ہزار ارب روپے کا مال مفت خرچ کرتی ہے۔ اس امر کی تفہیم بھی ضروری ہے کہ جب جج، جرنیل، اراکین پارلیمان، یہاں تک کہ بیوروکریسی کے ملازمین کی تنخواہوں میں بھاری بھرکم اضافہ ہو سکتا ہے تو ان سب کو پڑھانے لکھانے اور اس قابل بنانے والے اداروں اور اساتذہ پر نظر کرم کیوں نہیں ہو سکتی؟ لازم ہے کہ وزیر اعظم اس بات کا نوٹس لیں۔ کم از کم اساتذہ کو کوئی چھوٹی موٹی رعایت حاصل ہے، تو اسے جاری رکھیں۔ امید ہے کہ بجٹ کی منظوری سے قبل ہایئر ایجوکیشن کمیشن کے بجٹ میں بھی اضافہ ہو گا۔ اساتذہ کے ٹیکس ریبیٹ کا معاملہ بھی ہمیشہ کے لئے حل ہو جائے گا۔

پنجاب حکومت نے بھی اپنا بجٹ پیش کرنا ہے۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز نے جب سے وزارت اعلیٰ سنبھالی ہے، شعبہ تعلیم پر ان کی خاص نگاہ ہے۔ ہونہار اسکالر شپ، لیپ ٹاپ اسکیم وغیرہ جیسے منصوبوں نے لاکھوں طالب علموں کا بھلا کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ اساتذہ کو نہایت احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔ سرکاری جامعات کے بارے میں بھی فکر مند رہتی ہیں۔ دعا ہے کہ یہ احترام اور فکر مندی تعلیمی بجٹ کی صورت میں ڈھل کر سامنے آئے۔ پنجاب حکومت کی طرف سے تعلیمی بجٹ میں اضافے کے اعلانات میری نگاہ سے گزرے ہیں۔ خاص طور پر سرکاری اسکولوں کی اصلاح احوال کے لئے بھاری بھرکم رقم کا اعلان ہوا ہے۔ تاہم شکایت یہ ہے کہ پنجاب حکومت ترقیاتی بجٹ میں تو اضافہ کرتی ہے لیکن ریکرنگ بجٹ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔ امید ہے کہ بجٹ میں شعبہ تعلیم کے تمام پہلووں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

ایک اور معاملے کا ذکر نہایت ضروری ہے۔ وفاقی حکومت نے وفاق کے تحت چلنے والے علمی، ادبی اور ثقافتی اداروں کو ضم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان میں علامہ اقبال اکیڈمی، اردو سائنس بورڈ، ادارہ فروغ اردو، اکادمی ادبیات وغیرہ جیسے ادارے شامل ہیں۔ حکومت کا خیال ہے کہ ان اداروں کو جامعات کے حوالے کر دیا جائے۔ گزشتہ دور حکومت میں سینیٹر عرفان صدیقی قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن کے وزیر تھے۔ یہ ادارے ان کی وزارت کے ماتحت تھے۔ پوسٹ بجٹ تقریر میں صدیقی صاحب نے سینیٹ میں ان اداروں کے حق میں بھی آواز اٹھائی ہے۔ انہوں نے بجا طور پر فرمایا ہے کہ یہ ادارے پاکستان کی پہچان ہیں۔ اندرون ملک اور بیرون ملک بھی۔ ان کی اصلاح احوال ہونی چاہیے نہ کہ بندش۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ حکومت کے ایسے کون سے مشیر ہیں جو شاعر مشرق علامہ اقبال کے نام پر قائم اقبال اکیڈمی کو بھی بوجھ سمجھ کر اس سے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔ اور اکادمی ادبیات جیسے ایک شاندار تاریخ رکھنے والے ادارے کے بھی درپے ہیں۔ صدیقی صاحب نے بالکل ٹھیک نشاندہی کی ہے کہ سرکاری جامعات جو خود اپنے ملازمین کی تنخواہوں کا بوجھ بمشکل اٹھاتی ہیں وہ ان علمی، ادبی اداروں کا بوجھ کیونکر اٹھا سکتی ہیں۔

امید ہے کہ یہ آواز حکومت کے کانوں تک پہنچے گی اور وہ پاکستان کی پہچان ان علمی، ادبی اور ثقافتی اداروں کو بند کرنے سے گریز کرے گی۔

Facebook Comments HS