مصوری کی روایت


زمانہ قدیم میں دیواروں اور روز مرہ کے استعمال کی چیزوں پر تصاویر بنائی جاتی تھیں بتوں پر بھی رنگ و روغن کیا جاتا تھا تا کہ وہ اصل کے مطابق ہو سکیں۔ یونانی اپنے گلدانوں وغیرہ پر اپنی روز مرہ کی زندگی کے متعلق تصاویر بناتے تھے۔ چین بھی مصوری میں مشہور رہا ہے۔ ایشیائی ممالک میں مانی اور بہزاد کا نام اس سلسلے میں زندہ جاوید ہے۔ جدید طرز کی مصوری اٹلی میں تیرہویں اور چودھویں صدی میں شروع ہوئی۔ رنگوں اور پانی کے رنگوں کی مصوری اس کے بہت بعد رائج ہوئی۔ ابتدائی اطالوی مصور لکڑی کے تختوں پر ہلکا سریش ملا پلاستر چڑھانے کے بعد رنگوں کے سفوف میں انڈے کی زردی اور گوند ملا کر تصویریں بناتے تھے۔ پلاستر خشک ہونے سے پہلے جب رنگ آمیز کیا جاتا تو رنگ اور پلاستر یکجان ہو جاتے تھے۔ اس طریقہ کو ”فریسیکو پینٹنگ“ کیا جاتا تھا۔

اطالوی مصوروں نے چیڑ کے گوند اور روغنوں پہ بہت تجربات کیے۔ لیکن حقیقی معنوں میں روغنی رنگوں کی مصوری فلائڈر زمین ہیوبرٹ اور جان وان تک نامی مصوروں نے شروع کی۔ وینس کے مصوروں نے بعد میں اس طریقے کو کمال تک پہنچایا۔ قدیم مصوری کا استعمال تقریباً گیارہ ہزار سال قبل کے ابتدائی انسان کے التامیرا (ہسپانیہ) اور لاسکو (جنوبی فرانس) کے پہاڑی علاقوں میں جانوروں کی رنگین خاکہ کشی کی صورت میں ملتا ہے۔ اس کے بعد تقریباً اڑھائی ہزار برس قبل از مسیح اہلِ مصر نے اپنے بادشاہوں کی موت پر ان کی روح کے آسمانی سفر میں مدد کے لیے ان کے اجسام کو اس دنیا میں برقرار رکھنے کی خاطر جو اہرام تعمیر کیے، ان کی دیواریں سجانے کے لیے مختلف پرندوں، درختوں، جھیلوں اور خود ان انسانوں کی تصاویر بنائی جانے لگیں۔

اس زمانہ یعنی 2000 قبل مسیح ایک دوسرے تمدن میں میسوپوٹیمیا کے افراد اپنے ملک کے بادشاہوں کی فتوحات کا اعلان کرنے کے لیے ان کے جنگی معرکوں کی تصویر گری غاروں پر کر رہے تھے۔ اسی زمانے کی ایک تیسری تہذیب سومیر کے افراد اپنے بادشاہوں کے لیے روز مرہ زندگی کے استعمال کی چیزیں سے آراستہ و پیراستہ کر رہے تھے۔ پانچویں صدی قبل مسیح میں اہلِ یونان نے کوزہ گری کے برتنوں پر لکیروں سے تصاویر بنانے کا سلسلہ شروع کیا۔ یونانیوں سے یہ ورثہ رومیوں نے بھی پایا۔ اور اس پر اپنی طرز زندگی کے سبب اضافہ بھی کیا۔

تیسری صدی قبل مسیح کے ہندوستان نے بدھ مت کے پہلے بادشاہ اشوک نے مختلف مقامات پر مہاتما بدھ کی مذہبی تعلیمات کو پتھروں پر کندہ کروایا۔ اور ان پتھروں کو انسانوں اور جانوروں کی شکلوں کے ساتھ ساتھ بیل بوٹوں سے بھی سجایا گیا۔ دوسری صدی قبل مسیح سے اقتباس کے پہاڑ میں غار کاٹ کر اس میں مندر اور آشرم بنا کر ان کو بدھا کی تصاویر اور مجسموں سے سجایا گیا۔ یہی سلسلہ ہمیں الورا کے غاروں میں بھی ملتا ہے۔ اڑھائی سو سال قبل مسیح میں یہودیوں کے لیے میسوپوٹیمیا میں اپنی عبادت گاہ کی دیواروں پر پرانی انجیل کے بعض حصوں کا خاکہ بنا کر ان کو آراستہ کیا۔

سولہویں صدی میں مائیکل اینجلو نے اپنے شاہکاروں میں جبیسٹن چیپل کی چھت کو تصاویر سے آراستہ کیا۔ لیونارڈو ڈونچی نے شاہکار مونالیزا پینٹ کیا۔ آٹھویں صدی سے مسلمان مصوروں نے رنگوں اور لکیروں کی مدد سے دل پذیر بیل بوٹے مزین نقش و نگار اور تجریدی خاکے بنانے شروع ہے۔ تیرہویں صدی تک یہ فن اسلامی مصوری کا مخصوص اسلوب بنتا گیا۔ اور چودہویں صدی میں تصویر کشی کا وہ مخصوص اسلوب قائم ہو گیا جس کو اسلامی مرقع کا نام دیا گیا۔ غرض ہر دور میں انسانی فطرت، جذبوں اور خیالات کو مجسم شکل میں کینوس پر دیکھنے کا خواہش مند رہا ہے۔ اس خواہش میں مختلف تہذیبوں کے اپنے مخصوص مقاصد، رجحانات اور ان کی اقدار تہذیب کے مسائل بھی مصوری میں جگہ بناتے رہے۔

لیکن اس فن میں سب سے زیادہ حصہ مذہبی تھا۔ مذہب کی گرفت آرٹ پر عہد قدیم سے لے کر آنے والے ہر دور میں حاوی رہی ہے۔ عہد قدیم کی تصاویر کا تعلق جادو سے ہے اس دور میں جادو کی رسم منائی جاتی تھی۔ مصری آرٹ میں وہ تصاویر جو مقبروں کی دیواروں پر بنائی جاتی تھیں وہ مصریوں کے موت کے عقیدے کا باعث تھیں۔ زندگی بعد از موت کے لیے نا صرف انسان بلکہ ہر جاندار اور بے جان اشیاء کی تصاویر بناتے تھے۔ یہودیوں کی مصوری اور عیسائیوں کا فن ہمیں ان کی مذہبی جگہوں پر ملتا ہے۔ بدھ ازم اور چینی مصوری بھی مذہب کی حدود سے باہر نہیں نکلتی۔ مسلمانوں کے ہاں مصوری ڈیزائن اور خطاطی میں مذہبی اثرات نمایاں ہیں۔

انسان صدیوں سے ہی اپنے احساسات اور جذبات کے اظہار کے لیے تخلیقی فنون کی مدد حاصل کرتا رہا ہے۔ اپنی ذات کے اظہار یا سوچ و فکر اور خیال کو کبھی انسان نے شاعری، موسیقی اور دیگر تخلیقی فنون سے جلا بخشی تو بھی فن مصوری کے ذریعہ اپنے اظہار کو موثر انداز میں پیش کیا۔ لیکن اظہار کے تمام ذرائع میں فن مصوری کو اس لحاظ سے فوقیت حاصل رہی کہ یہ سب سے موثر ذریعہ اظہار ہے۔

مصر کی تہذیب کو انسانی عظمت کے احساس نقطہ آغاز کہا جاتا ہے۔ جو آج بھی اپنی شان و شوکت کے آثار لیے موجود ہے۔ اس تہذیب کے فنکار نے اپنے فن کی تخلیق ایسے فطری تقاضوں کے مطابق کی کہ اس قدر وقت گزر جانے کے باوجود یہ آرٹ جوں کا توں موجود ہے۔ اہرام، معبد خانے، ایوان اور ان اہراموں میں بنائی ہوئی تصاویر دراصل خدا کی خدائی کا نقشہ ہیں جو انسان نے موت کے ہاتھوں سے بچنے کے لیے ایجاد کیا تھا۔ کہیں سورج دیوتا ہیں جن کے سامنے غلام جھکے ہوئے ہیں۔ کہیں عجیب و غریب جانور اور کہیں مرد وزن جن کے دھڑ حیوانوں اور سر انسانوں کے ہیں۔ اور وہ سب آج بھی اپنی شان سے براجمان ہیں۔

دراصل اس زمانے کے فنکار نے اپنے مقصد اور اس کی دلفریبی کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ اس کے بعد جب ہم اجنتا اور الورا کے غاروں میں تصاویر کا سلسلہ دیکھتے ہیں تو وہاں کا چپہ چپہ آج بھی اپنے فن کاروں کے رجحانات کا ثبوت دیتا نظر آتا ہے۔ آج بھی ان غاروں میں راہبوں کا سحر، ان کی بزرگی اور معصومیت اور روحانیت میں ذرہ برابر بھی فرق نہیں آیا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ایلورا اور اجنتا کے مصوروں نے اپنی صفت اور حسن کاری کو ریاضت سمجھ کر انجام دیا تھا۔ اس حوالے سے عبدالرحمٰن چغتائی کی رائے قابلِ ذکر ہے : ”وہ تارک الدنیا لوگ اپنی تہذیب اپنے مذہب کے صحیح مظہر تھے ان کے سینوں میں لبریز دل تھا۔ انھوں نے اپنی ریاضت اور شکتی سے جو انھیں بخشش میں ملی تھی ان غاروں کو جنم دیا تھا۔ اپنے مذہب اور عقائد کا ایک نیا جہان آباد کر دیا تھا۔ وہ لمحہ گیر لذت، وہ مصارف جن سے غاروں کو سلامتی ہے انسانی سوچ و بچار کا بہترین پھل ہیں“

مشرقی فن اور بالخصوص پاک و ہند میں فن مصوری کے ارتقا کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ یہاں کی اقوام جب برصغیر میں داخل ہوئیں تو اپنے ساتھ ایک ترقی یافتہ ثقافت بھی لائیں۔ اس ثقافت کی اپنی جمالیاتی اقدار تھیں۔ جن میں فنون کو خاص اہمیت حاصل تھی نتیجتاً اس تہذیب میں فنون نے بہت عروج حاصل کیا۔ علاوہ ازیں اکبر اور جہانگیر کے عہد میں مصوری کے متعلق بحث ملتی ہے۔ جہانگیر خود تصاویر بناتا تھا اور مصوروں کی سرپرستی بھی کرتا تھا۔ متعدد نقاش ان کے ساتھ اکثر گروہی تصاویر پر کام کرتے تھے۔ جہانگیر ان کے کام کا نقاد بھی تھا۔ اور پسندیدہ تصاویر کو کثیر قیمت میں خرید بھی لیتا تھا۔ اور ان میں سے اکثر فنکاروں سے دوبارہ بھی بنواتا تھا۔

ہندوستان میں معبدوں اور مندروں میں آرٹ کے بہترین نمونے موجود ہیں۔ دراصل معبد اور مندر ایسی جگہیں تھیں میں جو سیاسی انقلابات سے بچے رہے اور ان کی سرپرستی روایتی انداز میں درباروں سے وابستہ رہی۔ قدیم ہندوستان میں مصوری ضیافتوں اور تہواروں کا لازمی حصہ تھی۔ قصبات اور شہروں کو رنگا رنگ تصاویر سے سجایا جاتا۔ جو دیوتاؤں کے قصوں سے متعلق ہوتے تھے۔ حکمرانوں کے محلات میں تصویری گیلریاں محلات کا لازمی جزو تھیں۔ مسلم تہذیب نے نہ صرف یہاں مختلف فنون کو رواج دیا بلکہ مقامی روایات سے بھی فائدہ اٹھایا۔ مثال کے طور پر درباری مصور، ایرانی روایات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہندوانہ موضوعات پر تصاویر بناتے تھے۔

ہمایوں بادشاہ نے دلی میں مصوری کا ایک نقاش خانہ قائم کیا۔ جہاں بہت سے فن پارے تخلیق ہوئے۔ مغل مصوری کی روایت میں ایرانی مصوروں نے اہم کردار ادا کیا۔ مقامی مصوروں کو ملازمتیں دی گئیں کہ وہ ایرانی استاد مصوروں کے ساتھ کام کریں۔ ایک تصویر پر کئی مصور مل کر کام کرتے تھے۔ ہمایوں کے بعد اکبر کے دور میں مغل مصوری کے اسلوب کو انتہائی استحکام ملا۔ بڑی تعداد میں تصویری کتابیں اور خطاطی کے فن پارے سامنے آئے۔ اکبر کا اہم ترین با تصویر ”حمزہ نامہ“ تھا۔ اکبر نے کئی بار اپنی تصاویر بھی بنائیں۔ وہ ایرانی اور ہندوستانی مصوروں کے ہمراہ چینی مصوری اور وسط ایشیائی مصوروں کی تصاویر کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔

اکبر نے اپنے مصوروں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ مختلف علاقوں کی مصوری کے تناظر کا مطالعہ کریں۔ اکبر کے ان اقدامات اور فن کی سرپرستی کے باعث کئی غیر معمولی مصور ابھرے۔ ان کی مہارت آنے والی نسل کو منتقل ہوئی اور مصوری کے کئی نئے اسالیب متعارف ہوئے۔ جہانگیر اور شاہجہان کو مصوری سے محبت ورثے میں ملی تھی۔ ان کی سرپرستی میں مصوری نے نفاست کی نئی بلندیوں کو چھوا۔ اٹھارہویں صدی میں نادر شاہ کے دلی پر حملے سے مغلیہ سلطنت زوال پذیر ہوئی۔ مصوروں نے دور دراز ریاستوں میں پناہ حاصل کی۔ وہ اپنا ہنر اور نفاست بھی لے گئے۔ جس سے مصوری کے کئی ممتاز مکتب وجود میں آئے۔

قیام پاکستان کے بعد پاکستان میں عبدالرحمٰن چغتائی بابائے مصوری کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ انھوں نے نقش کاری، کندہ شکاری، خاکہ بندی اور آبی رنگوں کی تصاویر کا نہایت عمدہ ذخیرہ چھوڑا ہے۔ استاد اللہ بخش کے کام میں ہمیں ہندو دیوی، دیوتاؤں کی تصاویر کے علاوہ پنجاب کے میلوں ٹھیلوں اور مختلف روایات کی تصویر کشی بھی ملتی ہے۔ پاکستانی مصوری کے اہم دور کا نقطہ آغاز شاکر علی کو قرار دیا گیا ہے۔ اس ابتدائی زمانے میں زبیدہ آغا، فیضی ارحمین، عسکری انصاری، مبارک حسین، اینا مولکا، قطب شیخ، آرزو زوبی، شمزہ گل اور علی امام کے نام قابل ذکر ہیں۔

روشنی کی حرکت اور تازگی کا احساس صادقین کے ہاں واضح نظر آتا ہے۔ گل جی کے بعد صادقین ایسے مصور تھے جنھوں نے فن کے ذریعے شہرت اور خوشحالی اکٹھے حاصل کیے۔ ان کی تصاویر میں نازک تجریدیت دکھائی دیتی ہے۔ ان کے فن کی دنیا صرف انسانوں تک ہی محدود نہیں بلکہ اس کا دائرہ وسیع ہے۔ علاوہ ازیں معین بشیر مرزا، سجاد شاہ، انور مقصود، منصور رائے، لیلیٰ شہزادہ، لبنیٰ آغاز، نگہت مرزا، قدیر عظمت، زوا حسین، ذوالفقار بھٹی، خالد اقبال، احسان علی، شاہدہ رسول، اقبال احمد، مصباح الدین قاضی، پیر محمد ترین اور ارباب سردار کے نام قابل ذکر ہیں۔

اقبال کے کلام میں مصوری اور بت تراشی کے بارے میں کہیں کہیں اشارت ملتے ہیں۔ اقبال ان فنون لطیفہ کی اہمیت سے منکر نہیں۔ لیکن انھیں اپنے عہد کے مصوروں سے یہ شکایت ہے کہ وہ محض نقال اور مقلد ہو کر رہ گئے ہیں۔ اقبال کو اپنے مصوروں سے یہ گلہ ہے کہ ان کی تصویروں میں ایسے شاہکار نظر نہیں آتے جن میں ان کی خودی اپنی جلوہ گری دکھا رہی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے مصور جو تصویریں بناتے ہیں ان میں ہر جگہ خودی کی موت نظر آتی ہے۔ وہ یا تو قدیم مشرقی مصوروں کی نقالی کرتے ہیں یا قدیم و جدید مغربی مصوروں کی۔ ان تصویروں میں یا تو قدیم زمانے کی درویشانہ اور راہبانہ زندگی کی جھلکیاں دکھائی دیتی ہیں یا عیاشی و ہوس پرستی کے نقشے کھنچے جاتے ہیں۔ یا یورپ کی تقلید میں مناظر قدرت مثلاً پہاڑ، دریا، جنگل، صحرا، ندیاں اور بادل وغیرہ کی تصویریں کھینچی جاتی ہیں۔ یا پھر برہنہ حسن کی جھلکیاں دکھائی جاتی ہیں۔

اقبال کے خیال میں اہلِ فرنگ کی تقلید سے ہمارے مصور اپنا اصلی رنگ ڈھنگ کھو بیٹھے ہیں۔ قدیم طرز کی تصویروں میں کم از کم روحانیت تو نظر آ جاتی تھی۔ جدید طریقے کی مصوری نے اسے بھی کھو دیا ہے۔ اقبال نے موجودہ مصوری پر چار اشعار کی ایک چھوٹی سی نظم ”مصور“ میں تنقید کی ہے۔ قدرتی مناظر مثلاً پہاڑ، دریا اور صحرا کی تصویریں کتنی ہی دلاویز کیوں نہ ہوں یہ انسانی خودی کو نمایاں نہیں کرتیں بلکہ یہ فطرت کی غلامی ہے۔ اور اقبال کے خیال میں فنون لطیفہ کو فطرت کی غلامی سے آزاد ہونا چاہیے۔ فن کار فطرت کا غلام نہیں ہوتا۔ اس کا فرض ہے کہ وہ فطرت کا مقابلہ کر کے اسے تسخیر کرے۔

اقبال نے اہرام مصر پر جو اشعار کہے ان میں بھی اسی خیال کو واضح کیا ہے کہ دیکھو، فطرت نے تو ریت کے ٹیلے تعمیر کیے تھے لیکن انسان نے اپنے ہاتھ سے ایسے اہرام بنا دیے ہیں جو صدیوں سے اسی طرح قائم ہیں۔ اور سینہ صحرا میں ابدیت کی تصویر بنے کھڑے ہیں :

اس دشت جگر تاب کی خاموش فضا میں
فطرت نے فقط ریت کے ٹیلے کیسے تعمیر
اہرام کی عظمت سے نگوں سار ہیں افلاک
کس ہاتھ نے کھینچی ابدیت کی یہ تصویر
فطرت کی غلامی سے کر آزاد ہنر کو
صیاد ہیں مردان ہنر مند کو نخچیر

Facebook Comments HS