قائداعظم کا سفر قاہرہ


جب کیبنٹ مشن پلان کو مسلم لیگ اور کانگریس نے قبول کر لیا مگر اس کے بعد نہرو نے اس پلان کو من مانے معنی پہنانا شروع کر دیے تو اس پلان کو من و عن نافذ کرنے کے حوالے سے اپنا نکتہ نظر پیش کرنے کی غرض سے قائد اعظم نے برطانیہ کا سفر کیا خیال رہے کہ کانگریس کی جانب سے پنڈت نہرو بھی ساتھ ہی برطانیہ روانہ ہوئے تھے مگر نہرو یا کانگریس جو بھی کہہ لیجیے کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے یہ دورہ بھی ناکام ہو گیا تھا تو وطن واپسی کرتے ہوئے قائد اعظم نے مصر میں قیام کرنے کا فیصلہ کیا۔

یہ وہ دور تھا کہ جب مصر ہو یا برطانوی ہند اپنی آزادی کی جانب گامزن تھے۔ مصر میں شاہ فاروق کی حکومت سے اینگلو مصری معاہدہ کیا جا رہا تھا اور قائد اعظم کی نظریں یہ اچھی طرح سے دیکھ رہی تھی کہ چاہے برطانوی ہند ہو یا مصر، اس وقت جو بھی فیصلہ کیا گیا، جس بھی معاہدے کے پابند ہو گئے اس کے اثرات صرف اس ملک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ تمام عالم اسلام اس کے اثرات کے تحت اپنے آنے والے ماہ و سال کو گزارے گا۔

قائد اعظم سے مصر کے وزیر اعظم نقراشی پاشا ملاقات کے لئے ان کے پاس شیفرڈ ہوٹل آئے اور قائد اعظم نے ان کو تحریری طور پر وہ شرائط دیں جو کہ مصر کو ہر صورت تسلیم کرانی چاہیے تھی۔ وزیر اعظم مصر قائد اعظم کی یہ تحریر لے کر مصر کے بادشاہ شاہ فاروق کے پاس گئے اور اسی سہ پہر دوبارہ شاہ فاروق کے خط کے ساتھ قائد اعظم سے ملاقات کے لئے دوبارہ آ گئے۔ قائد اعظم نے اس وقت ہی مصر کے بادشاہ کے خط کا جواب تحریر کر دیا کیوں کہ قائد اعظم نے قاہرہ صرف تین روز ٹھہرنا تھا اس لئے جواب میں تاخیر ممکن نہیں تھی۔ اس دورے کے دوران قائد اعظم نے پاکستان کے قائم ہونے کی ضرورت کے حوالے سے اسٹریٹجک وجوہات کا ذکر کیا۔ انیس دسمبر انیس سو چھیالیس کو لبرل کانسٹیٹیوشنل پارٹی مصر نے قائد اعظم کے اعزاز میں ایک چائے کی دعوت کا اہتمام کیا۔ اس دعوت میں قائد اعظم نے فرمایا کہ ”اگر آپ اپنے گھروں میں آزاد رہنا چاہتے ہیں تو آپ کو چاہیے کہ آپ ہماری امداد کریں“

قائد اعظم نے مزید فرمایا کہ ایسی کوئی مسلمان یا عرب ریاست نہیں جسے صحیح معنوں میں آزاد کہا جا سکتا ہو۔ بلکہ یہ کہ ایران جو صدیوں سے آزاد رہ چکا ہے اب اپنی آزادی کھو چکا ہے۔ بنا بریں میں آپ سے اپیل کرتا ہوں کہ مصر اور مشرق وسطیٰ کے دیگر اسلامی ممالک کے مسلمان، مسلمانان ہند کے حصول پاکستان کے مقصد میں امداد و اعانت کریں۔ اسی دورے کے دوران اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے قائد اعظم نے فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ مصر کے مسلمان یہ سمجھ لیں کہ ہمارا پاکستان حاصل کر لینا خود مصر کے لئے کس قدر مفید ہو گا، صرف پاکستان مل جانے کی صورت میں ہم یعنی ہندوستان اور مصر کے مسلمان قطعی طور پر آزاد ہو سکیں گے ورنہ ہندو سرمایہ داروں کی دست درازیاں مشرق وسطیٰ تک پہنچ جائیں گی۔

اینگلو امریکن کمیٹی نے فلسطین کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی تھی اس پر قائداعظم نے یکم مئی 1946 ء کو ایک بیان جاری کیا تھا۔ قائد اعظم نے فرمایا تھا کہ ”اینگلو امریکن کمیٹی نے فلسطین پر جو رپورٹ شائع کی ہے اور جو آج اخباروں میں شائع ہوئی ہے وہ میں نے دیکھی، میں اس پر صرف یہی کہہ سکتا ہوں کہ یہ ان وعدوں کی سراسر خلاف ورزی اور حد درجہ بد عہدی ہے جو عربوں سے کیے گئے تھے اس کو دیکھ کر مجھے بڑا صدمہ پہنچا ہے یہ شرانگیز سفارشات جن کو روبہ عمل لانے کی کوشش کی جا رہی ہے ان کو عرب اور مسلمانان عالم ہر گز قبول نہیں کریں“

قیادت کا حق صرف اس کو حاصل ہوتا ہے اور وہ ہی قیادت کا اہل ہوتا ہے کہ جو صرف اپنے سامنے کے واقعات پر نظر نہ رکھے بلکہ آنے والی صدیاں اس کے سامنے کھلی کتاب کی مانند ہو۔ قائد اعظم نے اس وقت یہ بتا دیا تھا کہ اگر پاکستان وجود میں نہ آیا تو مشرق وسطیٰ اور مسلمان ممالک آزادی کی حقیقی نعمت سے مستفید نہیں ہو سکیں گے۔ انڈیا کا امپیریلسٹ طاقت کے طور پر کا اثر و رسوخ مشرق وسطیٰ سے ہوتا ہوا مصر تک موجود ہو گا اور اگر پاکستان قائم ہو گیا تو ایک توازن قائم رکھنے والی ریاست موجود ہوگی۔

اس حقیقت سے تو سرے سے انکار ممکن ہی نہیں ہے کہ پاکستان کی وجہ سے مشرق وسطیٰ اور کو ایک قابل اعتماد حلیف میسر آ گیا ہے۔ ایک عرب ملک کے سفیر نے مجھ سے کہا تھا کہ پاکستان در حقیقت عالم اسلام کی سپر پاور ہے اور پاکستان کو اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ حالیہ ایران اسرائیل تصادم کرب ناک واقعات کا تسلسل ہیں۔ جس میں خوش آئند یہ امر ہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات کو نقصان پہنچانے میں اسرائیل تا دم تحریر ناکام ہو چکا ہے اور اس تنازعہ میں پاکستان نے جو مثبت کردار ادا کیا ہے وہ پورے عالم اسلام میں سراہا جا رہا ہے۔

ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ پاکستان کو چاہیے وہ ڈی ایٹ تنظیم کی مانند ہو یا او آئی سی جیسی کوئی تنظیم کے حوالے سے کام کرنا چاہیے کہ پاکستان اور دیگر مسلمان ممالک کے مابین ہر حوالے سے تعاون کو کیسے بڑھایا جا سکتا ہے۔ عرب ممالک بہت بڑا دفاعی بجٹ رکھتے ہیں مگر بد قسمتی سے اس دفاعی بجٹ کے اثرات ان کے دفاع پر نظر نہیں آتے ہیں۔ اگر پاکستان اور یہ ممالک کوئی سلامتی کا باہمی معاہدہ کر لیں تو ایسی صورت میں ان کے دفاعی بجٹ کا استعمال حقیقی معنوں میں ان کے دفاع کے لئے موثر ثابت ہو سکتا ہے اور اگر اسرائیل کے تازہ اقدامات کے باوجود مسلمان ممالک کبوتر کی مانند آنکھیں بند کر کے بیٹھے رہے تو پاکستان کے لئے نہ سہی مگر باقی بہت ساروں کے لئے اسرائیل تیار بیٹھا ہوا ہے کہ یا تو میری چودھراہٹ کو مانو یا میں تم کو روندنے کے لئے ہر اخلاقیات کو پامال کرنے کے لئے آمادہ بیٹھا ہوں۔

Facebook Comments HS

One thought on “قائداعظم کا سفر قاہرہ

  • 19/06/2025 at 12:28 صبح
    Permalink

    شکریہ مہدی صاحب
    کیا ان تینوں خطوط کی کوئی کاپیاں کہیں موجود ہیں۔ شاید اہل مصر کے ذخائرعلم میں اب بھی موجود ہوں۔

Comments are closed.