اسرائیل کے تین دفاعی نظام۔ تینوں ایرانی میزائلوں کے آگے فیل کیوں؟

ایران کے اسرائیل پر میزائل حملوں اور اہداف کو ٹھیک ٹھیک نشانہ لگانے کے بعد سوال یہ بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا اسرائیلی دفاعی نظام ایرانی ہائپر سانک میزائل تباہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی دفاعی نظام ہائپر سانک میزائلوں کو تباہ کرنے کے لیے ڈیزائن ہی نہیں ہوا، ایرانی میزائل حملے اسی لیے کافی حد تک کامیاب ہو رہے ہیں، اسرائیل اور ایران کی جنگ نے مستقبل کی جنگوں کی حکمت عملی کا تعین کر دیا ہے اور اب جنگی کالجز اور اسکولوں میں مدتوں تک اس حکمت عملی کو مختلف زاویوں سے جانچا جاتا رہے گا۔ ماہرین کے مطابق ابھی تک اگر دیکھا جائے تو اسرائیلی دفاعی نظام بظاہر ایرانی میزائل حملوں کو روکنے میں ناکام نظر آ رہا ہے۔ اگر اسرائیلی کے دفاعی نظام کی صلاحیت پر ایک نظر ڈالیں تو اس وقت اسرائیل کے پاس تین میزائل دفاعی نظاموں کی تہیں ہیں جس میں سے سب سے کم مار کا نظام آئرن ڈوم ہے جو ان غیر گائیڈڈ راکٹوں کو فضا میں تباہ کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اسرائیلی میزائل دفاعی نظام کی دوسری تہہ ڈیوڈ سلنگ ہے جو درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور ڈرونز کو ہدف بنا کر نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اسرائیل کا تیسرا میزائل دفاعی نظام ایرو میزائل ڈیفنس کا ہے، اس کے بھی متعدد ورژنز اسرائیل میں موجود ہیں جن میں ایرو 1، ایرو 2 اور ایرو 3 شامل ہیں۔ یہ سسٹم سپر سانک اور طویل فاصلے کے بیلسٹک میزائلوں کو فضاء میں نشانہ بنا سکتا لیکن اگر بیلسٹک میزائلوں کی تعداد زیادہ ہو تو یہ نظام اوور لوڈ ہونے کی وجہ سے سارے میزائلوں کو بیک وقت نشانہ بنانے سے قاصر رہتا ہے۔ اسرائیل کا باراک میزائل سسٹم بھی اسی تہہ کا حصہ ہے اور یہ بھی بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کرنے کے لیے بطور زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔
اگر بیلسٹک میزائل ایک غول کی صورت میں حملہ آور ہوں تو ان میزائلوں کے فضا میں تباہ ہونے کے چانسز کم ہوجائیں گے۔ جس کا صہیونی فوج نے اپنی ایک پوسٹ میں ذکر کیا تھا کہ دفاعی نظام مکمل طور پر ناقابلِ تسخیر نہیں ہے۔ ایران کے میزائل حملوں کی کامیابی کی بڑی وجہ دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ ایران کی طرف سے داغے گئے میزائلوں میں ہائپر سانک میزائل بھی شامل ہیں جو آواز سے تقریباً 5 گنا زیادہ رفتار کے ساتھ سفر کرتے ہیں اور اپنے ہدف کی جانب یہ سیدھے راستے پر بڑھنے کے بجائے گلائیڈ کرتے ہوئے جاتے ہیں جس سے دوران سفر کسی خاص وقت میں اس کے مقام کا تعین کرنا ممکن نہیں ہوتا جس کی وجہ سے یہ میزائل اپنے ہدف پر گرتے ہیں۔

