حالیہ ایران اسرائیل تنازعہ اور چند اہم پہلو


1۔ ایران ٹیکنالوجی کے میدان میں پیچھے ہے اور عسکری اور دفاعی لحاظ سے بھی تقریباً تنہا ہی ہے اگرچہ یہ تنہائی اس کی اپنی پالیسیوں کا ہی نتیجہ ہے۔ ایران نے اپنا انقلاب ہمسایہ ممالک میں ایکسپورٹ کرنے کی کوششیں کیں جس میں نہ صرف اس کا سرمایہ صرف ہوا بلکہ ہمسایہ ممالک سے تعلقات بھی خراب ہوئے۔ اسلامی ممالک میں سنی شیعہ گہری تفریق کے سبب دشمن یہ سمجھ رہا تھا کہ شاید اس تفریق کی وجہ سے دوسرے اسلامی ممالک خوش ہوں گے لیکن اس کی یہ خوش فہمی عملاً ایک خواب ہی رہی کیونکہ سعودیہ سمیت بیشتر ممالک نے ایران کا ساتھ دیا۔

2۔ ہفتوں پہلے ہی مختلف تجزیہ کار اس ممکنہ حملے کا ذکر کر رہے تھے لیکن پہلے ہلے میں ایران کی تباہی بتاتی ہے کہ اس نے ان حملوں سے بچنے کا کوئی پیشگی اقدام نہیں کیا تھا۔ یہ کہنا تو مشکل ہے کہ اسے ان حملوں کی خبر ہی نہ ہو کیونکہ اگر ایک تجزیہ کار اور صحافی اس بات کو ہفتوں پہلے سمجھ گئے تھے تو کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ ایران کو خبر نہ ہوئی ہو۔

3۔ جنگ زیادہ لمبی نہیں چلے گی۔ ہمیشہ کی طرح کچھ میزائلوں کا تبادلہ ہو گا اور اس کے بعد کچھ ماہ کے لیے پھر خاموشی طاری ہو جائے گی۔ اسرائیل لمبی جنگ برداشت نہیں کر پائے گا کیونکہ اس نے فلسطین میں ایک محاذ پہلے ہی کھول رکھا ہے۔ زمینی فاصلہ زیادہ ہونے کی وجہ سے زمینی جنگ ممکن نہیں ہے۔ حملوں کے لیے اسرائیل کو اڑان بھر کر ایران تک آنا ہو گا لیکن جانے کے لیے ضرور کسی ہمسایہ ملک سے طیارے ری فیول کرنے ہوں گے۔ لہذا اگر جنگ طویل ہوئی ہمسایہ ممالک میں عوام اپنی پرو اسرائیل حکومتوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہو سکتے ہیں جو اسے کسی صورت منظور نہیں ہو گا۔

4۔ جنگ طویل ہونے کی صورت میں پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے کیونکہ ہمسایہ ممالک بھی متاثر ہوں گے اور وہ لمبے عرصے تک خود کو اس جنگ سے لاتعلق نہیں رکھ پائیں گے اور یوں انھیں نہ چاہتے ہوئے بھی ایران کا ساتھ دینا ہو گا۔ لہذا جنگ طویل ہوتی نظر نہیں آتی۔

5۔ قاسم سلیمانی مارا گیا، ایران میں ہی حماس کا لیڈر اسماعیل ہانیہ شہید ہوا بلکہ خود ایران کا اپنا صدر جان کی بازی ہار گیا۔ ہر موقع پر اعلان کیا گیا کہ انتقام لیا جائے گا لیکن ایسا کچھ نہ ہوا۔ جس سے نہ صرف ایران کے اندر بلکہ باہر بھی طرح طرح کی چہ میگوئیاں پیدا ہوئیں اور اس طرح کی کارروائیوں کو نورا کشتی کے تناظر میں دیکھا گیا لہذا اس بار ایران کو اپنی ساکھ بحال کرنے کے لیے عملاً جواب دینا ہو گا تاکہ پھیلتی ہوئی قیاس آرائیاں دم توڑ جائیں۔

5۔ مجھے نہیں لگتا کہ امریکہ اس جنگ میں عملاً کودے گا لیکن اگر وہ اس جنگ میں شامل ہوا تو خطے کے کچھ ممالک کا عملاً ایران کا ساتھ دینا ناگزیر ہو جائے گا۔ یہ صورت حال دنیا کو تیسری عالمی جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ اگر عالمی جنگ نہ بھی ہوئی تو بھی سپرپاور کا تاج امریکہ کے سر سے چین کے سر پر منتقل ہو جائے گا۔ لہذا امریکہ کا عملاً شامل ہونا ممکن نظر نہیں آ رہا۔

6۔ اسماعیل ہانیہ کی شہادت ہو یا موجودہ اسرائیلی حملوں میں ایران کی اعلیٰ فوج قیادت اور سینئر سائنسدانوں کی اموات، یہ سوال اپنی جگہ موجود رہے گا کہ آخر دشمن کو اتنی ایکوریٹ معلومات کون دیتا ہے کہ جن کی بنیاد پر دشمن متعلقہ بلڈنگ کے صرف اسی کمرے کو ہٹ کرتا ہے جہاں یہ لوگ موجود ہوتے ہیں؟ اس کا ایک ہی مطلب ہے کہ ان کی صفوں میں دشمن کے جاسوس اور غدار موجود ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایران نے انھیں تلاش کرنے کی کوشش کی؟ کیا اسماعیل ہانیہ کی شہادت اور قاسم سلیمانی اور خود ان کے اپنے صدر کی اموات کے ذمہ دار جاسوس گرفتار ہوئے؟ لہذا ایران کو اس طرف ضرور توجہ دینی ہو گی۔

7۔ اگر آج ایران ہمسایہ عرب کی تائید سے محروم ہے تو اس کا ذمہ دار بھی وہ خود ہی ہے۔ سقوط عراق کی راہ کس نے ہموار کی؟ شام میں نوے فیصد عوام بشار الاسد فیملی کے خلاف تھے۔ علویوں نے وہاں کے عوام پر ظلم و ستم کی ایسی ایسی داستانیں رقم کیں کہ انسانیت منہ چھپائے پھرتی ہے۔ لیکن ایران نے ہمیشہ عوام کی بجائے وہاں علویوں کی مدد کی۔ اپنی انھی پالیسیوں کی وجہ سے وہ ہمسایہ عرب ممالک کی تائید سے محروم ہے لہذا شکوے کی بجائے پالیسیاں بدلنے کی ضرورت ہے۔

8۔ جذباتی ہونے یا کسی بھی ملک کو عالم اسلام کا ٹھیکیدار بنانے یا سمجھنے سے احتراز کرتے ہوئے حقائق پر توجہ دیں۔ ملک مذہب کی بجائے اپنے مفادات دیکھتے ہیں۔ حال ہی میں آذربائیجان اور آرمینیا کی جنگ ہوئی۔ آذربائیجان ایک شیعہ ملک جبکہ آرمینیا ایک عیسائی ملک ہے لیکن ایران نے آرمینیا جبکہ ترکی نے آذربائیجان کا ساتھ دیا۔

9۔ انقلاب کے بعد ایران نے ہمیشہ پاکستان کو ایک حریف سمجھا۔ وہاں بی ایل اے کے باقاعدہ کیمپ موجود ہیں۔ ماضی قریب میں اس نے پاکستان پر بلاجواز حملہ بھی کیا۔ ان کی زمین سے بلوچستان میں شرپسندی کے لیے پاکستان دشمن تنظیموں اور انڈیا کی سہولت کاری ہوتی ہے جس کی تازہ ترین مثال کلبھوشن ہے۔ پاکستان نے سی پیک شروع کیا تو ایران نے انڈیا کے ساتھ مل کر چابہار شروع کر دیا۔ لیکن آج جب ایران پر کڑا وقت آیا تو انڈیا خاموش رہا لیکن پاکستان نے تمام تر اختلافات کے باوجود ببانگِ دہل ایران کا ساتھ دیا اور سلامتی کونسل میں ایسی تقریر کی کہ ایرانی مندوب نے باقاعدہ نام لے کر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ لہذا ایران کو بھی اب سمجھ جانا چاہیے اور پاکستان انڈیا تناظر میں اپنی پالیسی تبدیل کرنی چاہیے۔

Facebook Comments HS