زندہ رود از جاوید اقبال: علامہ اقبال سے ملنے کا اک بہانہ ہی تو ہے

علامہ اقبال ہماری تاریخ کی وہ بڑی شخصیت ہیں جن سے تعارف اب ہماری تہذیب، تمدن اور ماحول کا حصہ ہے۔ نا چاہ کر بھی ہم اقبال سے واقف رہتے ہیں۔ اس میں کیا شک ہے کہ اقبال کی شخصیت، فکر، شاعری، فلسفہ، سیاست اور کردار غیر معمولی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کا شمار ان چند شخصیات مین ہوتا ہے جن کو اپنی زندگی کے اولین دور میں ہی بین الاقوامی شہرت حاصل ہوئی۔ وہ مفکر پاکستان اور حکیم الامت کے القابات کے حامل ہیں۔
ان سے ایک تفصیلی ملاقات کی خواہش ایک مدت سے تھی مگر کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی۔ بھلا ہو صدیقِ مکرم کا کہ اس روز وہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی لکھی ہو کتاب ”زندہ رود“ میرے حوالے کر گئے۔ کہنے لگے کوشش کے باوجود مکمل نہیں کر سکا، دیکھو تمھیں کیسی لگتی ہے۔ میں نے پوچھا ہے کیا اس میں؟ کہنے لگے علامہ اقبال کی سوانح عمری ہے اور سوانح عمری ان کے بیٹے سے بہتر کون لکھ سکتا تھا۔
کتاب ہاتھ لگی تو امید بندھی کہ اب علامہ سے ملاقات کا اک بہانہ ملے گا، ان کی زندگی میں جھانک کر دیکھوں گا۔ ان سے ملاقات کی تڑپ اس روز سے بڑھ گئی تھی جس روز سے میں سیالکوٹ میں ڈاکٹر عمر جاوید اور برخوردار فیضان سلیم کی سنگت میں ان کا گھر دیکھ آیا تھا۔ حسن دین حلوہ پوری والے کی دکان پر بیٹھ کر سوچتا رہا کہ علامہ کبھی اس گلی میں گھومتے ہوں گے، یہ خاک ان کے قدم چومتی ہوگی۔
”زندہ رود“ کے پہلے حصے میں مصنف علامہ کی درست تاریخ پیدائش اور خاندانی پس منظر ڈھونڈنے میں کھویا رہا، یہ حصہ اس ایک خاص ذوق کا متقاضی ہے، اسی حصے سے چڑ کر صدیق ِ مکرم کتاب چھوڑ گئے۔ بندے کا شوق ملاقات چونکہ گہرا تھا اس لیے وہ تو جما رہا۔ بالآخر صبر کا انعام پایا اور کتاب دلچسپ مرحلوں میں داخل ہو گئی۔
بچپن سے لڑکپن میں داخل ہوتے علامہ سے ملاقات اچھی رہی مگر جوانی، لاہور، گورنمنٹ کالج کا پڑھنا اور پڑھانا بہت اچھا لگا۔ شاعری میں علامہ کا داغ دہلوی جیسے نابغہ روزگار شاعر سے اصلاح لینا بھی ان کی عظمت کے عین مطابق تھا۔ علامہ کا سفرِ یورپ پڑھنے کی چیز ہے، میں جو ان کے ساتھ رہا تو بہت کچھ پایا۔ وہاں ان کا قیام بہت کچھ لیے ہوئے ہے مگر عطیہ فیضی سے ان کی ملاقاتیں اور ان کی تفصیل بہت سے افسانوں کی حقیقت بیان کر دیتی ہے۔ لگتا ہے کہ علامہ نے اپنے برطانیہ اور جرمنی کے قیام میں بہت کچھ پایا، اپنی فکر کو مقصدیت اور پختگی عطا کی۔
وہ واپس لوٹ کر آئے تو فکر معاش اور خانگی مسائل ان کے منتظر تھے۔ علامہ ان سے کیسے نبردآزما ہوئے اس کا فیصلہ تو مورخ کر رہا ہے، مگر میں نے سیکھا کہ بڑے آدمیوں کے معاملے بھی ہم عام انسانوں جیسے ہی ہوتے ہیں، اور وہ ان معاملات میں ہم جیسے ہی بے بس بھی ہوتے ہیں۔ وہ معاشی جدوجہد جو علامہ کو اولین دور سے لاحق تھی وہ تادم آخر ان کے ساتھ گئی۔ علامہ کی دوسری اور تیسری شادی کی روداد بھی کم دلچسپ نہیں ہے۔
علامہ کی فکر اور فلسفہ تو دراصل ان کی شاعری میں بیان ہوا ہے مگر ان کی نثر بھی غیر معمولی خیالات و اظہار لیے ہوئے ہے۔ اس کتاب کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ علامہ کی نثر کا ایک بڑا حصہ آپ کو یہیں پڑھنے اور سمجھنے کو مل جاتا ہے۔ علامہ کا فکری ارتقاء بھی کتاب میں تلاش کیا جاسکتا ہے۔ ان کی سیاسی جدوجہد، پنجاب کونسل کی ممبری کا انتخاب لڑنا اور پھر ممبر کے طور پر کام کرنا تفصیل کے ساتھ کتاب میں سامنے آتے ہیں۔
گول میز کانفرنسوں کا تذکرہ دلچسپی سے خالی نہیں مگر سفر افغانستان لاجواب ہے۔ علامہ اور ان کے معاصر سیاسی لوگوں کا تعلق سمجھنے کے لیے بھی اس کتاب کو پڑھنا چاہیے۔ علامہ اور قائداعظم کا تعلق بھی جس طرح اس کتاب میں سامنے آتا ہے وہ جاننے والوں کے لیے تحفہ ہے۔
پنڈت نہرو کی علامہ سے ملاقات، اور ملاقات کے لیے آتے ہوئے جس طرح مصنف کی کمر میں بانہیں ڈال کر اس کو ساتھ ملاقات کے کمرے میں لانا پنڈت جی کے بڑے پن کا پتہ دیتا ہے۔ مصنف نے اپنی دوسری کتاب ”اپنا گریباں چاک“ میں ذکر کیا ہے کہ ایک موقع پر پنڈت جی پاکستان سے ناراض ہونے کے باوجود اس کے علامہ کے برخوردار ہونے کی وجہ سے اس سے بڑی محبت سے ملے۔
علامہ کے آخری دنوں کا بیان اور پھر خالق حقیقی سے جا ملنا متاثر کیے بغیر نہیں رہتا۔ کتاب ختم ہوئی تو سوچتا رہا کہ اس سے بہتر علامہ سے ملاقات کا کوئی اور بہانہ نہیں مل سکتا تھا۔

