لندن کی اسنوٹ بس سے کوئٹہ کی جعفر ایکسپریس تلک
جنوری 1980 کی بات ہے دفتری مصروفیات کے سلسلے میرا کوئٹہ جانا ہوا۔ اس زمانے میں کوئٹہ کا اکلوتا معیاری رہائشی ہوٹل ”لورڈز ہوٹل“ HOTEL LOURDS تھا۔ ہمارا قیام اسی ہوٹل میں ہوا۔ لورڈز ہوٹل کی تاریخ گزشتہ نصف صدی سے زیادہ پر محیط ہے۔ یہ کوئٹہ کا ایک تاریخی ہوٹل ہے۔ یہ ہوٹل برطانوی دور میں تعمیر کیا گیا تھا اور آج بھی اپنی اصلی حالت میں موجود ہے۔ ہوٹل کا نام فرانس میں واقع ایک مشہور مذہبی مقام ”لورڈز“ کے نام پر رکھا گیا تھا۔
نام کے حوالے سے یہ بھی حکایت ہے کہ ابتدائی طور پر اس کی بنیاد ایک فرانسیسی خاندان نے رکھی تھی یا شاید یہ نام اس لیے رکھا گیا کہ برطانوی دور میں یہاں عیسائی مشنری یا افسران کا اثر و رسوخ تھا۔ کوئٹہ برطانوی دور میں ایک اہم فوجی چھاؤنی تھا۔ اس لیے ؑ لورڈز ہوٹل میں برطانوی افسر، سیاح اور مہم جو ٹھہرا کرتے تھے۔ 1935 میں کوئٹہ میں ایک بہت بڑا زلزلہ آیا تھا جس نے شہر کو تباہ اور برباد کر دیا تھا، ہزاروں لوگ مارے گے ؑ تھے لیکن کوئٹہ کنٹونمنٹ کا علاقہ شہر کے دیگر حصوں کے مقابلے میں کم تباہ ہوا تھا اسی لیے لورڈز ہوٹل کو نسبتاً کم نقصان پہنچا۔ یہ اس کی مضبوط تعمیر کی دلیل بھی ہے۔
قیام پاکستان کے بعد بھی یہ ہوٹل سرکاری افسران، صحافیوں سیاحوں، سیاستدانوں کے لیے ایک معروف جگہ رہا۔ ہوٹل کی عمارت میں برطانوی دور کی طرز تعمیر نظر آتی ہے۔ جیسے اونچی چھتیں، بڑے بڑے کمرے، وکٹورین فرنیچر وغیرہ۔
ستر کی دہائی کے آخر سے لے کر 80 کی دہائی کے ابتدائی سالوں تک یہ غیر ملکی سیاحوں کے لیے ایک مقبول مقام تھا جو اپنے وسیع باغ، گھنے درختوں اور کھلے ماحول کے لیے جانا جاتا تھا۔ میرا ابھی لورڈز ہوٹل میں قیام کا دوسرا ہی دن تھا کہ صبح سویرے ہوٹل کے وسیع سبزہ زار پر ایک سرخ رنگ کی ڈبل ڈیکر بس آ کر رکی بس میں غیر ملکی افراد سوار تھے۔ بس کی پیشانی پر جلی حروف میں اسنوٹ ”SNOT“ لکھا ہوا تھا اور بس کے دونوں جانب ٹاپ ڈیک ٹریولز درج تھا۔
فَوراً ہی گورے گوریاں بس سے اتر کر سبزہ زار میں پڑی کرسیوں پر براجمان ہو گے ؑ تھوڑی ہی دیر میں اس قسم کی دو اور بسیں وہاں پہنچ گئیں معلوم ہوا کے ستر کے عشرے کی ابتدا سے مغرب کے نوجوانوں میں ایک نیا رجحان ابھرا جسے ہم آج ہیپی ٹریل کے نام سے جانتے ہیں۔ یہ راستہ یورپ سے شروع ہو کر ترکی، ایران، افغانستان، پاکستان اور بھارت کے مختلف شہروں سے ہوتا ہوا نیپال تک جاتا تھا۔ اس راستے پر سفر کرنے والے نوجوان روحانی سکون، مہم جوئی یا مشرقی ثقافت کے تجربے کے خواہاں ہوتے تھے۔
ٹاپ ڈیک ٹریول یورپ کی ایک مشہور ٹور آپریٹر کمپنی تھی جو 1973 میں قائم ہوئی۔ یہ کمپنی خاص طور پر نوجوان مسافروں کے لیے ڈبل ڈیکر بسوں کو لمبے فاصلوں کے لیے استعمال کرتی تھی۔ یہ بس یورپ مشرق وسطی جنوبی ایشیا اور دیگر علاقوں میں ستر اور اسی کی دہائی کے اوائل تک سفر کرتی رہیں یہ بسیں ڈبل ڈیکر ہونے کی وجہ سے زیادہ مسافروں کو لے جا سکتی تھیں۔ اس طرح نوجوان مسافر ایک سستا اور دلچسپ سفر اختیار کر سکتے تھے۔
ٹاپ ڈیک کے بانی گراہم سکروٹرنر اور ان کی ٹیم نے 1970 کی دہائی کے وسط میں یورپ سے آگے لمبے زمینی سفر شروع کیے۔ جس میں لندن سے کھٹمنڈو تک کا سفر خاص طور پر معروف ہوا۔ کوئٹہ اس روٹ پر اہم پڑاؤ تھا جہاں یہ بسیں لورڈز ہوٹل پر رکتی تھیں۔ لورڈز ہوٹل سیاحوں کے نقطہ نگاہ سے ایک بجٹ فرینڈلی ہوٹل تھا یہ ہوٹل آج بھی اپنے سادہ مگر آرام دہ انتظامات کے لیے جانا جاتا ہے۔ جیسے مفت پارکنگ، ائر کنڈیشن کمرے، روم سروس لانڈری کی سہولت وغیرہ۔
یہ ہوٹل اپنے سادہ اور پرسکون ماحول کی وجہ سے ان مسافروں کے لیے مناسب جگہ تھا جو لمبے زمینی سفر کے دوران آرام کرنا چاہتے تھے۔ لہذا لورڈز ہوٹل کوئٹہ میں، ٹاپ ڈیک بسوں کے لیے ایک اہم اسٹاپ تھا جہاں مسافر کچھ دیر کے لیے رک کر آرام کر سکتے تھے اور اپنی اگلی منزل کے لیے تیار ہو سکتے تھے۔ کمپنی نے لندن ٹرانسپورٹ اتھارٹی سے تین پرانی ڈبل ڈیکر بسیں خریدیں ان کو طویل سفر کے لیے تیار کیا یہ بسیں برطانیہ میں تیار کردہ برسٹل لوڈیکا ماڈل کی تھیں۔
کمپنی نے تینوں بسوں کے مختلف نام رکھ دیے۔ نام تھے ”اسنوٹ“ ، ”گرنٹ“ GRUNT اور ”23 ریگس“ Rags 23۔ عام طور پر ”اسنوٹ“ ان تین بسوں کے قافلے کی قیادت کرتی تھی۔ تصویر میں اسنوٹ اور ایک دوسری بس درہ بولان میں، دریائے بولان کے کنارے کھڑی ہے اور سیاح بلا خوف و خطر سڑک پر پڑاؤ ڈالے دریا میں نہانے کا مزہ بھی لے رہے ہیں۔ 80 کی دہائی کے بعد اس خطہ میں بشمول افغانستان، ایران عراق میں ایسا کشت و خون برپا ہوا کے اس طرح کا سفر خواب و خیال بن کر رہ گیا۔ اسی درہ بولان میں، دریا بولان کے ساتھ ساتھ انگریزوں کے دور کی تعمیر کردہ ریلوے لائن بھی گزرتی ہے۔ یہ وہی ریلوے لائن ہے۔ جس پر کوئٹہ آنے جانے والی ریل گاڑیاں رواں دواں رہتی ہیں۔
اسی طرح مارچ 11، 2025 کے دن کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس معمول کے شیڈول پر کوئٹہ سے روانہ ہوئی۔ لیکن جب یہ ریل گاڑی درہ بولان میں پہنچی تو یہ سفر خوفناک ہنگامے میں تبدیل ہو گیا کہ اچانک ٹرین پر مسلح افراد نے حملہ کر دیا۔ لمحوں میں ٹرین یرغمال بن چکی تھی، اور دہشت نے مسافروں کو گھیر لیا۔ جعفر ایکسپریس کی بوگیوں میں اس وقت تقریباً 450 مسافر سوار تھے۔ حملہ آور۔ جو کہ بلوچ لبریشن آرمی سے تعلق رکھتے تھے۔
وہ جدید ہتھیاروں سے لیس تھے۔ انہوں نے نہ صرف ٹرین کو قبضے میں لیا بلکہ عورتوں اور بچوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔ کئی مسافر زخمی ہوئے، اور متعدد کو موقع پر ہی موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق، حملہ آور انتہائی منظم تھے۔ وہ نہ صرف پٹری کے دونوں طرف چھپے بیٹھے تھے بلکہ ریلوے لائن پر پہلے سے بچھائے گئے بموں کا خطرہ بھی موجود تھا۔ اس وقت کی دہشت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کچھ مسافر پہاڑی راستوں سے گھنٹوں پیدل چل کر قریبی بستیوں تک پہنچے اور جان بچائی۔
فوج، ایف سی، اور حساس ادارے فوری حرکت میں آئے۔ ملک بھر میں ہنگامی اجلاس بلائے گئے۔ ”آپریشن گرین بولان“ کے نام سے ایک جامع فوجی کارروائی شروع کی گئی، جس نے اگلے 48 گھنٹوں میں دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کر دیا۔ تمام 33 حملہ آور مارے گئے۔ 354 افراد کو زندہ بازیاب کرایا گیا۔ 25 سے زائد مسافر اور 4 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔ کئی افراد شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیے گئے۔ آپریشن کی قیادت فوج کے اسپیشل یونٹس نے کی۔ پہاڑی راستوں، گھاٹیوں اور ریلوے ٹنل میں لڑائی شدید اور خطرناک تھی، لیکن سیکیورٹی فورسز نے اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا اور دہشت گردوں کا قلع قمہ کر دیا۔ 27 مارچ کو جعفر ایکسپریس دوبارہ قومی پرچم کے ساتھ اسی راستے سے روانہ کی گئی۔
لندن سے کھٹمنڈو تک جانے والی ٹاپ ڈیک ٹریول کی سروس تو 80 کی دہائی کے آخر میں ختم کر دی گئی۔ ”اسنوٹ“ 1989 میں ناکارہ قرار دے کر اسکریپ کردی گئی۔ لیکن جعفر ایکسپریس تو ہمارے اپنے دیس کی ریل گاڑی ہے اور جعفر ایکسپریس نے کئی صدیوں تک چلنا ہے میرا یہ یقین مبالغہ پر مبنی نہیں ہے یہ ایک حقیقت ہے، ابھی 2020 میں کراچی سے پشاور تک چلنے والی ”خیبر میل“ نے اپنی صد سالہ سالگرہ منائی ہے ہماری ریلیں چلتی رہیں گی اور دشمنوں کی چالیں پٹری سے اتاری جاتی رہیں گی۔




