ثنا یوسف – والدین کی ایک غفلت
جب بھی کسی لڑکی کو جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے، تیزاب پھینکا جاتا ہے یا اسے قتل کیا جاتا ہے، تو ہمارا معاشرہ فوری طور پر ایک طرف مذمت کرتا ہے اور دوسری طرف لڑکی کے کردار، اس کے لباس، یا اس کے سوشل میڈیا استعمال کو مورد الزام ٹھہرانے میں مصروف ہو جاتا ہے۔ مگر بہت کم لوگ یہ سوچتے ہیں کہ ان واقعات کے پیچھے جو سوچ کارفرما ہے، وہ ایک گہری سماجی بیماری کی علامت ہے، ایک ایسی سوچ جس میں عورت کا انکار برداشت نہیں کیا جاتا، اور جس میں مرد کی انا عورت کی جان سے بھی زیادہ قیمتی ہو جاتی ہے۔
اسلام آباد کی 17 سالہ سوشل میڈیا انفلوئنسر ثناء یوسف کا قتل اسی بیمار ذہنیت کا نتیجہ ہے۔ ثناء کو صرف اس لیے گولی مار کر قتل کر دیا کہ وہ اس کی دوستی کی خواہش کو قبول کرنے پر آمادہ نہ تھی۔ یہ واقعہ نہ صرف ایک نوجوان لڑکی کی زندگی کا اختتام ہے، بلکہ والدین، ریاست، معاشرے اور قانون سب کے لیے ایک سوالیہ نشان بھی ہے۔
ملزم عمر حیات عرف ”کاکا“ ، جو کہ صرف میٹرک تک تعلیم یافتہ تھا اور سوشل میڈیا پر پیسے کمانے کی کوشش کر رہا تھا، بار بار ثناء سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ بارہا انکار سننے کے باوجود وہ باز نہ آیا اور بالآخر ایک دن وہ اس کے گھر میں داخل ہوا اور اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ یہ قتل محض جذباتی ردعمل نہیں تھا، بلکہ ایک بیمار ذہنیت کی منطقی انتہا تھی، جو لڑکی کے انکار کو نہ صرف توہین بلکہ اپنے ”مردانہ وقار“ کے لیے خطرہ سمجھتی ہے۔
یہ وہی سوچ ہے جس میں لڑکی کو ”ملکیت“ سمجھا جاتا ہے۔ جیسے وہ کسی کی عزت ہے، غیرت ہے، یا کسی کا حق، لیکن وہ انسان نہیں، جس کے بھی جذبات، فیصلے، اور خودمختاری ہو۔ جب لڑکی انکار کرتی ہے تو یہ انکار ایک مجرم کے دماغ میں انتقام کا بٹن دبا دیتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اگر وہ اسے حاصل نہیں کر سکتا، تو وہ کسی اور کی بھی نہیں ہو سکتی۔ یہ وہی سوچ ہے جس کے تحت لڑکیوں کو شادی سے انکار پر قتل کر دیا جاتا ہے، یا تیزاب سے جھلسا دیا جاتا ہے۔
لیکن کیا ہم صرف قاتل کو ہی مجرم کہیں گے؟ کیا اس جرم میں ثناء یوسف کے والدین کی بے اعتنائی یا سادہ لوحی کا کوئی دخل نہیں؟ سوشل میڈیا پر ایک کم عمر لڑکی کو آزادی دینا اس کا حق تھا یا نہیں، اس کا فیصلہ ہر بندہ خود کر سکتا ہے، مگر کیا والدین نے اسے اس معاشرتی جنون کے متعلق، ممکنہ خطرات کے بارے میں، اور خود کو کیسے محفوظ رکھنا ہے، یہ سکھایا؟ کیا وہ اس کی آن لائن سرگرمیوں سے باخبر تھے؟ کیا انہوں نے کبھی اس سے پوچھا کہ اس کے آس پاس کے لوگ اس کے ساتھ کیسا برتاؤ رکھتے ہیں؟ یا یہ سب کچھ ”نوجوانی کی باتیں“ سمجھ کر نظرانداز کر دیا گیا؟
یہی وہ خلا ہے جو اکثر حادثے کی شکل اختیار کرتا ہے۔ جب والدین اپنی بیٹیوں کو اعتماد دیتے ہیں، تو ساتھ ہی انہیں اس اعتماد کے ساتھ جینے کا سلیقہ اور خطرات سے نمٹنے کا شعور بھی دینا ہوتا ہے۔ دوسری طرف، والدین بیٹوں کی تربیت میں بھی یہ بھول جاتے ہیں کہ انہیں عورت کے انکار کو برداشت کرنا سکھانا ہے، نہ کہ اسے انا کا مسئلہ بنانا۔
ہم اس واقعے کو اگر محض ”ایک پاگل عاشق کی حرکت“ کہہ کر بھول جائیں گے، تو کل پھر کوئی اور ثناء، کوئی اور نرگس، کوئی اور عاصمہ بیٹی قتل ہوگی۔ ہمارے ملک میں تو معاملہ یہاں تک جا پہنچا ہے کہ ایک لڑکی اگر سوشل میڈیا پر متحرک ہے، یا کسی پروفیشن میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے، تو اسے ”دعوت“ دینے والی سمجھا جاتا ہے۔ لوگ کھلے عام یہ تبصرے کرتے ہیں کہ ”جب اپنی پرائیویسی سوشل میڈیا پر لے آئیں گی، تو ایسے حادثے ہوں گے۔“ یعنی معاشرتی ذہنیت مظلوم کو ہی مورد الزام ٹھہراتی ہے، اور قاتل کو جواز عطا کرتی ہے۔
پدر سری نظام معاشرہ میں چونکہ عورت کو ملکیت سمجھا جاتا ہے، اس لیے اس کے تحفظ کے مسائل نہایت پیچیدہ اور سنگین ہو چکے ہیں۔ جب عورت کی حیثیت ایک انسان کی بجائے کسی کی جاگیر، کسی کی عزت، کسی کی غیرت، یا کسی کی ملکیت بن جائے، تو اس کی اپنی مرضی، خواہش، پسند و ناپسند اور انکار سب غیر معتبر ہو جاتے ہیں۔ پھر عورت اگر کچھ چن لے، یا کسی چیز کو رد کر دے، تو یہ معاشرہ اسے ناقابلِ معافی جرم سمجھتا ہے۔
شدید اخلاقی تنزل کا شکار ہمارے جیسے معاشروں میں تو یہ صورتحال اور بھی زیادہ ہولناک ہو جاتی ہے۔ عورت محض استعمال کی ایک شے ہے ؛ اس کے جذبات، رائے اور ارادے بے معنی ٹھہرتے ہیں۔ جنسی بھوک میں مبتلا افراد جب اپنی خواہش کو جائز یا نا جائز کے پیمانے کے بغیر تسلیم کر لیں، تو عورت کے جسم کا استحصال ہی نہیں، اس کی جان تک خطرے میں آ جاتی ہے۔ گھر، گلی، اسکول، دفتر، حتیٰ کہ قبر بھی عورت کے لیے محفوظ نہیں رہتی۔
جبکہ اسلام عورت کو مکمل عزت، تحفظ اور اختیار دیتا ہے۔ ایک مکمل ضابطہ حیات کے طور پر اسلام عورت کی انفرادی شناخت، اس کی رائے، اور اس کے انکار کو نہ صرف تسلیم کرتا ہے بلکہ اس کا احترام بھی سکھاتا ہے۔ عورت کو فیصلے کا حق، تعلیم کا حق، کام کرنے کا حق اور تحفظ کا حق دیا گیا ہے۔ کسی بھی صورت میں زبردستی، جبر یا تشدد کی اجازت نہیں دی گئی۔ اسلامی معاشرے میں عورت کو ماں، بیٹی، بہن اور بیوی کے روپ میں عزت دی جاتی ہے اور اس کی مرضی کو اہمیت دی جاتی ہے۔ اگر آج کا مسلمان معاشرہ عورت کی انکار کو جرم بنا چکا ہے، تو یہ دراصل اسلامی تعلیمات سے انحراف کا نتیجہ ہے، نہ کہ ان تعلیمات کا عکس۔
افسوس ناک امر یہ ہے کہ ثناء کے قتل پر بھی کچھ لوگ سوشل میڈیا پر یہی لکھتے نظر آئے کہ ”جب کوئی لڑکی اپنی نجی زندگی سوشل میڈیا پر لے آئے گی، تو ایسے حادثات ہوں گے۔“ یعنی مقتولہ کو ہی موردِ الزام ٹھہرانا، اور قاتل کے عمل کی جڑ میں عورت کا لباس، چال، یا آزادی تلاش کرنا، یہی سوچ درحقیقت عورت کی خودمختاری کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے۔ ایک عورت کی مرضی یا انکار کسی مرد کے لیے ”ناقابلِ برداشت“ کیوں ہو جاتا ہے؟
اعداد و شمار اس المیے کی شدت کو مزید واضح کرتے ہیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق صرف گزشتہ سال 392 خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا۔ ان میں 168 پنجاب، 151 سندھ، 52 خیبر پختونخوا، 19 بلوچستان اور 2 اسلام آباد سے تھیں۔ اور ان میں وہ کیسز شامل نہیں جنہیں رپورٹ ہی نہیں کیا گیا۔
یہ سب کچھ کب تک؟ یہ سوال ریاست سے بھی ہے، اداروں سے بھی، اور ہر اس فرد سے بھی جو خاموش تماشائی بنا رہتا ہے۔ کیا صرف قاتل کو گرفتار کر کے ہم یہ سمجھ لیتے ہیں کہ انصاف ہو گیا؟ کیا ہم اپنے قانونی نظام، تعلیمی نصاب، اور خاندانی تربیت کو کبھی درست سمت دیں گے؟ یہ جرم اس وقت رکے گا جب ہم انکار کی اہمیت کو تسلیم کریں گے، جب ہم مرد کی مرضی کو واحد حق سمجھنا بند کریں گے، جب ہم عورت کو اس کی مرضی، اس کی آواز، اور اس کی آزادی سمیت ایک انسان تسلیم کریں گے۔
ورنہ ثناء یوسف آخری نہیں ہو گی۔ اس کے بعد بھی کوئی لڑکی کسی کی انا کی بھینٹ چڑھے گی، کوئی باپ ایک بیٹی دفنائے گا، اور ہمارا معاشرہ ایک اور موت پر صرف ”مذمت“ لکھ کر اگلی خبر کی طرف بڑھ جائے گا۔

