یکساں نصابِ تعلیم اور تعلیمی بہتری


”ایک خواب کہ جو گاؤں کے مدرسے میں ٹھاٹ پر دو زانو بیٹھے عبداللہ اور بیکن ہاؤس میں ائرکنڈیشنڈ کلاس روم میں رو بہ لیپ ٹاپ ڈیسک پر بیٹھے روہان کا ایک جیسا نصاب و کتاب پڑھانے سے متعلق تو ہے مگر چند وجوہ کی بناء پر وا ہونے سے تادم تحریر قاصر ہے“ ۔ یعنی یکساں نصاب تعلیم۔

علم و تعلیم ایک کل معاشرتی عمل ہے اور کسی بھی معاشرے کا کوئی بھی فرد اس کے حصول کا کامل طور پر یکسانیت پر مبنی تعلیمی حق کا استحقاق محفوظ رکھتا ہے۔ اسی نقطہ نظر کے پیش نظر 2022 میں حکمراں جماعت کی جانب سے پاکستانی معاشرے میں دنیائے غیر کی طرز پر یکساں نصاب کو ”ٹیسٹ ایڈیشن“ کے نام سے رائج کیا گیا۔ مقصد اس کا دراصل یہ تھا کہ پاکستان میں پڑھنے اور پڑھانے والوں تمام کے تمام داخل طلبہ و اساتذہ ہر دو کے لئے بغیر قصر و تکثیر کے اور فرق و تفریق کے ایک ہی نصاب و کتاب پڑھایا جائے تاکہ کسی مدرسے میں پڑھنے والا طالبعلم کسی ”فائیو سٹار“ جیسے سکول میں پڑھنے والے طالبعلم سے تعلیمی مدارج میں تفاوت کے حوالے سے پیچھے نہ رہ جائے۔ یہ ایک بہترین اور باثمر مقاصد کا حامل اقدام تھا کہ جس نے ہر طبقہ فکر کو اسے سراہنے پر مجبور کر دیا۔ البتہ، بقول چیئرمین بلوچستان ٹیکسٹ بورڈ جناب گلاب خلجی صاحب کے ؛ اگرچہ یہ ایک قابل تحسین اقدام ثابت ہونا تھا مگر کچھ ہی عرصہ میں یہ ایک دیوانے کے ”نعرہ مستانہ“ سے آگے کچھ ثابت نہ ہوا۔

یہ بحث البتہ غور طلب ہے کہ پاکستان کے تمام سرکاری سکولوں، پرائیویٹ تعلیمی اداروں اور مدارس کے طلبہ کو ایک ہی نصاب پڑھانے کا خواب دیوانے کے نعرہ مستانہ میں کیونکر تبدیل ہوا اور وہ کون سے عناصر تھے جنہوں نے اس خواب کی تکمیل میں روڑے ڈالے۔

الخیر، اثبات کا دامن پکڑے رکھتے ہوئے ہم تعلیمی بہتری میں اس کے کردار پر روشنی ڈالیں گے۔

دراصل وہی معاشرے کہ جہاں پر تعلیم اجتماعی ہو، تعلیم کے مقاصد کی طرف سفر یکساں ہو، تعلیم سے جڑے افراد کے لئے وسائل ایک سے ہوں اور جہاں پڑھائے جانے والا نصاب و کتاب یکساں ہو۔ پاکستان میں اگرچہ ٹیسٹ ایڈیشن کی حد تک اس کا نفاذ پرائمری سطح تک ہو چکا ہے مگر اب بھی کامل طور پر اس کا اطلاق تمام مدارج پر ہونا باقی ہے۔ جہاں تک پرائمری سطح تک اس کے نفاذ کا تعلق ہے تو زیادہ نہ سہی مگر کم سطح پر اس کا اطلاق بین الصوبائی سطح پر بہترین طریقے سے کیا گیا ہے۔ پہلے جہاں چھوٹے صوبوں کے باسی بڑے صوبوں سے شاکی نظر آتے تھے اب کافی حد تک ان کی تسلی ہو چکی ہے۔ پہلے جہاں ایک ہی شہر میں مختلف ملکی و غیر ملکی پبلشرز کی کتابیں پڑھائی جاتی تھیں اب ان کا رجحان قطعی طور پر تو نہیں مگر کافی حد تک کم ضرور ہوا ہے کہ اب سرکاری سکولوں میں پڑھایا جانے والا نصاب و کتاب کافی حد تک چھوٹے درجے کے پرائیویٹ تعلیمی اداروں ہی جیسا ہے، مدارس البتہ ہمسفر ہونے سے کافی دور دکھائی دیتے ہیں۔ یکساں نصاب تعلیم تعلیمی بہتری کی کلید گردانی جاتی ہے کہ اس سے ہوکے کوئی کمتر یا کوئی برتر کا لقب پائے سے رہ جاتا ہے۔ یہی وہ ذریعہ ہے کہ جس سے اعلی و ادنیٰ تعلیمی نہج کا خاتمہ ہوتا ہے۔ یہی وہ طریقہ ہے جسے برابری کا معیار قائم کرنے والا عنصر خاص تصور کیا جاتا ہے۔ ان سب سے بڑھ کر اسے تعلیمی بہتری کا ضامن بھی قرار دیا جاتا ہے مگر کب؟

اس کب کا جواب درج ذیل باتوں میں پنہاں ہے ؛

جب اس کا اطلاق پرائمری درجے سے بڑھا کر اعلیٰ درجوں تک پر کیا جائے اور ملک کے تمام اداروں کے تمام مدارج میں اسے یکساں طور پر رائج کیا جائے۔

جب تمام تین سطحوں بشمول سرکاری اداروں، پرائیویٹ اداروں اور مدارس میں یکساں طور پر اس کا اطلاق لازمی کیا جائے۔

جب قومی سطح پر حکومتی سربراہی میں اسے پابندی سے لاگو کیا جائے۔

جب تمام اسٹیک ہولڈرز کو اسے قبول کرنے اور ان کی طرف سے پیش کیے جانے والے خدشات کا سدباب کیا جائے اور انہیں اعتماد میں لے کر ان کے مسائل کو فوراً سے پہلے حل کیا جائے۔

جب ٹیسٹ ایڈیشن کا ملکی سطح پر جائزہ لے کر اس میں مزید اصلاحات لائی جائیں۔

جب اس کریکولم ماڈل کو اپنانے کے لئے تمام درکار اشیاء بشمول پالیسی فریم ورک سے لے کر ٹیچرز ٹریننگ کے انعقاد تک کا بندوبست کیا جائے۔

یہ اور ان جیسے بیسیوں نکات کو مد نظر رکھ کر اور ان کو ہم پلہ بنا کے نہ صرف یکساں نصاب تعلیم کے خواب کو تکمیل کا جامہ پہنایا جاسکتا ہے بلکہ اس سے تعلیم کے اجتماعی مقاصد کو بھی با آسانی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ لیکن ایسا کرنے کے لئے کافی مراحل سے ہوکے گزرنا ہے اور ان مراحل کو عبور کرنے کے لئے دور اندیش پالیسی بنانے سے لے کر اس پر صرف ہونے والے اخراجات اور تمام اداروں کے سربراہان سمیت اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے کی ضرورت البتہ ضرور ہے۔

Facebook Comments HS